متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ

السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

نئی تھیم؛ سادگی اور پُرکاری

8 تبصرہ (جات)۔ Saturday, July 3, 2010
لیجئے جناب! پورے دن کی محنت کے بعد آج میں نے اپنے بلاگ کو نئے اور سادہ سے ٹیمپلیٹ میں ’بے رنگ‘ دیا ہے۔
میرے بلاگ کی گذشتہ تھیم بھی رنگوں سے عاری تو تھی لیکن اس میں کافی ’ششکے‘  وغیرہ تھے، اس لئے وہ بعض اوقات لوڈ ہونے میں وقت لیتی تھی۔ ویسے اس دیری میں زیادہ ہاتھ میرے ہاسٹل کے انٹرنیٹ کنکشن کی رینگتی ہوئی رفتار کا ہے، جو کہ کثرتِ ڈاؤنلوڈنگ اور  تقریباً سات آٹھ کمپیوٹروں پر چلتی ہما وقت ’ٹورنٹات‘ کے باعث کچھوے کا مقابلہ کرنے سے بھی قاصر ہے۔
"ہمیشہ" کی طرح یہ نئی تھیم بھی میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے، یعنی کہ بنے بنائے ریڈی میڈ ٹیمپلیٹ کو اردو کیا ہے۔ اور اس کو اپنے بلاگ کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ کافی عرصے سے میری یہی کوشش تھی کہ کوئی بالکل سادہ سی صاف ستھری تھیم اپنا لوں۔۔۔۔بلاگ کیلئے!
اس ٹیمپلیٹ میں میں نے تبصروں کیلئے  اردو ایڈیٹر بھی چپکا دیا ہے اور خوشی کی بات یہ کہ وہ صد فیصد کام بھی کر رہا ہے۔ اس بلاگ کی خاص یا پھر عام بات یہ ہے کہ اس میں ڈبے ہی ڈبے ہیں۔۔۔اسی لئے اس کا نام "سادہ ڈبہ ٹیمپلیٹ" ہے۔ آج یا کل میں یہ تھیم اپلوڈ کر کے فلاحِ عامہ کیلئے پیش کر دوں گا۔ اور ربط بھی یہاں پوسٹ کر دوں گا۔ اس کے علاوہ اردو محفل میں بھی لگا دوں گا۔ بے فکر رہئے!
ویسے مجھے تو یہ تھیم فی الحال پسند ہے، آپ لوگوں سے بھی فیڈ بیک کی درخواست ہے، اور اگر کسی کو اس میں کائی "کیڑا" یا بگ نظر آئے تو برائے مہربانی اس کو نکالنے کے ساتھ ساتھ کوئی "کیڑا مار" نسخہ بھی بتانا مت بھولئے گا۔۔۔!!۔
Read On

دو مزید بلاگسپاٹ ٹیمپلیٹس

8 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, June 29, 2010
آج پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، دو مزید نئی نکور بلاگسپاٹ اردو ٹیمپلیٹس کے ساتھ۔  امید ہے یہ بھی پسند آئیں گی۔

1۔ ونٹیج پیپر اردو (VintagePaper-Urdu)

ڈاؤنلوڈ روابط:
اردو ویب سے ڈاؤنلوڈ کریں
متبادل ربط

2۔ کافی ڈیسک۔ اردو (Coffee-Desk-Urdu)
یہ ٹیمپلیٹ پاکستانی کی فرمائش پر اردو کی ہے۔ امید ہے انہیں اور باقی سبکو پسند آئے گی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی ہے۔



ڈاؤنلوڈ روابط:
اردو ویب سے اتاریں۔
متبادل لنک

مزے کریں!!۔
Read On

بلاگسپاٹ کے دو نئے نکور اردو ٹیمپلیٹس

19 تبصرہ (جات)۔ Monday, June 28, 2010
لو جی محترم، بھائی جان، قدر دان، میزبان، آلو والا نان، پاندان وغیرہ وغیرہ!
آج میں اپنے تمام اردو بلاگر ساتھیوں کیلئے انتہائی حقیر، پر تخسیر، دلگیر۔ راہگیر، گاجر کی کھیر جیسا تحفہ لیکر آیا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ پسند آئے گا۔ لمبی چوڑی بات کرکے آپ کا اور اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کروں گا۔ :)
اردو بلاگستان کی بڑھتی ہوئی رونقوں کو دیکھتے ہوئے میں نے دو انگریزی تھیموں کو اردو میں کیا ہے۔ یہ تھیمیں بلاگر ڈاٹ کام یا بلاگسپاٹ ڈاٹ کام کیلئے ہیں۔ ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ میں نے کوشش کرکے بنائی ہیں، اور چونکہ میں کوئی پروگرامر نہیں ہوں اور نہ ہی ان ایچ ٹی ایم ایل یا ایکس ایم ایل وغیرہ سے کوئی تعلق رکھتا ہوں، اس لئے جو مل جائے صبر شکر کریں۔ اس تمام کاوش میں جہانزیب(اردو جہان والے) صاحب کا تشکیل کردہ اردو کتابچہ کام آیا۔ جو اتنا آسان اور عمدہ ہے کہ میں نے بھی سمجھ لیا۔ اس میں اردو تبصرہ وغیرہ کرنے کیلئے اردو ایڈیٹر موجود نہیں ہے، جو کہ یہاں (اردو محفل) سے دیکھا جا سکتا ہے۔ نبیل بھائی نے کئی ایک ٹیمپلیٹس مہیا کئے ہوئے ہیں ان کا ربط یہ رہا۔ اگر مجھے وقت ملا اور دل بھی کر گیا تو میں بھی ہمت کرکے ان تھیمز میں لگانے کی کوشش کروں گا۔

پہلی  تھیم کا نام ہے موزائکو (Mosaico).


تصویر میں یہ اتنی اچھی نہیں لگ رہی، ویسے زیادہ اچھی ہے۔ :)
یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔

دوسری تھیم کا نام ہے آؤٹونو (Outono), یا آپ کچھ اور بھی پکار سکتے ہیں۔
اس کی سکرین شاٹ یہ رہی:

اس تھیم میں ایک چھوٹی سی غلطی رہ گئی ہے (میری دانست میں) ۔ وہ میں جلد  ٹھیک کرکے دوبارہ اپڈیٹ کر دوں گا۔
یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔

انشا اللہ میں مزید تھیمز یا ٹیمپلیٹس کو اردو بھی ضرور کروں گا۔ لہو لگا کر شہیدوں میں نام کرنے کیلئے۔ :))۔
کسی بھی قسم کی پوچھ تاچھ کیلئے میں حاضر ہوں۔  اگر کوئی بلاگر کسی تھیم کی اردو فرمائش کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، کوئی پابندی نہیں ہے۔ اینٹرٹین کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ت میں ہی کروں گا۔  :پ
شکریہ
Read On

ڈائری سے انتخاب -1

9 تبصرہ (جات)۔ Saturday, June 26, 2010
وقت ایک ایسا درخت ہے جس کی ہر شاخ پر نئے رنگ کا پھول کھلتا ہے اور جسکے ہر پھل کا ذائقہ دوسرے سے جدا ہے۔اس کا اندازہ مختلف ادراو میں لکھی گئی مختلف ڈائریوں کو پڑھ کر ہوتا ہے، اور بندہ سوچتا ہے کہ کیا یہ اس کی ہی سوچ تھی۔۔۔!
پہلی ڈائری میں 2001ع میں لکھے گئے اشعار سے انتخاب:
آغاز میں علامہ اقبالؒ کے نعتیہ اشعار۔۔۔۔
وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طہٰ
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
شروع میں میرا شاعری پڑھنے کا واحد ذریعہ گھر میں آنے والے ڈائجسٹ اور رسالے ہوا کرتے تھے۔
پتا نہیں کونسے رسالے سے لکھے تھے یہ والے انقلابی اشعار:
کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم
مانا کہ اس جہاں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار تو کم کر گئے گزرے جہاں سے ہم
ساحر لدھیانوی
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
بھوک چہروں پہ لئے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے، بچے
ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
بیدل حیدری
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
تسلیم کے رات اندھیری ہے
آلام کی گھمن گھیری ہے
تیرا تن زخموں سے چور بہت
تیرا دل غم سے رنجور بہت
میرا تن ، من، دھن تجھ پر قربان
اے کعبہ دل، اے معبدِ جان
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جس دھول کی مٹی سے ہوا قافلہ اندھا
خود قافلہ سالار کی ٹھوکر سے اُڑی ہے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا
میری اذان سے جوشِ بلال مت چھینو
ابھی کتاب نہ چھینو تم ان ہاتھوں سے
ہمارے بچوں کا حسن و جمال مت چھینو
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اور میری بہت پسندیدہ نظم ، غالباً ابنِ انشا کی ہے:
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ہر اک شے پہ مگر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلا لگا ہے اسی شان سے
جو چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں
جو چاہوں تو سارا جہاں مول لوں
نارسائی کا جی میں اب دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا الہڑ سا لڑکا کہاں
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
چند مزید اشعار:
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے یاتھ بھیگ کر سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر کے بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
نا معلوم
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
حیرت سے دیکھیں قبر کے تازہ اسیر کو
سارے سوال بھولے ہیں منکر نکیر کو
اپنی ہی خواہشات کا کرنے لگا طواف
کس کی نظر لگی ہے بشر کے خمیر کو
جان کاشمییری
:::::::::::::::::::::::::::::::::::
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم پر بھی انسان
بہت خوشی میں بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
امجد اسلام امجد
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اور آخر میں طارق عزیز شو میں بیت بازی کے دوران نوٹ کیے ہوئے دو اشعار:
نظر اٹھا کر کھلا آسمان دیکھتے ہیں
جو لوگ اڑ نہیں سکتے اڑان دیکھتے ہیں
:::::::::::::::::
کبھی رحمت تڑپتی ہے کہ کوئی آسرا مانگے
کبھی بے آسرا ہو کر دعائیں لوٹ آتی ہیں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: (باقی آئیندہ)
Read On

بڑا بول

15 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 25, 2010
آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ اس میں غلط کیا ہے اگر کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ میں اپنے زورِ بازو پر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میں کسی کی سفارش نہیں لگواؤں گا اور خود اپنے لئے راستہ بناؤں گا۔ مجھے ان وزیروں مشیروں کی سفارشیں نہیں چاہئیں۔
غلط۔۔۔۔۔؟ نا مجھے تم یہ بتاؤ کہ اس میں صحیح کیا ہے؟؟
یہ جو تم ڈگریوں کے بل پر بول رہے ہو نا یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ہمارے لئے۔ ایک سیٹی بجائیں تو ہزاروں ڈگریوں والے ناک گھستے پہنچ جائیں گے۔ یہ جو تم اونچا بولتے ہو ناں۔۔۔ سب نکل جائے گا باہر۔ ہواؤں میں اڑتا ہے آجکل۔۔۔۔ کہتا ہے خود جاب ڈھونڈوں گا۔ رُلتے پھرتے ہیں تمہارے جیسے سڑکوں پہ۔۔۔
پرسوں والی بات بھول گئے کیا؟ ۔۔۔۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی جاب تھی۔۔ صرف ملتان میں کوئی پندرہ سو آدمی امتحان دینے آئے تھے۔ باقی پنجاب کے ضلعوں کا حساب آپی لگا لو۔۔۔ صرف 11 بندے رکھنے ہیں گورنمنٹ نے۔۔۔ اوران میں سے بھی کئی تو امتحان سے پہلے ہی رکھے جا چکے ہیں۔ آخر سب وزیروں شزیروں کا دل کرتا ہے کہ ان کا کزن کُزن اس پو سٹ پہ لگے۔۔۔۔۔ باقی جو ان ہزاروں میں سے دو چار رکھنے ہیں، کیا وہ تمہارے جیسے ہوں گے۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ بات تو ایسے کرتے ہیں جیسے پتا نہیں کونسی پی ایچ ڈیاں کرتے پھرتے ہیں۔
شکر کرو کہ ہمارے تعلقات ہیں "اُچے " بندوں میں۔ وہ بھول گئے چاچے خالد کا بیٹا واپڈہ میں ہے جو، کب سے کوشش کر رہے تھے کہ لاہور ٹرانسفر ہو جائے، آخر بڑے شہروں یں "مواقع" ہوتے ہیں نا جی۔۔۔ سب چاہتے ہیں وہیں آ جائیں۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو آسان کام تھا لیکن اللہ پاک کی خصوصی مہربانی سے ایک دو دفعہ کہا اور ہو گیا۔ بس جی! جو بیٹھے بٹھائے مل جائے اس کی تو قدر ہی نہیں ہے نا انہیں۔ یہ جو چاچے رمضان کا بیٹا گیا تھا نا امتحان دینے، ہم نے دی تو ہے عرضی۔۔۔ بس جی اللہ ہی عزت رکھنے والا ہے۔
میرے بھائی تمہیں نہیں پتا یہاں سب ایسے ہی ہوتا ہے۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو ایسے ہی کرنا ہوگا جی۔ آ جاؤ گے تم بھی لائن پر۔
یہ جو تمہارا بھائی شور مچا رہا ہے نا کہ میں تمہارے وزیروں کی شفارش نہیں لگواؤں گا، میرے لئے نوکریاں بہت ہیں۔۔۔۔ یہ سب دو دن کی بات ہے۔ دیکھ لینا تمہاری نوکریاں بھی انشا اللہ ہم ہی لگوائیں گے۔ یہ جو تم لوگ وزیروں کو کوستے رہتے ہو ناں۔۔۔ تم پڑھ لکھ کر جو زیادہ " بڑا بول" سیکھ جاتے ہو نا۔۔۔ تم بھی ادھر ہی ہو اور ہم بھی ادھر ہی ہیں۔۔۔ دیکھتے ہیں خود لگتے ہو یا ہم لگواتے ہیں۔۔۔!

**بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا جج صاحب!
Read On

ڈائری لکھنا

7 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, June 16, 2010
 ڈائری لکھنے کا شوق تو مجھے صرف اس لئے پیدا ہوا تھا کہ بچپن میں  کئی کہانیوں میں  پڑھا تھا کہ ہیرو کو کہیں کسی خفیہ خانے یا دراز میں سے ایک عدد پاگل سائنسدان یا بوڑھے جادوگر یا اسی طرح کے کسی کردار کی ایک خفیہ ڈائری مل جاتی تھی اور اس میں نلکا ٹھیک کرنے سے لے کر آبِ حیات پانے تک سب کا راز  لکھا ہوتا تھا۔ سوچتا تھا کہ شاید اگر آپ ڈائری خرید لیں تو خود بخود ہی "راز کی باتیں" آپ پر آشکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور آپ بھی کوئی کیمیا گری کی کتابِ  لکھ ڈالتے گے۔ لہٰذا سب سے پہلی کنواری ڈائری جو میں نے پہلے صفحے پر  باقاعدہ اپنا نام لکھ کر شروع کی وہ بڑے بھائی کی خفیہ الماری سے چوری کی تھی۔ میرے بھائی کو کسی نے شاید تحفے میں دی تھی اور مجھے وہ بہت پسند تھی کیونکہ اس کے ورق روغنی تھے اور ان پر  زیریں حاشیوں میں کارٹون نما کیڑے مکوڑے بھی بنے ہوئے تھے (کراٹین(یہ میں نے ابھی ابھی کارٹون کی جمع نکالی ہے) مجھے اب بھی پسند ہیں) اور سب سے بڑھ کر اس میں  ایک عدد چھوٹی سی "تالی" بھی لگتی تھی جو کہ "پرائویسی" کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔  میرے بھائی کو اس ڈائری کے بارے میں اس وقت پتا چلا تھا جب مجھے کم از کم ایک سال ہو چکا تھا اس ڈائری کو کالا اور نیلا کرتے ہوئے!۔
میں نے ڈائری میں ہمیشہ شاعری ہی لکھی، کبھی کسی ڈائجسٹ سے دیکھ کر کبھی کسی میگزین سے دیکھ کر، کالج کے زمانہ میں لاہور کے فٹ پاتھوں سے کتابیں خرید کر بھی۔۔۔۔خود سے نثر کبھی نہ لکھ سکا، کئی دفعہ سوچا کہ لکھوں لیکن بے سود ہی رہا۔ پتا نہیں کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنے روز کے معمولات ڈائریوں میں قلمبند کرتے ہیں، میرے شب و روز میں تو کوئی بات، کوئی واقعہ، کوئی قصہ ہی نہیں ہوتا تھا، بس گزر  ہی جاتا تھا دن، اور تو کچھ نہیں ہوتا تھا!
ایک دو دفعہ لکھنے کیلیے بیٹھا اور شروع بھی کیا: "میں آج صبح ساڑھے سات بجے اٹھا، باتھ روم گیا۔۔۔۔۔۔ سب کچھ کر کرا کے سکول چلا گیا۔ آٹھ پیریڈ کلاس میں یٹھا رہا۔ مِسیں اور سَر ور (یہ سَر کی جمع ہے: سَ+رُور ) آتے جاتے رہے۔ بیچ میں آدھا گھنٹا بریک بھی ہوئی جس میں میں نے سموسہ کھایا اور بوتل پی۔ کینٹین والے چاچا جی نے دو روپے بقایا دئیے۔ تھوڑا سی اچھل کود کی۔ گھر واپس آ گیا۔"
اب مجھے بتائیں کہ اس میں لکھنے والی کیا بات ہے۔۔۔ میرے خیال میں سکول کے سب بچوں نے یہی کیا ہوگا۔ لہٰذا صفحہ پھاڑ دیا ۔
کبھی کبھار جو شاعری نوٹ کر لیا کرتا تھا وہ بھی کالج میں  آکر تھوڑی کم ہوئی اور پھر یونیورسٹی میں بالکل ہی رہ گئی۔ حال ہی میں ایک نئی نکور ڈائری "پھانڈے" میں ملی تو  پھر سے سوچاہم بھی اپنے دن رات کی روداد لکھتے ہیں کہ کیا پتا ایک وقت ایسا آئے کہ لوگ میری ڈائری کو کتابی صورت میں چھاپ دیں اور  پھر درسی کتابوں میں میری خود نوشت سے اقتباسات شامل ہوں۔۔۔واہ واہ واہ۔۔۔۔ بس اسی‘ ممکنہ  ضرورت’ کے پیشِ نظر میں نے کچھ عرصے تک اپنی "مستقبل کی تاریخ "خود تخلیق کی پر اب وہ بھی بلاگ کی طرح کبھی کبھار پہ ہی چلی گئی ہے۔  ۔۔ چلو باقی کا کام کسی "پروفیشنل" ادیب شدیب سے لکھوا لیں گے۔
یہ ساری بات تو میری اصل تحریر کا پیش لفظ یا تمہید تھی، جو ایک پیراگراف سے بڑھتے بڑھتے لمبی ہو گئی۔۔ اصل میں میں اپنی ڈائریوں سے انتخاب لکھنا چاہ رہا تھا۔ اب الگ پوسٹ میں چھاپوں گا۔
Read On

فلمستانی پوسٹ

9 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 11, 2010
اس تحریر کا بنیادی مقصد فلمستان پر میری پوسٹوں کو "ری پوسٹ" کرنا ہے۔ فلمستان محترم ابو شامل کا فلمی بلاگ ہے جس پر انہوں نے کئے بلاگر ساتھیوں کے ساتھ  فلموں پر تجزیوں اور تبصروں کا سلسلہ شروع کیا ہے,اور مجھے بھی لکھنے کی اجازت دی ہے۔  ایسے بلاگ بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں جن پر مخصوص موضوعات کا ہی احاطہ کیا جائے۔ خاص طور پر اردو بلاگنگ میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ موضوعاتی بلاگ کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔ اردو بلاگنگ میں فی الحال ذاتی بلاگ، یا مکس پلیٹ یا حالاتِ حاضرہ کے بلاگ زیادہ ہیں۔
فلمستان پہ اب تک میں دو تحاریر یعنی دو فلموں کا تجزیہ لکھ چکا ہوں۔ ذیل میں ان دونوں پوسٹوں کے اقتباسات اور اصل پوسٹ کا لنک موجود ہے:

نیک، بد اور بدصورت یعنی The Good, The Bad and The Ugly(اطالوی نام: Il buono, il brutto, il cattivo) ایک پرانی کلاسیک اطالوی اور مغربی اسپیگھٹی طرز کی فلم ہے۔ سن 1966ء  میں بننے والی فلم کے ہدایت کارSergio Leone اور ستاروں میں کلنٹ ایسٹ ووڈ(Clint Eastwood) ، لی وین کلف (Lee Van Cleef) اور ایلی والچ(Eli Wallach) شامل ہیں۔ یہ فلم تین فلموں پر مبنی “ڈالر سیریز” کی آخری فلم ہے۔ فلم کی کہانی تین بندوقچیوں کے گرد گھومتی ہے، جو چوری کے مال پر مشتمل ایک مدفون خزانے کی تلاش میں ایک دوسرے سے بازی لینے کے چکر میں رہتے ہیں۔
فلم امریکی خانہ جنگی کے زمانے میں لے جاتی ہے جہاں ایک اشتہاری چور اور قاتل (The Ugly, ایلی والچ) کو ایک بہترین نشانے باز (The Good, کلنٹ ایسٹ ووڈ) پکڑوا دیتا ہے اور اہلکاروں سے انعام کے 2000 ڈالر لے کر مجرم کی پھانسی کے وقت دور سے رسی پر نشانہ لگا کر اسے بھگا دیتا ہے۔ بعد میں وہ قصبے سے باہر مل کر انعامی رقم تقسیم کر لیتے ہیں اور یوں دونوں منفرد چور جوڑی بنا کر دوسرے قصبوں میں جا کر یہی کرتے ہیں جہاں ٹوکو یعنی مجرم کی انعامی رقم بڑھ چکی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

فلمستان پر مکمل پوسٹ پڑھیں ۔

ایک یادگار سیر (A Walk to Remember) سن 2002ء میں بنائی گئی ایک رومانوی فلم ہے۔ فلم اسی نام کے ایک ناول پر مبنی ہے جو کہ نکولس سپارکس(Nicholas Sparks) نے 1999 ء میں لکھا تھا۔ فلم کے ہدایتکار  آدم شینک مین(Adam Shankman) ہیں اور مرکزی کردار شَین ویسٹ (Shane West) اور  اد اکارہ و گلوکارہ مَینڈی مُور(Mandy Moore) نے ادا کئے ہیں۔  فلم کے مرکزی کردار  شمالی کیرولائنا کے ایک سکول کے طالبعلم ہیں۔  لینڈن کارٹر(Landon  Carterشین ویسٹ)  بری صحبت کا شکار  لیکن ایک لائق اور نمایاں طالبعلم ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنا اور دوسروں کو تنگ کرنا اس کا مشغلہ ہے۔۔۔۔

فلمستان پر مکمل پوسٹ کا مطالعہ کریں

امید ہے آپ کو یہ کوشش پسند آئے گی۔
Read On

صرف ایک خوراک جوان بنائے، "گھوڑے" کیطرح؟

9 تبصرہ (جات)۔ Friday, May 28, 2010
آپ نے اخباروں، رسالوں، کیبل کے چینلوں اور سڑکوں کے دائیں بائیں دیواروں پر اکثر اشتہار دیکھے ہوں گے جن میں قبلہ حکیم بڑے صاحب یا مولوی صاحب ڈلےّ والے یا ’مشہورِ زنانہ‘ عامل ناگی کالیا بنگالی وغیرہ ، اعصابی کمزوری یا مردانہ امراضِ خصوصی کے"تسلی بخش علاج" کی یقین دہانی اس جملے سے کراتے ہیں کہ ہماری فلاں دوا یا معجون یا طلا استعمال کرنے سے "مرد بالکل گھوڑے کیطرح جوان ہو جائے گا"۔۔۔۔۔۔ تو صاحبو! اگر خدانخواستہ کبھی کسی کو اس طرح کا کوئی معجون کھانا پڑ جائے تو استعمال سے پہلے قبلہ بہت بڑے حکیم صاحب سے یہ ضرور پوچھ لیجئے گا کہ یہ " گھوڑے" سے ان کی مراد کون سا گھوڑا ہے۔۔۔۔ خشکی والا یا سمندری!
یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ مردانہ کمیونٹی کیلئے بہت اہم ہے اور Worth asking ہے۔ اسکی وجہ سمندری گھوڑے کے بارے میں درج ذیل معلومات ہیں، جو کہ دلچسپ بھی ہیں اور عجیب بھی۔
ہوا کچھ یوں کہ کل ایک فلم میں سمندری گھوڑے کا حوالہ دیا گیا تو میں نے فوراً Sea Horse لکھ کر گوگل کیا۔ زیادہ تر معلومات وکیپیڈیا سے ہی پڑھی ہیں، اس کے علاوہ نیشنل جیوگرافک کی سائٹ بھی وزٹ کی تھی۔ سمندری گھوڑا جسے انگریزی میں Sea Horse کہتے ہیں دنیا میں پایا جانے والا واحد جانور ہے جس میں نر بچے پیدا کرتا ہے۔
سمندری گھوڑا (لاہور چڑیا گھر میں جو بڑا سا، بھدا سا جانور ہے وہ دریائی گھوڑا ہے، اس کے بارے میں یہاں دیکھیں) دراصل مچھلی کی ایک قسم ہے اور اس کا تعلق ہیپو کیمپوس Hippocampus جینس سے ہے۔جینس، فیملی اور اس طرح کی دوسری حیاتیاتی صف بندی کے بارے میں بڑی مشکل مشکل سی انگریزی اصطلاحات لکھی ہوئی ہیں ، وہ آپ اس ربط سے پڑھ سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں بنیادی معلومات کچھ اس طرح ہیں:
سمندری گھوڑا ’پائپ فش‘ کے خاندان سے ہے، ان کے جسم پر سکیلز یا چھلکے نہیں ہوتے۔ ان کی جلد پتلی اور جسم کا ڈھانچہ رِنگز Rings یا چھلہ نما ہڈیوں سے بنا ہوتا ہے ۔سمندری گھوڑے کی تقریباً تیس اقسام ہوتی ہیں اور یہ ٹراپیکل اور درمیانے درجہ حرارت کے پانیوں میں پایا جاتا ہے۔ سمندری گھوڑے انتہائی سست تیراک ہوتے ہیں اور سمندر کی تہہ میں موجود سمندری گھاس اور چٹانوں (کورل وغیرہ) میں رہتے ہیں اور چھوٹے جاندار اور ننھے منےجھینگے(Shrimps) وغیرہ کھاتے ہیں۔ ان کی پیمائش یا سائز ڈھائی سینٹی میٹر سے لے کر تقریباً ایک فٹ تک ہوسکتا ہے۔ سمندری گھوڑا یعنی نَر ذرا "گھریلو" قسم کا واقع ہوا ہے اور اپنے علاقے سے زیادہ دور نہیں جاتا جبکہ مادہ یعنی سمندری گھوڑی بے لگام ہوتی ہے، اور "مرد" کے مقابلے میں تقریباً سو گُنا ریادہ رقبے میں گھومتی پھرتی ہے۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ افزائشِ نسل کیلئے ایک ہی "بندے" پہ اکتفا کرتے ہیں۔ یعنی مونو گیمس (Monogamous) ہوتے ہیں اور ایک افزائشی موسم (یا باری) کیلئے جوڑا بنا کر رہتے ہیں۔ سمندری حیات خصوصاً مچھلیوں میں مادہ انڈے دیتی ہے اور نر سپرم(مادہ منویہ) کے اخراج سے ان کو فرٹیلائز کرتا ہے اور اس کے بعد یہ انڈے ماحول کے رحم و کرم پہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ لیکن سمندری گھوڑوں میں کچھ الٹ قسم کا معاملہ ہوتا ہے اور ما دہ جب انڈے دینے کے قابل ہو جاتی ہے تو وہ یہ انڈے ایک نلی نما ‘چیز’ اووی پوزیٹر Ovipositor کے ذریعے نر کے جسم کی اگلی جانب موجود ایک تھیلی یا Brood Pouch میں ڈال دیتی ہے۔ یہ انڈے جن کی تعداد 100 سے 200 تک ہو سکتی ہے (اوسطاً)، اسی تھیلی میں خودبخود فرٹیلائز ہو جاتے ہیں اور نر کے جسم سے ہی ان کو خوراک یا پرولیکٹن(Prolactin) ملتی ہے، پرولیکٹن وہ ہارمون Harmone ہے جو ممالیہ جانداروں میں دودھ پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس طرح" مردانہ حمل" کا یہ عمل جسے Gestationبھی کہا جاتا ہے، نر کے جسم میں ہی ہوتا ہے اور دو سے چھے ہفتوں کے بعد انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔اس دوران سمندری گھوڑی وقتاً فوقتاً گھوڑے کو "وزٹ" کرتی رہتی ہے۔ سمندری گھوڑا اعصابی سکڑاؤ (Muscular Contractions) کے عمل سے ان بچوں کو تھیلی سے باہر نکال دیتا ہے۔ پیدائش کے بعد یہ بچے سمندر کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔ اور گھوڑی اگلی باری کیلیے "پھر سے جوان" ہو جاتی ہے اور گھوڑا اس باری کا بار اٹھانے کیلیے تیار ہو جاتا ہے۔

(پوسٹ کا بنیادی مقصد معلوماتی ہے، تھوڑا بہت مزاحیہ پیرائے میں "ازراہِ مزاح" ہی لکھا گیا ہے۔ D:)
Read On

خبر؛ جینیاتی سائینس میں ایک اور قدم

0 تبصرہ (جات)۔ Thursday, May 27, 2010
آجکل سائینس اور ٹیکنالوجی جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی اب خاصا مشکل ہے کیونکہ کچھ شعبوں کے بارے میں تو ہم نے سنا ہوتا ہے کہ جی یہ بھی کوئی سائینس ہوتی ہے لیکن کچھ کا تو نام ہی پہلی پہلی بار سننے کو ملتا ہے۔ آجکل جینیات یا جینیٹکس Genetics میں نئی نئی دریافتیں سننے کو مل رہی ہیں جیسے کہ کچھ دن پہلے ہی ایک دوست سے سنا کہ جینیاتی سائینسدانوں نے جاندار خلیوں میں مصنوعی ڈی این اے شامل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یعنی کہ ایک خلیے میں پہلے سے موجود ڈی این اے کی جگہ مصنوعی طریقے سے تیار کردہ ڈی این اے داخل کیا گیا اور خاص بات یہ کہ اس مصنوعی ڈی این اے نے اپنی ہوبہو نقول تیار کرنا شروع کر دیں جو کہ قدرتی ڈی این اے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس سے پہلے مصنوعی ڈی این اے کی ریپلیکیشنReplication (یعنی ہوبہو نقل بنانے) میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔
امریکی ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر کریگ وینٹر(Dr Craig Ventor)جنہوں نے یہ کامیاب تجربہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئے صنعتی انقلاب کی جانب اہم قدم ہے۔ اس طریقہ کار کی کامیابی سے مصنوعی ڈی این اے میں اپنی مرضی کا جینیاتی کوڈ شامل کیا جا سکتا ہے اور پھر اس ڈی این اے کو زندہ خلیوں میں داخل کر کے اپنی مرضی کے نتائج کے حامل جاندار خلیے بالکل قدرتی انداز میں حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جینیاتی کوڈ یا جینیٹک کوڈ (Genetic Code) کسی بھی جاندار کی خصوصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جانداروں کی قدرتی و موروثی و جبلتی خصوصیات وغیرہ سب اسی جینیاتی کوڈ میں چھپے ہوتے ہیں اور ڈی این اے اسی مخصوص جینیاتی کوڈ کی وجہ سے ہر جاندار کا دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تجربے سے مختلف خوردبینی جانداروں مثلاً بیکٹریا وغیرہ کو جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے اپنی مرضی کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ ہوا کو مضرِ صحت اجزا سے پاک کرنےاور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجذاب سے لے کر گاڑیوں کیلئے ایندھن کی تیاری تک کا کام لیا جا سکے گا۔
بہرحال یہ سب تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور بہت سوں کا خیال ہے کہ یہ محض دیوانے کا خواب ہے اور اس طرح کی تحقیق سے ابھی تک کوئی عمومی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ مذہبی حلقوں میں حسبِ سابق اس طرح کی تحقیق اور خبروں کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور اس طرح کے تجربات کو خدا کی تخلیق میں دخل اندازی گردانا جاتا ہے۔

اس مضمون کے حوالہ جات:
ویلز آنلائن نیوز
arstechnia.com
Read On

بلاگستان میں ہم آہنگی

5 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, May 25, 2010
پہلی نظر میں تو عنوان میں بلاگستان کی جگہ پاکستان نظر آتا ہے کہ مسائل اس میں بھی ہم آہنگی کے ہی پائے جاتے ہیں، یعنی ہم آہنگی نہ ہونے کے۔۔۔۔خیر، موضوع کی جانب آتے ہیں:
کچھ لوگ بلاگ لکھتے وقت ایک خاص ٹون اپناتے ہیں اور ان کے بلاگ کے حرف حرف سے کسی ایک خاص بندے کو نشانہ بنانے کی بُو اس قدر واضح طور پہ آ رہی ہوتی ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر لفظ کو ایک خاص تناظر میں ہی پڑھتے ہیں۔ اظہارِ خیال کا مقصد یہ ضرور ہے کہ آپ اپنے خیال کا اظہار کریں لیکن اگر کسی شخص کی کوئی مخصوص بات آپکو بری لگی ہے تو اس کا اظہار کرنے کے کئی ایک بہتر طریقے موجود ہیں۔ یہاں جو طریقہ رائج ہو رہا ہے اس میں آپ ہر بات ایک خاص انداز سے شروع کرتے ہیں اور اس انداز سے کہ ہر کوئی بخوبی اندازہ لگا سکے کہ آپ کس کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، یعنی کہ لوگوں کو اصل میں نظریے سے اختلاف نہیں بلکہ کسی ایک شخص کے اس نظریےکو پیش کرنے سے اختلاف ہوتا ہے۔۔۔۔
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اگر ایک بات آپکو بری یا غلط معلوم ہوتی ہے تو اپنے تبصرے یا پوسٹ میں اس بات کا ذکر کریں اور اس کی تردید کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔۔۔ چلیں اگر تڑکہ ہی لگانا ہے تو اس انداز میں لگائیں کہ بات میں مزاح یا طنز یا دونوں شامل ہو جائیں لیکن یہ جو "ٹارگٹ کلنگ" والا رویہ ہے یہ تو زیادتی ہے نا!!۔
میٹرک میں ہماری درسی کتاب میں ایک مضمون شامل تھا(ٹھیک سے یاد نہیں شاید سر سید احمد خان کا تھا)۔ اس میں بھی ایسے ہی رویے کا ذکر ہے، جو کہ پڑھے لکھے لوگوں میں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ان کی رائے سے اختلاف کرے اور خاصی واضح تصویر کشی کی گئی ہے اس طرح کے "ٹاکروں" کی اور اس کا موازنہ کتوں کی لڑائی سے کیا گیا تھا۔۔۔ گو کہ انٹرنیٹ آپ کو براہ راست گتھم گتھا ہونے سے بچا لیتا ہے لیکن منہ سے کف ، آنکھیں لال ، تیوریوں پہ بل، آستین چڑھی ہوئی بہرحال پوسٹوں سے بھی محسوس ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔
جہاں تک باہمی ہم آہنگی کی بات ہے تو جہاں دو آدمی ہوں گے وہاں دو رائے بھی ہو ں گی، اور یہی مختلف خیالات ہی مل کر تو اس دنیا کو مکمل کرتے ہیں۔
ع گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینتِ چمن
بلاگنگ کا مقصد اپنے خیالات کو دوسروں تک رسائی دینا ہی ہے لیکن آپ یہاں دوسروں کی جڑیں کاٹ کر اپنے پودے کے چڑھنے کی امید نہیں رکھ سکتے۔ آپ سنییں گے تو ہی کوئی آپکی سنے گا۔ اگر آپ ایک پوسٹ میں کسی ایک مخصوص بات کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ ایک جہت تک محدود ہوتا ہے لیکن جب اس پہ مختلف لوگوں کے تبصرے آتے ہیں جن میں نئی نئی باتیں اور مزید کئی در وا کئے جاتے ہیں تو اصل میں آپ ہی کی ذہنی نشونما ہوتی ہے، اگلی بار جب کوئی نئی پوسٹ سامنے آتی ہے تو اس میں لا شعوری طور پر ان تبصروں سے حاصل کیا گیا کوئی نہ کوئی سبق ضرور شامل ہوتا ہے، یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے، خواہ وہ ایک" مسکراہٹ" کا اضافہ ہی کیوں نہ ہو!
میرے نزدیک یہی وہ باہمی ہم آہنگی ہے جس کی ضرورت ہر اس جگہ ہے جہاں آپ اکیلے نہیں ہیں۔

خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس، لگے نہ ٹھیس ان آبگینوں کو
Read On