متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ

السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

مائیکل جیکسن کی یاد میں

11 تبصرہ (جات)۔ Sunday, June 28, 2009
مائیکل جیکسن کا ستارہ کئی دہائیاں شہرت کے آسمان پر جگمگانے کے بعد آخر کار غروب ہو گیا اور دنیا بھر میں وہ اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ لیکن میرے خیال میں مائیکل کیلئے سب سے زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ اسمبلی میں اُن کے "غم" میں ایک منٹ کی خاموشی کی گئی اور ان کی "شخصیت" کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا!!
ظاہر ہے ، مائیکل جیکسن صاحب نے پاکستانی عوام کیلئے اتنے سارے نغمات جو گائے تھے خصوصاً ان کے "بلی جینز" اور " ڈینجرس" نے ہماری عوام میں ایک نیا جزبہ اور روح پھونک دی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
کیا ہماری صوبائی اسمبلی نے بجا طور پر ایک ایسی قوم کی نمائندگی کی ہے جس کے ۱۸ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں، جسے آئے دن اندرونی و بیرونی دشمنوں کا سامنا ہے، جہاں پانی و بجلی کا شدید بحران ہے اور جس کی فوج کے جوان دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے روز جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ اگر ان تمام پاکستانیوں کیلئے جو پچھلے ایک سال میں مختلف وجوہات کا شکار ہو کر جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں، ایک ایک منٹ کی خاموشی کی جاتی تو اسمبلی کا سیشن نہائت پُر امن طریقے سے چپ چاپ ختم ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔!!
ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے مشہور پاکستانی غزل گائکہ اقبال بانو کا انتقال ہوا، ہماری "entertainment loving nation" کی نمائندہ اسمبلی نے ان کی یاد میں خاموشی اختیار کیوں نہ کی؟
مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مائیکل جیکسن ایک بڑا گلوکار تھا اور پاپ موسیقی کی دنیا میں اس کا نام ایک بانی کی حیثیت سے لیا جاتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ کیا ہماری اسمبلی ہماری قوم کی ترجمانی کر رہی ہے؟ کیا پاکستان سے مائیکل جیکسن کا کوئی بھی قومی تعلق ہے سوائے اس کے کہ وہ امریکی تھا(اگر یہ تعلق کی وضاحت ہے تو!)۔ بے نظیر بھٹو شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے تین منٹ کی خاموشی قومی سطح پر اختیار کی گئی۔ محترمہ ایک قومی و سیاسی لیڈر تھیں، پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم تھیں اور سب سے بڑھ کر وہ ایک پاکستانی تھیں۔۔ ۔ ۔ کیا مائیکل جیکسن کو کسی بھی فریم میں فِٹ کیا جا سکتا ہے جس کے باعث اسے اس قومی " اعزاز" سے نوازا گیا۔ ۔ ۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے مجھ جیسوں کو یہ ہی سمجھ نہیں آتا کہ اعزاز کیوں دیا جاتا ہے اور کس کو دیا جاتا ہے۔ ۔۔ ۔!!!
Read On

حقّہ ٹھنڈا ہونے تک

4 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 26, 2009
آجکل پاکستان میں ہر بات ایک ایشو(issue) بن جاتی ہے، اور اتنے ایشو بنتے ہیں کہ ایشو بننا بھی کوئی ایشو نہیں رہتا، یعنی کہ
مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
عوام کے لیے اب کوئی بڑے سے بڑا واقعہ بھی بس اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ حقّہ ٹھنڈا ہونے تک اس پہ بات ہو سکتی ہے یا نہیں!
اس بات کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب میں اپنے ہاسٹل سے تعطیلات میں واپس لالہ موسیٰ آتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ ہم وہاں جن خبروں کو انٹرنیٹ یا کیبل پہ دیکھ کر پریشان ہو رہے ہوتے ہیں ، یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ یہاں بس حقّہ ٹھنڈا ہونے تک ہی بات کی جا تی ہے۔۔ ۔ ۔ ۔
ویسے بھی آجکل یہاں کے لوگوں میں سیاسی "بالیدگی" اور ایوانوں کے داؤ پیچ کا شعور خود بخود ہی پیدا ہو گیا ہے، اور کیوں نہ ہو آخر وفاقی وزیر برائے " پتا نہیں کیا کیا" جناب کائرہ صاحب اور صوبائی وزیرِ خزانہ کا تعلق جو یہاں سے ہے اور پُر رونق ڈیرے خوب ڈورے ڈال رہے ہیں لوگوں کے ذہنوں پر!
معافی چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ماحول کا اثر ہے ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں: "بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں!"
چلیے بات بدلتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آجکل ہر بات کا تانا بانا سیاسی دھاگوں سے ہی بُنا جا رہا ہے۔ (گو کہ یہ زیادہ مضبوط نہیں ہوتے مگر پھر بھی!) اگر میں یہاں(لالہ موسیٰ میں) کوئی بھی بات حکومت کے خلاف کہہ دوں تو فوراً بھائیوں یا دوستوں میں سے کوئی نہ کوئی اس کی تردید ضرور کر دے گا اور مجھے سیاسی مصلحتوں اور حکومتی مجبوریوں پر لیکچر دے دے گا۔ "بھیا! یہ سیاست کی بوالعجیبیاں ہیں، تم نہیں سمجھو گے!"
خیر صاحب! ہم سمجھنا بھی نہیں چاہتے، ہم لنڈورے ہی بھلے!!۔

Read On

کچھ انجینئرنگ کے بارے میں

10 تبصرہ (جات)۔ Sunday, May 24, 2009
(مختصر مختصر سے منتقل شدہ)

“انجینئرنگ” دو الفاظ پہ مشتمل ایک اصطلاح ہے۔
‘انجن’ اور ‘رِنگ’ ؛ انجن کے بارے میں سب لوگ جانتے ہی ہوں گےکہ یہ ایک ایسی چلتی پھرتی شے ہے جو “چھُک چھُک ” کی رٹّی رٹّائی آواز نکالتا آگے یا پیچھےکی سمت میں رواں رہتا ہے۔
رِنگ ایک ایسی گول شے ہے جس کے سِرّے آپس میں ملے ہوتے ہیں۔ یوں اس لفظ کا مطلب نکلتا ہے کہ انجینئرنگ کسی انجن یا اس سے مشابہ (یعنی کسی بھی چلتی پھرتی!) چیز کا ایک گول دائرے (یعنی رِنگ) میں چکر لگائے جانا اور رٹّی رٹّائی آوازیں نکالے جانے کا نام ہے۔۔۔۔
مندرجہ بالا تفصیل سے انجینئرنگ کرنے والوں کے بارے میں بھی پتا چلتا ہے کہ انجینئرنگ کرنے والے بھی گویا ایک آواگونی چکر یعنی رِنگ میں مقیّد ہیں جو پہلا سیشنل ، دوسرا سیشنل اور ٹرمینل یعنی فائنل امتحان ( یونیورسٹی طلباء خصوصاً کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلباء ان اصطلاحات سے بخوبی واقف ہوں گے ) کے تین تکلیف دہ ادوار پر مشتمل ہے۔ (بہت سے تعلیمی اداروں میں دو ادوار پر مشتمل “چکر” بھی رائج ہے!) یہ مخلوق یعنی انجینئر بھی انجن کی طرح اپنی رِنگ نما پٹری پر کولہو کے بیل کی مانند، ان تین یا دو اسٹیشنوں کے درمیان گھومتے رہتے ہیں۔ غصّے سے دھواں دھواں ہونا اور احتجاجاً ایک ہی طرح کی آوازیں نکالنا بھی ان کا خاصہ ہے۔ ۔ ۔ ۔لیکن انجن کی طرح ان کے شور سے بھی کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا۔ اس انجن سے منسلک ریل (یعنی بستہ یا تھیلے) میں کئی کورس کی کتابیں سواریوں کی صورت اترتی چڑھتی رہتی ہیں۔ ۔ ۔ یوں جب یہ انجن کم و بیش ( جس میں بیشی کے امکانات زیادہ ہیں!) چار سال لگاتار رِنگ میں گھومتے رہنے کے بعد تھک یعنی “ریٹائر” ہو جاتا ہے تو اس کے آخر میں حرف “ر” کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جو اسکی جسمانی حالت سے زیادہ ذہنی حالت کو بیان کرتا ہے۔ ۔ یعنی کہ اب وہ انجن(ر) بن گیا ہے (جیسا کہ روایتاً تھک جانے والے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے!) ۔ ۔ ۔ اور اب اگر اس لفظ اور ‘اعزاز’ کو ملا کر پڑھیں گے تو عرفِ عام میں “انجینئر” کہلائے گا۔
Read On

اردو ہے جس کا نام

4 تبصرہ (جات)۔ Thursday, May 21, 2009
۔(مختصر مختصر سے منتقل شدہ)
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

لو جی! یہ کیا بات کر دی؟ اردو سیکھنا کوئی مشکل کام ہے۔ ۔ ۔ ہمارے پاکستان میں تو بچہ بچہ اردو بولتا ہے!۔ ۔ ۔ اور تواور میرا ڈیڑھ سال کابھتیجا بھی بہت شُستہ اردو بولتا ہے! بس ذرا ‘س’، ‘ش’ اور ‘ذ’،’ز’،’ج’،’ظ’ اور ‘ض’ میں تمیز نہیں کر سکتا ٹھیک سے۔ ۔ ۔!
خیر یہ تو ‘ ایکسٹرا پرافیشنسی’ کے زمرے میں آتا ہے۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی اردو سیکھنے سکھانے کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تو قصہ اس اجمال کا کچھ یوں ہے کہ جب ہمارے بڑے بھائی صاحب تقریباً سات سال پہلے وطن عزیز سے پردیس گئے تو وہاں سے واپسی پر ایک عدد ولندیزی خاتون کو ہماری بھابھی بنا کر پاکستان لائے [سچے اور پکے پاکستانی ہونے کی نشانی۔] اب پاکستانیوں کی غیر ملکی زبان سیکھنے کی “لرنِنگ کروّ”(سیکھنے کی صلاحیت کا گراف) کچھ زیادہ ہی ہے لہٰذہ ہوا یہ کہ وہ تو اردو میں بس “سلام لیکم” ، “کی حال اے؟” یا “ٹھیک او ” ہی سیکھ سکیں لیکن ہم کافی استفادہ کر گئے!
یوں بھی جناب اردو کی تو کیا ہی بات ہے، منہ اور حلق کا شائد ہی کوئی حصہ ہو گا جہاں حروفِ تہجی میں سے کسی کی رسائی نہ ہو۔ ! اور سونے پہ سہاگہ بچپن میں مسجد کے مولوی صاحب نے” چنگی طرح” سمجھا بجھا کر ش، ق درست کروائے تھے۔ اب بیچارے جرمن بولنےوالوں کا کیا قصور کہ ان کی زبان میں ۲۶ یا زیادہ سے زیادہ ۳۰ (کچھ واول حروف بھی ہیں ) حروف جتنی لچک ہے!!
جن میں سے کچھ تو ایک سی آوازیں نکال کے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ ۔ اب باقی بچنے والے بھی اردو کی ‘ر’، ‘ج’، ‘چ’، ‘ز’، ‘ذ’، اور تو اور ‘ی’ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔ ۔ ۔ ہاں ، لفظ” نہیں ” کا پنجابی ہم پلہ لفظ ” نئین” موجود ہے اور مطلب بھی نفی ہی ہے۔ ۔ ۔یوں کچھ ملے جلے رجحان کے ساتھ وہ “اِک، دو، تِن” کرنا تو سیکھ ہی جاتے ہیں۔ ۔
بقول غیر اردو یافتہ افراد کے سب سے بڑی مشکل اردو عربی یا فارسی سیکھنے کی یہ ہے کہ ان کے حروف مفرد حالت میں اور ہوتے ہیں جبکہ الفاظ میں ان کا رنگ تو خیر نہیں ‘انگ’ اور ڈھنگ ضرور بدل جاتا ہے! اب ‘ج’ کو ہی لیجیے، تنہائی میں تو پیٹ نکال لیتی ہے، جیسے ہی کوئی دوسرا حرف دیکھتی ہے ایسے سمٹ جاتی کہ محض نقطہ ہی رہ جاتا ہے اور ‘ر’ تو مزید “گِر” جاتی ہے!
اسی طرح باقی حروف بھی عجیب و غریب ہیئت ِظاہری و باطنی رکھتے ہیں۔ اب ہماری بھابھی صاحبہ کو اردو سیکھنے کا شوق پھر سے پیدا ہو گیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے کوئی رومن اردو میں اردو سیکھنے کی کتاب ہونی چاہئے، تا کہ وہ الفاظ کو پڑھ سکیں ناکہ ان کی اشکال میں ہی گم ہو جائیں۔ اب انہیں میں یہ کیسے بتاؤں کہ میں نے تو آج تک کوئی “اردو سیکھیں” نامی کتاب عربی رسم الخط میں نہیں دیکھی تو رومن میں کہاں سے لاؤں! یہاں”انگریزی سیکھیں، صرف ایک ہفتے میں”، “انگلش ٹیوٹر”، “انگلش گرو” ،”انگریزی بولیں ،امریکیوں کی طرح” وغیرہ، تو ہر شہر کے ‘اردو بازار’ میں با آسانی ملتی ہیں لیکن اردو کی خرید و فروخت کا بہرحال کوئی رجحان نہیں پایا جاتا۔ ۔ ۔ ۔!!

خصوصی نوٹ: اس مضمون میں اگر کوئی اردو املاء کی غلطی پائی جائے تو اسے کلیدی تختے کے لے آؤٹ کی غلطی سمجھا جائے۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس “رومن اردو” سیکھنے کا کوئی نسخہ موجود ہو تو ضرور بتائے، اردو سیکھنا سکھانا ایک کارِخیر ہے خواہ رومی ہو کہ رازی!

Read On

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط ۔ ۲)۔

2 تبصرہ (جات)۔
۔(مختصر مختصر سے منتقل شدہ) اس تحریر پہ کیے گئے تبصرے پڑھنے کیلئے ذیل کے ربط پہ جائیں۔

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط ۔ ۲)۔

(گزشتہ سے پیوستہ)

ہمارا میزبان ایک نوجوان شخص تھا، انگریزی طرز کے جدید تراش خراش کے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ داڑھی مونچھ سے بے نیاز چہرہ بہرحال دیسی تھا۔ علیک سلیک ہوئی، خاصی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا ۔
” ویلکم مرزا صاحب! سفر کیسا رہا آپکا؟ کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی؟ آپکو زیادہ ویٹ تو نہیں کرنا پڑا۔”
ہم خاموش رہے کہ بات کی سمجھ نہیں آئی ٹھیک سے۔
“ایکچوئلی آجکل سیکیورٹی کی وجہ سے زیادہ چیکنگ ہو رہی ہے۔” وہ بولتے رہے۔
“ہائیں! کس کی وجہ سے کون ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ !”
“لگتا ہے میں ایکسائٹمنٹ میں زیادہ بول رہا ہوں۔”
” نہیں میاں! بول تو زیادہ نہیں رہے، پر بول کیا رہے ہو یہ سمجھ نہیں آرہا ہمیں!”
“اوہ! آئی ایم سوری۔ ۔ ۔لیکن کیوں؟”
“میاں ! ذرا صاف اور صرف اردو بولو تا کہ مجھ غریب کے بھی کچھ پلّے پڑے۔ہم زبانِ غیر سے قطعی ناا ٓشنا ہیں۔”
” میں معذرت خواہ ہوں مرزا صاحب! دراصل یہاں ایسے بولنا اردو ہی کہلاتا ہے۔ لیکن میں آیندہ خیا ل رکھوں گا کہ انگریزی الفاظ نہ استعمال کروں۔”
خیر صاحبو! آگے بڑھتے ہیں کہ ابھی تو آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ اپنے رہنما کے ساتھ ہم ایک لمبی سی موٹر میں بیٹھ کر قیام گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ باہر کی دنیا بھی اردو زبان کی طرح رنگ برنگی نظر آئی۔ نہ کوئی دیسی نظر آ رہا تھا نہ ہی ولایتی، بس سب کچھ ‘آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘ لگ رہا تھا!
ہمارے راہنما کا نام تو تھا سردار محمد جبران نواز خان لیکن بقول اسکے سب اسے پیار سے “جِبز” کہتے ہیں!”میاں ! ہم تمہیں جِبز تو نہیں خیر صرف جبران کہہ لیتے ہیں۔” جبران میاں نے بتایا کہ ہمارے رہنے کا انتظام و انصرام ایک تعلیمی ادارے کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ادارے کا نام انگریزی میں تھا جو کہ ضعفِ پیری کے باعث ہم بھول گئے ہیں، ہاں! ایک اصطلاح ہمیں یاد ہے جو اس ادارے کے نام میں تھی ” انفارمیشن ٹیکنالوجی” اور اس اصطلاح کا اردو مترادف جبران میاں کو معلوم نہ تھا بلکہ شاید تھا ہی نہیں! خیر اس نے ہمیں اتنا بتا دیا کہ یہ آجکل کی خاصی اہم اصطلاح ہے اور یہ معلوماتِ عامہ کے جدید نظام کی عام لوگوں تک رسائی اور اس کے عام زندگی میں عمل دخل کے متعلق جو تکنیکی عوامل کار فرما ہیں، ان کے بارے میں یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ تشریح ہم نے خود اپنے آپ کو سمجھانے کے واسطے وضع کی ہے وگرنہ جبران میاں کی وضاحت تو خاصی غیرواضح تھی!
موٹر ایک بلند و بالا عمارت کے سامنے جا رکی جس کی پیشانی پہ لکھا تھا ” ہوٹل موتی محل”، عمارت کے اندر داخل ہوئے تو واقعی کسی محل کا گمان ہونے لگا۔ ماحول خاصا امیرانہ اور خوابناک سا تھا۔ استقبالیہ، جسے اردو میں ‘ ریسپشن’ لکھا جاتا ہے، پر ایک خاتون نے بڑے رکھ رکھاؤ سے ‘پاکستانی اردو ‘ میں بات کی ۔ پہلے سےہماری لئے محفوظ شدہ کمرے کی چابی میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے خاتون خوشدلی سے مسکرائیں اور گویا ہوئیں ” ویلکم ٹو موتی محل”۔ ۔ ۔ اتنی اردو ہم اب تک تو جان ہی گئے تھے۔
کمرے کی طرف جاتے ہوئے ہم نے جبران میاں سے پوچھا کہ بھائی! یہ جگہ جگہ ” رُوم” کیوں لکھا نظر آ رہا ہے؟ کیا ملکِ روم سے کوئی نسبت ہے یا کچھ اور۔ ۔ ۔ ویٹنگ روم، باتھ روم، اور تو اور یہ نماز رُوم۔ ۔ ۔کیا معنی!
بولے مرزا صاحب روم مطلب کمرہ ، انگریزی میں کمرے کو کہتے ہیں، ہم نے کہا میاں! انگریزی میں توہر تختی پہ ساتھ لکھا ہوتا ہے پھر یہ اردو ترجمے میں بھی دُم چھلہ ساتھ لگانے کی کیا تُک ہے! ظاہر ہے اس کا جواب اُس بیچارے کے پاس نہیں تھا۔ اور ہوتا بھی کیسے، پاکستان میں اپنے قیام کے دوران جس چیز کا ہمیں سب سے زیادہ رنج رہا وہ یہی تھی کہ جہاں جاؤ آپ کو فرنگی زبان میں سلام دعا، خیر سگالی کے جملے سننے کو ملیں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ زبانیں سیکھنا غلط ہے یا کوئی زبان کسی دوسری سے اچھی یا بُری ہے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ اپنی زبان اپنے ملک میں نہ بولی اور لکھی جائے گی تو اور کہاں ہو گی!
یوں تو آپ جس بھی گلی محلے یا سڑک سے گزریں آپ کو اردو میں جگہ جگہ لکھا نظر آئے گا:
“یہاں پیشاب کرنا منع ہے”
کوڑے کو آگ لگانا جُرم ہے”
“بیمثال شادی کورس” ۔۔۔” جرمن طبی دواخانہ”
” عامل ناگی کالیا بنگالی بابا”۔ ۔ ۔ اور نجانے کیا کیا!!
سنیاسی بابوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بابوں کے بھی اشتہارات دیواروں کی زینت بنے ہوتے ہیں لیکن جہاں کوئی کام کی بات لکھی ہو گی تو زبانِ غیر سے استفادہ کیا گیا ہوگا۔ ۔ ۔!۔


Read On

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان

1 تبصرہ (جات)۔
اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ پر موجود میرے بلاگ 'مختصر مختصر' سے ایک مزاحیہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ اس تحریر پر کیے گئے تبصرے آپ اس ربط پہ پڑھ سکتے ہیں:۔

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط۔ ۔ ۱):۔

ملکِ عدم سے آنے والے جہاز میں سفر کرنا ہمارے لئے زندگی کے بعد کا سب سے اچھا سفر رہا۔ اپنی زندگی میں تو ہم نے بحری جہاز کے پانی پر تیرنے کے بارے میں سوچا تھا تو غش کھا گئے تھے کجا کہ اس دیوہیکل ہوائی جہاز میں اڑنا! خیر جیسے تیسے کر کے ٘منزل تک جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک بھلی سی خوش پوش خاتون نے ہمیں ایک سو پینتالیس نمبر کی نشست پہ بٹھا دیا۔ نشست کیا تھی میاں، ہمیں تو دہلیٔ مرحوم کا تخت یاد آ گیا۔ پھر وہی خاتون ہمارے لئے رنگ رنگ کے مشروب اور اشیائے خورد لے آئیں (لگتا تھا کہ جہاز ان کے مجازی خدا کا ہے جو اتنی خاطر مدارات کر رہی ہیں!)، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اس جہاز کی خادمہ ہیں جنہیں ‘فضائی میزبان’ کہا جاتا ہے۔ نشست کو دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ جب رعایا کے لئے ایسی نشست ہے تو باشاہ کا کیا عالم ہو گا۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے ضمیر سے بآوازِ بلند ایک ‘ زنانہ’ آواز آئی “پی آئیے! میں خوش آمدید”
ہائیں! یہ ہمارے ضمیر کی آواز اور صرف و نحو دونوں خراب ہو گئیں!! پی آئیے ۔ ۔ میں۔ ۔ خوش آمدید۔ ۔ ارے میاں! الفاظ تو اردوئے معلیٰ کے ہی ہیں مگر متن کچھ واضع نہیں ہو رہا۔ ۔ ۔
ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھے صاحب نے ہماری حیران و پریشان صورت دیکھی اور کچھ پہچاننے والے انداز میں بولے “ارے! آپ توو وہ ڈرامے والے مرزا غالب کی طرح لگ رہے ہیں!”
“میاں! لگ رہے ہیں کیا مطلب؟ ہم مرزا اسد اللہ خاں غالب ہی ہیں۔” اب کے حیران ہونے کی باری ان کی تھی۔ پھر جب ہم نے سفر کے دوران انہیں تفصیلاً بتایا کہ ہم عدم آباد سے خصوصی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان جا رہے ہیں تو وہ ہمیں سمجھاتے ہوئے بولے کہ یہ آواز لاؤڈ اسپیکر یعنی ‘ آلۂ مکبر الصوت’ سے آرہی ہے اور ہوائی میزبان کی ہے۔ہم نے ااس جملے کا مطلب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ پی آئیے نہیں پلکہ ‘پی۔آئی۔اے’ ہے، انگریزی زبان میں پاکستانی ہوئی کمپنی کا نام۔
خیر صاحبو! ہوئی کمپنی بہادر کا نام ‘پی۔آئی۔اے’ نہیں بلکہ ‘کھا پی کے آئیے’ ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں کا کھانا تو ہمارے حلق سے نیچے نہیں اترا، نہ دہلی کے کلچے، نہ لاہوری چرغہ، اور نہ ہی بمبئی بریانی، کچھ بھی نہ ملا!
ہوائی جہاز میں ہم نے صدیوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر لیا جبکہ ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کا چند قدم کا فاصلہ ہم نے کوئی آدھے پہر میں طے کیا ہو گا۔ ہمارا ٹرنک، پان دان حتیٰ کہ اگالدان تک کھنگال کے رکھ دیا ان نیلی وردی والے سپاہیؤں نے! ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہوائی اڈے پر ہمارے استقبال کے لئے کوئی نہ کوئی نمائندہ موجود ہو گا۔ باہر نکلے تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے سارا پاکستان ہی آج واپس آ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اتنا رش کہ الامان الحفیظ! نطر دوڑائی تو ایک شخص ہمارے نام کی تختی اٹھائے کھڑا نظر آیا۔ جلّی حروف اور خالص نستعلیق خط میں اپنا نام لکھا دیکھ کر سفر کی تکان دور ہو گئی۔

نوٹ: اگر یہ تحریر آپ کو پسند آئی ہے تو تبصرہ ضرور کریں تا کہ میں اس مضمون کو آگے بڑھا سکوں۔ اور اگر پسند نہیں آئی تو بھی تبصرہ ضرور کریں ورنہ میں مزید لکھنے سے ہرگز باز نہ آؤں گا!


Read On

ہر جگہ میرے چمکنے سے!۔

1 تبصرہ (جات)۔
پچھلے مہینے علامہ اقبالؒ کی برسی پر بہت سوچ بچار کے باوجود بھی میرے ذہن میں لکھنے کے لیے کچھ نہ آیا۔
آجکل نجی چینلوں پہ ایک کمرشل بہت چل رہی ہے جو اقبال کی مشہورِزمانہ نظم “بچے کی دعا” کے ایک مصرعے سے شروع ہوتی ہے۔ مزارِاقبال کے احاطے میں سفید اجلے لباس میں سکول کے بچے بلند آواز میں پڑھتے ہیں۔ ۔ ۔ ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے۔ ۔۔ ۔
کچھ دن تک یہ اشتہارایسے ہی چلتا رہا یعنی صرف اس مصرعے تک۔ ۔ ہم سوچتے رہے کہ شاید کوئی نیا پروگرام ہے یا کلامِ اقبال پر کوئی نئی ویڈیو بنائی گئی ہے یا شایداقبال شناسی کا نیا دور شروع ہوا چاہتا ہے عوام میں۔ ۔ لیکن یہ عقدہ تو بعد میں کھلا جب مکمل اشتہار دیکھا۔
یہ اشتہار ہے ” گائے سوپ” کا، جن کا پیغام ہے:
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
گائے سوپ اجلا بنائے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔!
ایک وہ زمانہ تھا (جنہیں میرا دوست “سچّا زمانہ” کہہ کر ‘ یاد ‘ کرتا ہے، حالانکہ عمر میں مجھ سے بھی چھوٹا ہے!) جب قوم کے قلب و نظر کی پاکیزگی کی لیے کلامِ اقبال کا سہارا لیا جاتاتھا، اور اب قوم کی ” چڈّی و بنیان” کی صفائی کے لیے۔ ۔ ۔!!
بڑھتی ہوئی اشتہاربازی(یا کمرشلائیزیشن) سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ کل کو کوئی نازنین اپنے لمبے گھنے بال سنوارتے ہوئے کسی شیمپو کے اشتہار میں کہے گی: “گیسوئے تابدار کو اور تابدار کر”۔ ۔ ۔ ۔۔!۔

نوٹ: یہ تحریراردو ٹیک پر میرے بلاگ 'مختصر مختصر' سے یہاں منتقل کی گئی ہے، اس پر کیے گئے تبصرے پڑھنے کے لیے آپ اس ربط پہ کلک کریں۔ تکلیف کے لیے بہت معزرت!۔
Read On

پانچ چیزیں

0 تبصرہ (جات)۔ Thursday, April 30, 2009
پانچ چیزیں

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ "اے مہاجروں کی جماعت!پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلاء ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی۔) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں ) تم تک پہنچیں۔
۱۔ جب بھی کسی قوم میں بے حیائی(بد کاری وغیرہ) اعلانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔
۲۔ جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ، ان کو قحط سالی ، روزگار میں تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔
۳۔ جب وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا بند کر دیتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔
۴۔ جب وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلّط کر دیے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
۵۔ جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے حکم و قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتےتو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔"

اس روایت میں آپ ﷺ نے جن پانچ برائیوں کا ذکر کیا ہے، وہ کسی نہ کسی شکل میں آجکل کے معاشرے میں موجود ہیں۔ کچھ تو اپنے پورے جوبن کے ساتھ رچ بس گئی ہیں اور اس روایت کی رو سے جو نتائج بتائے گئے ہیں ،ان کی نشاندہی کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ مصائب و تکالیف کے ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ روحانی اور باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں۔اگر عقائد و اخلاق کی ان خرابیوں سے پرہیز کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ظاہری اسباب کو تبدیل فرما دیتا ہے۔
Read On

طارق عزیز کی پنجابی شاعری -- انتخاب ۲

3 تبصرہ (جات)۔ Saturday, March 28, 2009
بچوں کیلئے ایک نظم

اپنے دِل وِچ بہت محبت
کڑیاں لئی نہ بھریئے
ہور وی کَم نے دُنیا اُتّے
اِکّو ای کَم نہ کریئے


اِک نظم فرزانہ لَئی

چھوٹیاں چھوٹیاں گلّاں اتّے
اَینویں نہ تو لَڑیا کر
ایڈیاں سوہنیاں اَکھاں دے وِچ
ہنجو نہ تو بھریا کر
جیہڑے کَم نئیں تیرے چَندا
تُو اوہ کَم نہ کریا کر


ھمزاد دا دُکھ -- طارق عزیز( )


Read On

فن نعت گوئی

0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, March 10, 2009
فن نعت گوئی: عید میلاد النبی کے موقع پر خصوصی مضمون

March 9, 2009
اردو وائس آف امریکہ

نعت گوئی فن شاعری کے زیور کا نگینہ ہے۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے بباطن اسی قدر مشکل ہے۔ ایک طرف وہ ذات گرامی ہے جس کی مد ح خود رب العالمین نے کی ہے، دوسری طرف زبان اور شاعری کے جمالیاتی تقاضے ہیں۔اس لیے نعت کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جو جذبہٴ عشق رسول سے سرشار ہو اور یہ وصف وہبی ہے۔ بس جسے اللہ توفیق دے وہی نعت کہہ سکتا ہے ایک طرح سے یہی کہا جائے گا۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

سہ حرفی لفظ نعت ( ن ع ت ) عربی زبان کا مصدر ہے اس کے لغوی معنی کسی شخص میں قابل تعریف صفات کا پایا جانا ہے۔ یوں تو عربی زبان میں متعدد مصادر تعریف و توصیف کے لیے استعمال ہو تے ہیں۔ مثلاً حمد، اللہ جل شانہ کی تعریف کے لیے مخصوص ہے اور نعت حضور سرور کائنات صلعم کی تعریف و توصیف کے لیے مستعمل ہو کر مخصوص ہوئی۔

اسی طرح اردو شاعری میں نظم کی اصناف سخن میں نعت وہ صنف سخن ہے جس کے اشعار میں رسول مقبو ل صلعم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ اردو میں شاید ہی ایسی کو ئی صنف سخن ہو جس میں نعتیں نہ کہی گئی ہوں۔ اس کے لیے اس کے اسالیب طے شدہ نہیں ہیں۔ اس طرح سے اس کا دائرہ بھی بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ مگر سب سے اہم تقاضا عشق رسول سے سرشاری کا ہے۔ شاہ معین الدین ندوی اپنی کتاب ”ادبی نقوش “ میں رقم طراز ہیں:

”نعت کہنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔محض شاعری کی زبان میں ذات پاک نبی صلعم کی عامیانہ توصیف کر دینا بہت آسان ہے، لیکن اس کے پورے لوازم و شرائط سے عہدہ بر آ ہونا بہت مشکل ہے ․․․ حب رسول صلعم کے ساتھ نبوت کے اصلی کمالات اور کارناموں، اسلام کی صحیح روح، عہد رسالت کے واقعات اور آیات و احادیث سے واقفیت ضروری ہے جو کم شعراء کو ہوتی ہے۔ اس کے بغیر صحیح نعت گوئی ممکن نہیں۔ نعت کا رشتہ بہت نازک ہے۔ اس میں ادنیٰ سی لغزش سے نیکی برباد گناہ لازم آجاتا ہے۔ اس پل صراط کو عبور کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ بارگاہ اقدس ہے جہاں بڑے بڑے قدسیوں کے پاؤں لرز جاتے ہیں۔ (ادبی نقوش صفحہ 284)۔ ۔ ۔ ۔ ۔

باقی مضمون وائس آف امریکہ کی اردو سائٹ پر ملاحظہ کیجیئے۔
Read On