متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ
السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ
Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts
ڈائری لکھنا7 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, June 16, 2010
ڈائری لکھنے کا شوق تو مجھے صرف اس لئے پیدا ہوا تھا کہ بچپن میں کئی کہانیوں میں پڑھا تھا کہ ہیرو کو کہیں کسی خفیہ خانے یا دراز میں سے ایک عدد پاگل سائنسدان یا بوڑھے جادوگر یا اسی طرح کے کسی کردار کی ایک خفیہ ڈائری مل جاتی تھی اور اس میں نلکا ٹھیک کرنے سے لے کر آبِ حیات پانے تک سب کا راز لکھا ہوتا تھا۔ سوچتا تھا کہ شاید اگر آپ ڈائری خرید لیں تو خود بخود ہی "راز کی باتیں" آپ پر آشکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور آپ بھی کوئی کیمیا گری کی کتابِ لکھ ڈالتے گے۔ لہٰذا سب سے پہلی کنواری ڈائری جو میں نے پہلے صفحے پر باقاعدہ اپنا نام لکھ کر شروع کی وہ بڑے بھائی کی خفیہ الماری سے چوری کی تھی۔ میرے بھائی کو کسی نے شاید تحفے میں دی تھی اور مجھے وہ بہت پسند تھی کیونکہ اس کے ورق روغنی تھے اور ان پر زیریں حاشیوں میں کارٹون نما کیڑے مکوڑے بھی بنے ہوئے تھے (کراٹین(یہ میں نے ابھی ابھی کارٹون کی جمع نکالی ہے) مجھے اب بھی پسند ہیں) اور سب سے بڑھ کر اس میں ایک عدد چھوٹی سی "تالی" بھی لگتی تھی جو کہ "پرائویسی" کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ میرے بھائی کو اس ڈائری کے بارے میں اس وقت پتا چلا تھا جب مجھے کم از کم ایک سال ہو چکا تھا اس ڈائری کو کالا اور نیلا کرتے ہوئے!۔
میں نے ڈائری میں ہمیشہ شاعری ہی لکھی، کبھی کسی ڈائجسٹ سے دیکھ کر کبھی کسی میگزین سے دیکھ کر، کالج کے زمانہ میں لاہور کے فٹ پاتھوں سے کتابیں خرید کر بھی۔۔۔۔خود سے نثر کبھی نہ لکھ سکا، کئی دفعہ سوچا کہ لکھوں لیکن بے سود ہی رہا۔ پتا نہیں کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنے روز کے معمولات ڈائریوں میں قلمبند کرتے ہیں، میرے شب و روز میں تو کوئی بات، کوئی واقعہ، کوئی قصہ ہی نہیں ہوتا تھا، بس گزر ہی جاتا تھا دن، اور تو کچھ نہیں ہوتا تھا! ایک دو دفعہ لکھنے کیلیے بیٹھا اور شروع بھی کیا: "میں آج صبح ساڑھے سات بجے اٹھا، باتھ روم گیا۔۔۔۔۔۔ سب کچھ کر کرا کے سکول چلا گیا۔ آٹھ پیریڈ کلاس میں یٹھا رہا۔ مِسیں اور سَر ور (یہ سَر کی جمع ہے: سَ+رُور ) آتے جاتے رہے۔ بیچ میں آدھا گھنٹا بریک بھی ہوئی جس میں میں نے سموسہ کھایا اور بوتل پی۔ کینٹین والے چاچا جی نے دو روپے بقایا دئیے۔ تھوڑا سی اچھل کود کی۔ گھر واپس آ گیا۔" اب مجھے بتائیں کہ اس میں لکھنے والی کیا بات ہے۔۔۔ میرے خیال میں سکول کے سب بچوں نے یہی کیا ہوگا۔ لہٰذا صفحہ پھاڑ دیا ۔ کبھی کبھار جو شاعری نوٹ کر لیا کرتا تھا وہ بھی کالج میں آکر تھوڑی کم ہوئی اور پھر یونیورسٹی میں بالکل ہی رہ گئی۔ حال ہی میں ایک نئی نکور ڈائری "پھانڈے" میں ملی تو پھر سے سوچاہم بھی اپنے دن رات کی روداد لکھتے ہیں کہ کیا پتا ایک وقت ایسا آئے کہ لوگ میری ڈائری کو کتابی صورت میں چھاپ دیں اور پھر درسی کتابوں میں میری خود نوشت سے اقتباسات شامل ہوں۔۔۔واہ واہ واہ۔۔۔۔ بس اسی‘ ممکنہ ضرورت’ کے پیشِ نظر میں نے کچھ عرصے تک اپنی "مستقبل کی تاریخ "خود تخلیق کی پر اب وہ بھی بلاگ کی طرح کبھی کبھار پہ ہی چلی گئی ہے۔ ۔۔ چلو باقی کا کام کسی "پروفیشنل" ادیب شدیب سے لکھوا لیں گے۔ یہ ساری بات تو میری اصل تحریر کا پیش لفظ یا تمہید تھی، جو ایک پیراگراف سے بڑھتے بڑھتے لمبی ہو گئی۔۔ اصل میں میں اپنی ڈائریوں سے انتخاب لکھنا چاہ رہا تھا۔ اب الگ پوسٹ میں چھاپوں گا۔ صرف ایک خوراک جوان بنائے، "گھوڑے" کیطرح؟9 تبصرہ (جات)۔ Friday, May 28, 2010
آپ نے اخباروں، رسالوں، کیبل کے چینلوں اور سڑکوں کے دائیں بائیں دیواروں پر اکثر اشتہار دیکھے ہوں گے جن میں قبلہ حکیم بڑے صاحب یا مولوی صاحب ڈلےّ والے یا ’مشہورِ زنانہ‘ عامل ناگی کالیا بنگالی وغیرہ ، اعصابی کمزوری یا مردانہ امراضِ خصوصی کے"تسلی بخش علاج" کی یقین دہانی اس جملے سے کراتے ہیں کہ ہماری فلاں دوا یا معجون یا طلا استعمال کرنے سے "مرد بالکل گھوڑے کیطرح جوان ہو جائے گا"۔۔۔۔۔۔ تو صاحبو! اگر خدانخواستہ کبھی کسی کو اس طرح کا کوئی معجون کھانا پڑ جائے تو استعمال سے پہلے قبلہ بہت بڑے حکیم صاحب سے یہ ضرور پوچھ لیجئے گا کہ یہ " گھوڑے" سے ان کی مراد کون سا گھوڑا ہے۔۔۔۔ خشکی والا یا سمندری!
یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ مردانہ کمیونٹی کیلئے بہت اہم ہے اور Worth asking ہے۔ اسکی وجہ سمندری گھوڑے کے بارے میں درج ذیل معلومات ہیں، جو کہ دلچسپ بھی ہیں اور عجیب بھی۔ ہوا کچھ یوں کہ کل ایک فلم میں سمندری گھوڑے کا حوالہ دیا گیا تو میں نے فوراً Sea Horse لکھ کر گوگل کیا۔ زیادہ تر معلومات وکیپیڈیا سے ہی پڑھی ہیں، اس کے علاوہ نیشنل جیوگرافک کی سائٹ بھی وزٹ کی تھی۔ سمندری گھوڑا جسے انگریزی میں Sea Horse کہتے ہیں دنیا میں پایا جانے والا واحد جانور ہے جس میں نر بچے پیدا کرتا ہے۔ سمندری گھوڑا (لاہور چڑیا گھر میں جو بڑا سا، بھدا سا جانور ہے وہ دریائی گھوڑا ہے، اس کے بارے میں یہاں دیکھیں) دراصل مچھلی کی ایک قسم ہے اور اس کا تعلق ہیپو کیمپوس Hippocampus جینس سے ہے۔جینس، فیملی اور اس طرح کی دوسری حیاتیاتی صف بندی کے بارے میں بڑی مشکل مشکل سی انگریزی اصطلاحات لکھی ہوئی ہیں ، وہ آپ اس ربط سے پڑھ سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں بنیادی معلومات کچھ اس طرح ہیں: سمندری گھوڑا ’پائپ فش‘ کے خاندان سے ہے، ان کے جسم پر سکیلز یا چھلکے نہیں ہوتے۔ ان کی جلد پتلی اور جسم کا ڈھانچہ رِنگز Rings یا چھلہ نما ہڈیوں سے بنا ہوتا ہے ۔سمندری گھوڑے کی تقریباً تیس اقسام ہوتی ہیں اور یہ ٹراپیکل اور درمیانے درجہ حرارت کے پانیوں میں پایا جاتا ہے۔ سمندری گھوڑے انتہائی سست تیراک ہوتے ہیں اور سمندر کی تہہ میں موجود سمندری گھاس اور چٹانوں (کورل وغیرہ) میں رہتے ہیں اور چھوٹے جاندار اور ننھے منےجھینگے(Shrimps) وغیرہ کھاتے ہیں۔ ان کی پیمائش یا سائز ڈھائی سینٹی میٹر سے لے کر تقریباً ایک فٹ تک ہوسکتا ہے۔ سمندری گھوڑا یعنی نَر ذرا "گھریلو" قسم کا واقع ہوا ہے اور اپنے علاقے سے زیادہ دور نہیں جاتا جبکہ مادہ یعنی سمندری گھوڑی بے لگام ہوتی ہے، اور "مرد" کے مقابلے میں تقریباً سو گُنا ریادہ رقبے میں گھومتی پھرتی ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ افزائشِ نسل کیلئے ایک ہی "بندے" پہ اکتفا کرتے ہیں۔ یعنی مونو گیمس (Monogamous) ہوتے ہیں اور ایک افزائشی موسم (یا باری) کیلئے جوڑا بنا کر رہتے ہیں۔ سمندری حیات خصوصاً مچھلیوں میں مادہ انڈے دیتی ہے اور نر سپرم(مادہ منویہ) کے اخراج سے ان کو فرٹیلائز کرتا ہے اور اس کے بعد یہ انڈے ماحول کے رحم و کرم پہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ لیکن سمندری گھوڑوں میں کچھ الٹ قسم کا معاملہ ہوتا ہے اور ما دہ جب انڈے دینے کے قابل ہو جاتی ہے تو وہ یہ انڈے ایک نلی نما ‘چیز’ اووی پوزیٹر Ovipositor کے ذریعے نر کے جسم کی اگلی جانب موجود ایک تھیلی یا Brood Pouch میں ڈال دیتی ہے۔ یہ انڈے جن کی تعداد 100 سے 200 تک ہو سکتی ہے (اوسطاً)، اسی تھیلی میں خودبخود فرٹیلائز ہو جاتے ہیں اور نر کے جسم سے ہی ان کو خوراک یا پرولیکٹن(Prolactin) ملتی ہے، پرولیکٹن وہ ہارمون Harmone ہے جو ممالیہ جانداروں میں دودھ پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس طرح" مردانہ حمل" کا یہ عمل جسے Gestationبھی کہا جاتا ہے، نر کے جسم میں ہی ہوتا ہے اور دو سے چھے ہفتوں کے بعد انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔اس دوران سمندری گھوڑی وقتاً فوقتاً گھوڑے کو "وزٹ" کرتی رہتی ہے۔ سمندری گھوڑا اعصابی سکڑاؤ (Muscular Contractions) کے عمل سے ان بچوں کو تھیلی سے باہر نکال دیتا ہے۔ پیدائش کے بعد یہ بچے سمندر کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔ اور گھوڑی اگلی باری کیلیے "پھر سے جوان" ہو جاتی ہے اور گھوڑا اس باری کا بار اٹھانے کیلیے تیار ہو جاتا ہے۔ (پوسٹ کا بنیادی مقصد معلوماتی ہے، تھوڑا بہت مزاحیہ پیرائے میں "ازراہِ مزاح" ہی لکھا گیا ہے۔ D:) بلاگستان میں ہم آہنگی5 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, May 25, 2010
پہلی نظر میں تو عنوان میں بلاگستان کی جگہ پاکستان نظر آتا ہے کہ مسائل اس میں بھی ہم آہنگی کے ہی پائے جاتے ہیں، یعنی ہم آہنگی نہ ہونے کے۔۔۔۔خیر، موضوع کی جانب آتے ہیں:
کچھ لوگ بلاگ لکھتے وقت ایک خاص ٹون اپناتے ہیں اور ان کے بلاگ کے حرف حرف سے کسی ایک خاص بندے کو نشانہ بنانے کی بُو اس قدر واضح طور پہ آ رہی ہوتی ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر لفظ کو ایک خاص تناظر میں ہی پڑھتے ہیں۔ اظہارِ خیال کا مقصد یہ ضرور ہے کہ آپ اپنے خیال کا اظہار کریں لیکن اگر کسی شخص کی کوئی مخصوص بات آپکو بری لگی ہے تو اس کا اظہار کرنے کے کئی ایک بہتر طریقے موجود ہیں۔ یہاں جو طریقہ رائج ہو رہا ہے اس میں آپ ہر بات ایک خاص انداز سے شروع کرتے ہیں اور اس انداز سے کہ ہر کوئی بخوبی اندازہ لگا سکے کہ آپ کس کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، یعنی کہ لوگوں کو اصل میں نظریے سے اختلاف نہیں بلکہ کسی ایک شخص کے اس نظریےکو پیش کرنے سے اختلاف ہوتا ہے۔۔۔۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اگر ایک بات آپکو بری یا غلط معلوم ہوتی ہے تو اپنے تبصرے یا پوسٹ میں اس بات کا ذکر کریں اور اس کی تردید کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔۔۔ چلیں اگر تڑکہ ہی لگانا ہے تو اس انداز میں لگائیں کہ بات میں مزاح یا طنز یا دونوں شامل ہو جائیں لیکن یہ جو "ٹارگٹ کلنگ" والا رویہ ہے یہ تو زیادتی ہے نا!!۔ میٹرک میں ہماری درسی کتاب میں ایک مضمون شامل تھا(ٹھیک سے یاد نہیں شاید سر سید احمد خان کا تھا)۔ اس میں بھی ایسے ہی رویے کا ذکر ہے، جو کہ پڑھے لکھے لوگوں میں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ان کی رائے سے اختلاف کرے اور خاصی واضح تصویر کشی کی گئی ہے اس طرح کے "ٹاکروں" کی اور اس کا موازنہ کتوں کی لڑائی سے کیا گیا تھا۔۔۔ گو کہ انٹرنیٹ آپ کو براہ راست گتھم گتھا ہونے سے بچا لیتا ہے لیکن منہ سے کف ، آنکھیں لال ، تیوریوں پہ بل، آستین چڑھی ہوئی بہرحال پوسٹوں سے بھی محسوس ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔ جہاں تک باہمی ہم آہنگی کی بات ہے تو جہاں دو آدمی ہوں گے وہاں دو رائے بھی ہو ں گی، اور یہی مختلف خیالات ہی مل کر تو اس دنیا کو مکمل کرتے ہیں۔ ع گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینتِ چمن بلاگنگ کا مقصد اپنے خیالات کو دوسروں تک رسائی دینا ہی ہے لیکن آپ یہاں دوسروں کی جڑیں کاٹ کر اپنے پودے کے چڑھنے کی امید نہیں رکھ سکتے۔ آپ سنییں گے تو ہی کوئی آپکی سنے گا۔ اگر آپ ایک پوسٹ میں کسی ایک مخصوص بات کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ ایک جہت تک محدود ہوتا ہے لیکن جب اس پہ مختلف لوگوں کے تبصرے آتے ہیں جن میں نئی نئی باتیں اور مزید کئی در وا کئے جاتے ہیں تو اصل میں آپ ہی کی ذہنی نشونما ہوتی ہے، اگلی بار جب کوئی نئی پوسٹ سامنے آتی ہے تو اس میں لا شعوری طور پر ان تبصروں سے حاصل کیا گیا کوئی نہ کوئی سبق ضرور شامل ہوتا ہے، یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے، خواہ وہ ایک" مسکراہٹ" کا اضافہ ہی کیوں نہ ہو! میرے نزدیک یہی وہ باہمی ہم آہنگی ہے جس کی ضرورت ہر اس جگہ ہے جہاں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم انیس، لگے نہ ٹھیس ان آبگینوں کو پہلا پہلا واقعہ10 تبصرہ (جات)۔ Thursday, April 22, 2010
ہمیشہ کی طرح میرے ذہن میں اس وقت کوئی تحریر جنم لیتی ہے جب میں کسی بلاگ پر جا کر تبصرہ کرتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس کو ذرا اور بہتر کر کے اپنے بلاگ پہ ہی پوسٹ دوں تو مزید لوگ مستفید ہو جائیں گے اور بلاگ بھی ہرا بھرا رہے گا۔۔۔
تو یہ قصہ ہے اس زمانے کا جب میں ایف ایس سی سے فارغ ہوا تھا (یعنی کہ صرف تین سال پرانا) اور اسلام آباد میں یونیورسٹی داخلے کیلئے <این او سی> چاہیئے تھا۔ چونکہ مجھے جی سی یو چھوڑے کچھ ماہ ہو چکے تھے اس لئے میں اپنے ہاسٹل سے بھی فارغ ہو چکا تھا۔ لہٰذا میں صبح سویرے لاہور روانہ ہوا ۔ جمعہ المبارک کا دن تھا۔ لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے دفتر پہنچا۔ میرے دوست نے مجھے بتایا تھا کہ صبح جا کر دفتر میں فارم پُر کر کے جمع کروا دینا اور تین چار گھنٹوں بعد آکر سرٹیفیکیٹ لے لینا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور فارم پُر کرکے جمع کروا دیا۔ کلرک نے کہا کہ فلاں بجے آکر لے لینا (مجھے ٹائم ٹھیک سے یاد نہیں)۔ میں وقتِ مقررہ پر آ گیا اور دفتر میں موجود ایک قدرے نوجوان کلرک سے اپنے سرٹیفیکیٹ کی بابت پوچھا۔ وہ صاحب بولے کہ اب تو دفتر کا وقت ختم ہو رہا ہے آپ کو سرٹیفیکیٹ دو دن بعد ہی ملے گا (کیونکہ اگلے روز ہفتہ تھا اور غالباً کوئی عام تعطیل تھی)۔ میں ایک دم پریشان ہو گیا کیونکہ میں دو دن وہاں رُک نہیں سکتا تھا اور سوموار کو میں نے اسلام آباد سرٹیفیکیٹ جمع کروانے جانا تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ مجھے یہی وقت دیا تھا اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں مل سکتا۔ وہ بولا کہ جن سرٹیفیکیٹس پر دستخط ہونے تھے ان پر پہلے ہی ہو چکے ہیں، اب مزید نہیں ہونگے کیونکہ دفتری اوقات ختم ہونے والے ہیں۔ میں نے اپنی مجبوری بیان کی کہ میں یہاں رک نہیں سکتا اور لالہ موسیٰ سے آیا ہوں۔ وہ بولا کہ آپ ایسا کریں کہ تین سو روپے دیں اور تین گھنٹوں بعد آ کر سند لے جائیں۔۔۔۔ میں نے کچھ سمجھی اور کچھ نا سمجھی کی کیفیت میں کہا کہ جو تین سو روپے فیس ہے اس سرٹیفیکیٹ کی، اس کا بینک چالان فارم میں نے لگایا ہے فارم کے ساتھ(اور پورا گھنٹا لائن میں لگ کے جمع کروائی ہے فیس!)۔ ۔۔۔بولا یہ نہیں اس کے علاوہ تین سو روپے مجھے دیں تو میں 3 گھنٹے بعد سند لا دوں گا۔۔۔۔ میں حیران پریشان کمرے سے باہر آیا اور سوچنے لگا کہ کیا اس شخص نے ابھی ابھی مجھ سے رشوت مانگی ہے۔۔۔۔! کیا رشوت ایسے مانگی جاتی ہے؟۔۔۔۔۔ میرا تو خیال تھا کہ ڈھکے چھپے انداز میں مانگتے ہوں گے اور کیا اس طرح تعلیمی اداروں میں براہ راست ایک سٹوڈنٹ سے۔۔۔۔۔! مجھے واقعی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ میں نے اپنے دوست کو فون کیا ور ماجرا بیان کیا۔ وہ بولا کہ یار ! مجھے تو آسانی سے مل گیا تھا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی کو کال کی اور پتا نہیں کیوں مجھے اپنی آواز میں نمی محسوس ہوئی (پتا نہیں میں اتنا اووَر رِی ایکٹ کیوں کر رہا تھا۔۔)۔۔۔۔ بھائی نے کہا کہ دوبارہ جا کر بات کرو۔ میں نے دل میں کیا دعا مانگی اور کیا الفاط دل سے نکلے یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن جب میں دوبارہ دفتر میں گیا تو وہاں اس ڈیسک پر اس لڑکے کی جگہ کوئی اور کلرک موجود تھا۔ میں نے دوبارہ سے اپنی درخواست دہرائی تو اس کلرک نے میری جانب دیکھا اور پوچھا کہ کب دے کر گئے تھے اپنا درخواست فارم؟ میں نے وقت بتایا تو اس نے ایک بڑی سی فائل میرے سامنے رکھی اور کہا کہ اس میں سے اپنا سرٹیفیکیٹ نکال لو اور یہاں دستخط کر دو۔۔۔۔۔! مین ایک دفعہ پھر حیران تھا لیکن اب کے میں پریشان نہیں تھا۔۔۔۔ یہ زندگی کا پہلا براہ راست واقعہ ہے اس سلسلے کا۔۔۔۔ مزید بھی لکھوں گا پھر کبھی۔۔۔ شعیب اور ثانیہ؛ دامادِ ہندوستان اور بہوٗ پاکستان8 تبصرہ (جات)۔ Thursday, April 8, 2010تقریباً ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا ہے کہ میڈیا میں ایک ہی بات کی لسّی بنائی جا رہی ہے اور وہ ہے جناب محترمی و مکرمی شعیب ملک سلّمہ’ کی شادی خانہ آبادی ہمراہ محترمہ آنسہ ثانیہ مرزا سلّمہَا جو کہ 15 اپریل 2010 بروز جمعرات کو ہونا قرار پائی ہے، اس معاملے کو وہ شہرت حاصل ہوئی ہے جو شاید عمران خان اور جمائما کو بھی نہیں ملی تھی۔ اور وجہ صرف اور صرف پاکستانی و بھارتی میڈیا۔۔۔۔۔۔ اس میڈیا وار میں پاکستانی میڈیا نے منہ توڑ جواب دیا ہے بھارتی میڈیا کو، اور ان سے بھی بڑھ کر ڈرامائی رنگ میں پیش کیا اس سارے معاملے کو، لمحہ بہ لمحہ۔۔۔۔۔
کبھی عایشہ صدیقی کا قصہ تو کبھی سیالی بھگت۔۔۔۔۔ کچھ اس کہانی میں ویسے ہی بڑے ٹوسٹ تھے کہ یہ خود ہی ایک سٹار پلس کے ڈرامے کی طرح آگے بڑھ رہی تھی، باقی کسر میڈیا پہ ہونے والے تبصرے و تجزیے پوری کر رہے تھے جیسے کوئی قومی سلامتی کا مسئلہ زیرِ بحث ہو!. پاکستانی قوم تو خیر ویسے ہی اس معاملے میں شعیب ملک کے ساتھ تھی اور "دل" سے چاہتی ہے کہ ثانیہ مرزا پاکستان کی اجتماعی بہو بن جائے۔ جیسا کہ ایک ایس ایم ایس میں محترمہ ثانیہ مرزا کو بھابھیٗ قوم کا توصیفی خطاب بھی دیا گیا ہے!۔ خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ " ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔ " ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔" "ثانیہ مرزا اپنے کمرے میں خوشی سے جھومتی پائی گئی ہیں"۔۔۔۔۔۔۔ اس حوالے سے ہم نے بات کرنے کیلئے اپنے سٹوڈیوز میں دعوت دی ہے مشہور رقاصہ محترمہ م،ن نرگس صاحبہ کو۔۔۔!" " شعیب ملک گھر سے نکلتے ہوئے پریشانی میں اپنے بال بنانا بھول گئے"۔۔۔۔ اسوقت ہمارے ساتھ آنلائن موجود ہیں مایا ناز ہیئر سٹائلسٹ جناب فلاں فلاں بوبی۔۔۔۔! "عایشہ صدیقی نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا"۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ موجود ہیں ماہرِ قانون فلاں فلاں طلاقی صاحب۔۔۔۔! اور ابھی تو اس ڈرامے کا ڈراپ سین یعنی شادی خانہ آبادی بھی باقی ہے۔۔۔۔۔ جب ن لیگ کی خواتین "غائبانہ مہندی" کی رسم ادا کر سکتی ہیں توشادی کے بعد کی رسومات کا کیا حال ہو گا، اس کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں۔ شعیب ملک کو ہنی مون منانے کیلئے گلگت بلتستان میں آنے کی دعوت تو دی ہی جا چکی ہے۔۔۔۔۔بس اب گلی گلی میں تہنیتی پیغامات کے بینر اور بورڈ لگانے کی کمی ہے، جو کہ ضرور پوری کی جائے گی کہ یہ تو ہماری قوم کا خصوصی مقابلہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کون محلے کی دیواریں زیادہ رنگین کرواتا ہے۔۔۔۔! موبائل فون سروس اور پاکستان5 تبصرہ (جات)۔ Thursday, March 11, 2010خبر ہے کہ سرحد اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے کہ تمام ایس ایم ایس اور "لیٹ نائٹ" کال پیکجز ختم کئے جائیں۔
دیکھا جائے تو یہ قوم کے انسانی و نسوانی و جوانی حقوق پر براہِ راست ڈاکہ زنی کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ قوم کے ‘کھل کر بولنے’، ‘سب کہہ دینے’ اور ‘اور سنانے’ کی دل پسند تفریح پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ہماری افسردہ و پژمردہ قوم کیلئے چند ایک ہی تو تفریحیں رہ گئی ہیں، اب ان پر بھی قدغن لگائے جا رہے ہیں۔ اس بھری دنیا میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھینچنے پر لگا ہوا ہے، ایک موبائل فون ہی تو دکھ درد کا ساتھی ہے جو ساتھ نبھاتا ہے ہر جگہ! اور تو اور اب تو موبائل فون ہماری عائلی زندگی میں بھی ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے زمانے میں آسمانوں پر بنے ہوئے رشتے ڈھونڈنے کا جو کام محلے کی خالائیں، آپائیں اور بُوائیں کیا کرتی تھیں، اب وہی کام با آسانی ایس ایم ایس سروس کر سکتی ہے۔ اور رہی بات لیٹ نائٹ کال پیکجز کی، یہ تو ‘انڈر اسٹینڈنگ’ پیدا کرنے کا ایک ایسا آسان طریقہ ہے جو ہماری مشرقی روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایجاد کیا گیا ہے کہ بغیر دیکھے اور بغیر ملے ہی آپ کو سب کچھ پتا چل جاتا ہے..!!. اب ذرا بات ہو جائے موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی، تو جناب یہ تو ان کا فرضِ عین ہے کہ قوم کو وہ وہ سہولیات بھی فراہم کی جائیں جنکی انہیں ضرورت نہیں ہے(لیکن ظاہر ہے کبھی بھی مستقبل قریب میں پڑ سکتی ہے)!۔ پہلے پہل تو جب آپ کال سینٹر کا نمبر ملاتے تھے تو ایک جذبات سے عاری مشینی آواز آپ کو ہدایات دیتی تھی لیکن اب تو بھائی اس میں بھی حتی الامکان جذباتیت بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انسانوں کو مشینوں کے ذریعے ‘سیٹسفائی’ کرنے کا جو کام مغرب میں عام ہے، اب یہاں بھی فی الحال آواز کی شکل میں دستیاب ہے۔ نہیں یقین تو ذرا ٹیلی نار کی ہیلپ لائن 345 ڈائل کیجئے۔ پہلے آواز آیا کرتی تھی کہ یہ کرنے کیلئے وہ دبائیں، وہ کرنے کیلئے یہ دبائیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب خاصی جذباتی سی دوشیزگی بھری آواز میں یہ کہا جاتا ہے کہ: ’’ مجھ سے یہ کروانے کیلئے وہ دبائیں! ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے وہ کروانے کیلئے یہ دبائیں! ۔۔۔۔یا اور کوئی سہولت حاصل کرنے کیلئے بس کان میں بتا دیں!!!۔۔۔‘‘ اب یقیناً باقی سروسز کی طرف سے اس ‘‘خصوصی پیکج’’ کو کاٹنے کیلئے آنے والے اقدامات کا انتظار رہے گا اور امید بھی کچھ زیادہ کی ہے!!!۔ کھٹا میٹھا2 تبصرہ (جات)۔ Thursday, October 15, 2009 بہت دن ہوئے کچھ پوسٹ نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ کچھ تصاویر ہیں پیارے پاکستان کے پیارے لوگوں کی۔ ۔ ۔یہ پہلی تصویر ہماری قوم کی ایک ترقی پسند " سوزوکی " کی پشت پہ لکھا ایک خوبصورت فلمی ڈائلاگ ہے۔ ۔ ![]() یہ تصویر (نیچے) پٹرول کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث، آمد و رفت کے ایک قدیمی ذریعہ کو پروموٹ کر رہی ہے اور اس میں خاص پات یہ بتائی گئی ہے کہ جو پیسہ آپ پٹرول سے بچائیں گے، اس کو آپ " مِس کالیں" مارنےجیسے ضروری کام میں استعمال کر سکتے ہیں!!۔ ![]() یہ تصویر پاکستان کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے ایک نہائت اہم قدم کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ عام آدمی کی سہولت کیلئے اب کمپیوٹر تول کر بھی خریدے جا سکتے ہیں تا کہ آپ کو پینٹئم 4 کی قیمت میں اصلی اور خالص پینٹئم 4 ہی ملے۔۔۔۔ یہ آفر یقیناً محدود مدت کیلئے ہو گی، اور یقین جانئے یہ بہت جائز قیمت ہے۔۔۔اتنے میں تو آجکل آٹا بھی نہیں مل رہا۔ ۔۔ ۔ میں تو 15،20 کلو خریدنے کا ارادہ کر رہا ہوں ۔۔ ۔ !۔ ![]() یہ تصویر پاکستان میں فیشن کے بڑھتے ہوئے اثرات اور عام آدمی میں جدید فیشن کی دوڑ میں شامل ہونے کی لگن کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور " ہیڈ ویئر" بنانے والی انڈسٹری کیلئے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ یا یہ محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے کہ بندہ اس مین الٹا گر گیا ہو!۔۔۔۔ ![]() اور یہ والی تصویر پاکستانی عوام کی طرف سے تمام " طاغوتی" طاقتوں، جو کہ میلی آنکھ اٹھا کر ہماری طرف دیکھنے کی غلطی نہیں بلکہ غلطیاں کرتے ہیں، ایک واضح تنبیہہ ہے۔ ۔ ۔ارے ظالمو! تم ایک ایسی قوم سے پنگا لے رہے ہو جو " ایٹم بم سری پائے" جیسے خطرناک اور توانائی بخش " نیوکلر وار ہیڈ" روزانہ ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔۔ ۔ ۔ ۔!۔ ![]() معصومیت3 تبصرہ (جات)۔ Saturday, October 3, 2009آج کل اگر بچوں کو پرانی کہانیاں سنائی جائیں تو ان کو کسی بات کا یقین نہیں آتا۔ طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، یہ کیسے ہوا؟ وہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسے کیسے پتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ایک ہم تھے کہ مجال ہے جو یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ " پودنے " کے کان میں اتنے سارے جانور کیسے آ سکتے ہیں اور یہ " پودنا" ہوتا کیا ہے! میں نے اپنے بھتیجے سے یہ کہہ دیا کہ یہ جو کارٹون میں روبوٹ دکھائے جاتے ہیں ، یہ اصل میں ایسے نہیں ہو تے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ٹونٹی سیکنڈ سینچری کے روبوٹ ہیں، جب ہم وہاں جائیں گے تو ایسے ہی ہوں گے!! اس کی عمر محض ساڑھے پانچ سال ہے اور اسے یہ لفظ تو پتا ہے لیکن اس کا مطلب بالکل نہیں پتا۔ ۔ ۔۔ ہاں، جیسے اس نے یہ بات بتائی ہے اس سے اس کے اس بات پہ یقین میں کوئی شک ظاہر نہیں ہوتا۔ الف لیلیٰ میں الہٰ دین کے قالین کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ اس کی سپیڈ یعنی رفتار کتنی تھی!۔ ۔ ۔ ۔ کیا عمرو عیار کی زنبیل میں صوفہ سیٹ، چاچو کی گاڑی، فریج اور ہوائی جہاز آ سکتے تھے؟۔ ۔ ۔ ۔ یہ دیو کیا ہوتا ہے؟ کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیا اس نے الہٰ دین پہ میزائل سے حملہ کیا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو پانی کی بوتل بھی وہ پسند کرتے ہیں جس میں بٹن دبانے سے ڈھکن کھلتا ہے۔۔ ۔۔ ۔ !! The Terminal اردو سب ٹائیٹلز5 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, September 9, 2009میں کافی عرصے سے فلم دی ٹرمینل کے اردو سب ٹائیٹلز بنانے کا کام شروع کئے ہوئے تھا لیکن مناسب وقت نہ دینے کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہو رہا تھا۔ پورے ایک مہینے کے وقفے کے بعد میں دوبارہ کمر کس کے میدان میں اترا اور دو ہی دنوں میں بقیہ کام تمام کر لیا۔ اردو سب ٹائیٹلز لکھنے کا شوق مجھے عمار ابنِ ضیاٗ کے ٹیکن فلم کے ٹائیٹلز دیکھ کر پیدا ہوا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت مشکل ہو گا اور اس میں کوئی پیچیدہ تکنیکیات شامل ہوں گی یا کوئی خاص قسم کا سافٹویئر درکار ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جہاں تک انگریزی سب ٹائیٹلز کی فائل کے مطابق اردو ترجمہ کرنے کی بات ہے تو یہ کوئی بھی آرام سے کر سکتا ہے(بہت ہی زیادہ آرام آرام سے، میری طرح!!) ، بس ترجمہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مستقل مزاج افراد کیلئے خصوصی آسانی ہو گی۔
اس کام میں عمار بھائی نے میری بہت مدد کی ہے جس کیلئے میں نہایت مشکور ہوں۔ اب جبکہ یہ کام مکمل ہو گیا ہے گو کہ اس میں کچھ کمیاں اور کوتاہیاں باقی ہیں لیکن میں نے فی الحال ان کو خاطر میں نہیں لایا اور سب ٹائیٹلز کو اپلوڈ کر دیا ہے، میں نے اپنے گھر میں اور چند ایک دوستوں کو بتایا تو ایک ہی سوال میرا منتظر تھا "اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو ا؟"۔۔۔۔۔۔۔ یا " اس سے تمہیں کیا ملے گا؟"۔۔۔۔۔" اتنا وقت ضایع کیا، کچھ اور ہی کر لیتے!"۔۔۔۔۔۔ مجھے ان سوالوں کا جواب نہیں پتا۔۔۔۔ آپ بتائیے!۔۔۔ خیر یہ تو بس ویسے ہی میں نے بر سبیل التذکرہ لکھ دیا ہے۔۔۔ فلم کا تھوڑا سا تعارف میں نے اردو محفل میں لکھا ہے، وہی چھاپ دیتا ہوں: "یہ فلم ٹام ہینکس کی ہے جو کہ ایک مشہور اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں۔ فلم کے ہدایت کار سٹیون شپیلبرگ ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار (ٹام ہینکس) ایک ایسے وقت میں امریکی ہوائی اڈے پر اترتا ہے جب اس کا ملک ‘کراکوژیہ’ اندرونی بغاوت کا شکار ہوتا ہے اور اس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی باغی شبخون مار کر حکومت کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے ملک کا وجود اب نہیں رہا، لہذا اس کی شہریت اب مشکوک ہو چکی ہے اسلئے اب اسے نیویارک میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اور ملکی حالات کی وجہ سے اسے ڈی پورٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اسے عارضی طور پہ اسی ہوائی اڈے کے بین الاقوامی لاؤنج میں رکنا ہو گا تاوقتیکہ معاملہ اوکے نہ ہو جائے۔ ایک ایسا شخص جو انگریزی زبان سے نا آشنا ہے، لوگوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتا ہے۔"۔۔۔ مزید معلومات یہاں پہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ فلم کی ٹورنٹ فائل یہاں سے اتاری کی جا سکتی ہے اور اردو سب ٹائیٹلز یہاں سے۔ امید ہے یہ کوشش آپ سبکو پسند آئے گی۔ کثیر الشخصیاتی عارضہ0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, September 8, 2009کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے متعلق شاید آپ نے سنا ہو، کم از کم وہ خواتین و حضرات جو ہالی وڈ کی فلموں کا ذوق رکھتے ہیں وہ ضرور واقف ہوں گے کیونکہ کئی فلمیں اس موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ یہ والی اور یہ والی۔
یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اور جیسا کہ نام سے ہی حاضر ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ ایک شخصیت کی بجائے کئی شخصیات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شخصیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں اور انسان کسی ایک یا زیادہ شخصیات کے اثر میں رہتا ہے۔ ان مختلف شخصیات کو انسان کا ‘ آلٹر’ (Alter) یعنی ‘متبادل’ کہا جاتا ہے۔ اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، اگر دیکھا جائے تو ہم بحیثیت قوم اصل میں اسی عارضے کا شکار ہیں۔ ہماری شناخت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ کبھی ہم مسلمان ہوتے ہیں، کبھی پاکستانی، کبھی سندھی، پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوتے ہیں، کبھی شدت پسندی غالب آ جاتی ہے تو کبھی روشن خیالی، اور بعض اوقات ہم کچھ بھی نہیں ہوتے! کچھ دن پہلے میں نے ایک انگریزی ناول نگار سڈنی شیلڈن کا ایک ناول پڑھا جو کہ اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی ہیروئن بھی کثیرالشخصیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے اور کئی متصادم شخصیات کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ ان منفی شخصیات کے زیرِ اثر وہ کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام ‘متبادلوں’ کو آمنے سامنے لایا جائے اور ان کے درمیان مباحثہ ہو اور ان سب میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تا کہ کئی شدت پسند شخصیات کی بجائے ایک متوازن اور مکمل شخصیت کا ظہور ہو۔ یہی ہمارا بھی علاج ہے۔ گرینڈ کوئز0 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 15, 2009یار بھلا اتنا مشکل کوئز بھی کوئی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ؟ سر کو بھی پتا ہے کہ اس ایک ٹاپک کے لئے ایک دن تو کیا پوری زندگی کی تیاری بھی کم ہے!!
صحیح کہہ رہے ہو، چلو سارا نہ سہی، کوئی ایک دو سوال تو بتا ہی دینے چاہئیں۔ ۔ ۔ بندہ انہی کو رٹّ لے۔ دوستو! ۔ ۔ ۔۔ ۔ پہلے میں اپنا سانس درست کر لوں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ کیا سر نے کوئز کینسل کر دیا۔ ۔ ۔ ؟! ارے نہیں یار! ایک سینئر نے( گیس ) guess بتایا ہے کل کے کوئز کے بارے میں۔ جلدی بتا یار۔ ۔۔ ۔ چلو کچھ تو آسرا ہوا۔ ۔ ۔ میرے بھائی گیس ہے، کوئی پکی بات نہیں ہے۔ ۔۔ ! خیر اب اسی کا رٹّا لگا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ کچھ تو جواب دینے کے قابل ہو ہی جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا سوال: کیا آپ نے اپنے ربّ کے حکم کے مطابق، اس کی رضا و ثنا کے لئے نماز قائم کی؟ یہ۔ ۔ ۔ یہ سوال ۔ ۔ ۔یہ سوال تو مجھے پتا ہی نن۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ اس سوال کا تو مجھے پتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ شروع سے ہی پتا تھا۔ ۔ ۔ تمام مخلوق سے سینئر خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ نے (گیس ) نہیں بلکہ یقینی بتا دیا تھا کہ سوالنامے کا پہلا سوال یہی ہو گا ۔ ۔ ۔۔ ۔ کیا ساری زندگی میں یہ ایک معلوم سوال بھی تیار نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
خوش آمدید
بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
پیش لفظ: اس بلاگ کو بہترین حالت میں دیکھنے کیلئے اردو نستعلیق فونٹ اوپر دئے گئے ربط(لنک) سے ڈاؤنلوڈ فرمائیں۔ آپ نے ’قِصہ چہار درویش‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہو گا، ہو سکتا ہے پڑھا بھی ہو(میں نے صرف سنا ہی ہے!۔)۔ قصہ لکھنے والے اِس پانچویں درویش کو بھول گئے، لہٰذا اسے خود ’کِی بورڈ‘ سنبھالنا پڑا۔ بلاگ کے کنٹینٹ (Content)کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایک نوجوان کے دماغ میں جو کچھ بھی آ سکتا ہے وہ اس بلاگ پر چھَپ جائے گا۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ولسلام زمرہ جات / ٹیگز
مفید اُردو ویب صفحاتپسندیدہ بلاگز
Email کے ذریعے سبسکرائب کریںدوست احبابلائیو ٹریفک فیڈ
اس بلاگ کے جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں. Powered by Blogger.
|









