متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ

السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts

ڈائری سے انتخاب -1

9 تبصرہ (جات)۔ Saturday, June 26, 2010
وقت ایک ایسا درخت ہے جس کی ہر شاخ پر نئے رنگ کا پھول کھلتا ہے اور جسکے ہر پھل کا ذائقہ دوسرے سے جدا ہے۔اس کا اندازہ مختلف ادراو میں لکھی گئی مختلف ڈائریوں کو پڑھ کر ہوتا ہے، اور بندہ سوچتا ہے کہ کیا یہ اس کی ہی سوچ تھی۔۔۔!
پہلی ڈائری میں 2001ع میں لکھے گئے اشعار سے انتخاب:
آغاز میں علامہ اقبالؒ کے نعتیہ اشعار۔۔۔۔
وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طہٰ
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
شروع میں میرا شاعری پڑھنے کا واحد ذریعہ گھر میں آنے والے ڈائجسٹ اور رسالے ہوا کرتے تھے۔
پتا نہیں کونسے رسالے سے لکھے تھے یہ والے انقلابی اشعار:
کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم
مانا کہ اس جہاں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار تو کم کر گئے گزرے جہاں سے ہم
ساحر لدھیانوی
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
بھوک چہروں پہ لئے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے، بچے
ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
بیدل حیدری
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
تسلیم کے رات اندھیری ہے
آلام کی گھمن گھیری ہے
تیرا تن زخموں سے چور بہت
تیرا دل غم سے رنجور بہت
میرا تن ، من، دھن تجھ پر قربان
اے کعبہ دل، اے معبدِ جان
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جس دھول کی مٹی سے ہوا قافلہ اندھا
خود قافلہ سالار کی ٹھوکر سے اُڑی ہے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا
میری اذان سے جوشِ بلال مت چھینو
ابھی کتاب نہ چھینو تم ان ہاتھوں سے
ہمارے بچوں کا حسن و جمال مت چھینو
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اور میری بہت پسندیدہ نظم ، غالباً ابنِ انشا کی ہے:
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ہر اک شے پہ مگر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلا لگا ہے اسی شان سے
جو چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں
جو چاہوں تو سارا جہاں مول لوں
نارسائی کا جی میں اب دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا الہڑ سا لڑکا کہاں
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
چند مزید اشعار:
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے یاتھ بھیگ کر سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر کے بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
نا معلوم
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
حیرت سے دیکھیں قبر کے تازہ اسیر کو
سارے سوال بھولے ہیں منکر نکیر کو
اپنی ہی خواہشات کا کرنے لگا طواف
کس کی نظر لگی ہے بشر کے خمیر کو
جان کاشمییری
:::::::::::::::::::::::::::::::::::
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم
ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم پر بھی انسان
بہت خوشی میں بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
امجد اسلام امجد
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اور آخر میں طارق عزیز شو میں بیت بازی کے دوران نوٹ کیے ہوئے دو اشعار:
نظر اٹھا کر کھلا آسمان دیکھتے ہیں
جو لوگ اڑ نہیں سکتے اڑان دیکھتے ہیں
:::::::::::::::::
کبھی رحمت تڑپتی ہے کہ کوئی آسرا مانگے
کبھی بے آسرا ہو کر دعائیں لوٹ آتی ہیں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: (باقی آئیندہ)
Read On

بڑا بول

15 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 25, 2010
آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ اس میں غلط کیا ہے اگر کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ میں اپنے زورِ بازو پر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میں کسی کی سفارش نہیں لگواؤں گا اور خود اپنے لئے راستہ بناؤں گا۔ مجھے ان وزیروں مشیروں کی سفارشیں نہیں چاہئیں۔
غلط۔۔۔۔۔؟ نا مجھے تم یہ بتاؤ کہ اس میں صحیح کیا ہے؟؟
یہ جو تم ڈگریوں کے بل پر بول رہے ہو نا یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ہمارے لئے۔ ایک سیٹی بجائیں تو ہزاروں ڈگریوں والے ناک گھستے پہنچ جائیں گے۔ یہ جو تم اونچا بولتے ہو ناں۔۔۔ سب نکل جائے گا باہر۔ ہواؤں میں اڑتا ہے آجکل۔۔۔۔ کہتا ہے خود جاب ڈھونڈوں گا۔ رُلتے پھرتے ہیں تمہارے جیسے سڑکوں پہ۔۔۔
پرسوں والی بات بھول گئے کیا؟ ۔۔۔۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی جاب تھی۔۔ صرف ملتان میں کوئی پندرہ سو آدمی امتحان دینے آئے تھے۔ باقی پنجاب کے ضلعوں کا حساب آپی لگا لو۔۔۔ صرف 11 بندے رکھنے ہیں گورنمنٹ نے۔۔۔ اوران میں سے بھی کئی تو امتحان سے پہلے ہی رکھے جا چکے ہیں۔ آخر سب وزیروں شزیروں کا دل کرتا ہے کہ ان کا کزن کُزن اس پو سٹ پہ لگے۔۔۔۔۔ باقی جو ان ہزاروں میں سے دو چار رکھنے ہیں، کیا وہ تمہارے جیسے ہوں گے۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ بات تو ایسے کرتے ہیں جیسے پتا نہیں کونسی پی ایچ ڈیاں کرتے پھرتے ہیں۔
شکر کرو کہ ہمارے تعلقات ہیں "اُچے " بندوں میں۔ وہ بھول گئے چاچے خالد کا بیٹا واپڈہ میں ہے جو، کب سے کوشش کر رہے تھے کہ لاہور ٹرانسفر ہو جائے، آخر بڑے شہروں یں "مواقع" ہوتے ہیں نا جی۔۔۔ سب چاہتے ہیں وہیں آ جائیں۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو آسان کام تھا لیکن اللہ پاک کی خصوصی مہربانی سے ایک دو دفعہ کہا اور ہو گیا۔ بس جی! جو بیٹھے بٹھائے مل جائے اس کی تو قدر ہی نہیں ہے نا انہیں۔ یہ جو چاچے رمضان کا بیٹا گیا تھا نا امتحان دینے، ہم نے دی تو ہے عرضی۔۔۔ بس جی اللہ ہی عزت رکھنے والا ہے۔
میرے بھائی تمہیں نہیں پتا یہاں سب ایسے ہی ہوتا ہے۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو ایسے ہی کرنا ہوگا جی۔ آ جاؤ گے تم بھی لائن پر۔
یہ جو تمہارا بھائی شور مچا رہا ہے نا کہ میں تمہارے وزیروں کی شفارش نہیں لگواؤں گا، میرے لئے نوکریاں بہت ہیں۔۔۔۔ یہ سب دو دن کی بات ہے۔ دیکھ لینا تمہاری نوکریاں بھی انشا اللہ ہم ہی لگوائیں گے۔ یہ جو تم لوگ وزیروں کو کوستے رہتے ہو ناں۔۔۔ تم پڑھ لکھ کر جو زیادہ " بڑا بول" سیکھ جاتے ہو نا۔۔۔ تم بھی ادھر ہی ہو اور ہم بھی ادھر ہی ہیں۔۔۔ دیکھتے ہیں خود لگتے ہو یا ہم لگواتے ہیں۔۔۔!

**بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا جج صاحب!
Read On

نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!۔

0 تبصرہ (جات)۔ Thursday, December 31, 2009
نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!
میرے آنسوؤں کے شکستہ نگینے
میرے زخم در زخم بٹتے ہوئے دل کے
یاقوت ریزے
تری نذر کرنے کے قابل نہیں ہیں
مگر میں
(ادھورے سفر کا مسافر)
اجڑتی ہوئی آنکھ کی سب شعائیں
فِگار انگلیاں
اپنی بے مائیگی
اپنے ہونٹوں کے نیلے اُفق پہ سجائے
دُعا کر رہا ہوں
کہ تُو مسکرائے!
جہاں تک بھی تیری جواں روشنی کا
اُبلتا ہوا شوخ سیماب جائے
وہاں تک کوئی دل چٹخنے نہ پائے
کوئی آنکھ میلی نہ ہو، نہ کسی ہاتھ میں
حرفِ خیرات کا کوئی کشکول ہو!

کوئی چہرہ کٹے ضربِ افلاس سے
نہ مسافر کوئی
بے جہت جگنوؤں کا طلبگار ہو
کوئی اہلِ قلم
مدحِ طَبل و عَلم میں نہ اہلِ حَکم کا گنہگار ہو
کوئی دریُوزہ گر
کیوں پِھرے در بدر؟

صبحِ اول کے سورج!
دُعا ہے کہ تری حرارت کا خَالق
مرے گُنگ لفظوں
مرے سرد جذبوں کی یخ بستگی کو
کڑکتی ہوئی بجلیوں کا کوئی
ذائقہ بخش دے!
راہ گزاروں میں دم توڑتے ہوئے رہروؤں کو
سفر کا نیا حوصلہ بخش دے!
میری تاریک گلیوں کو جلتے چراغوں کا
پھر سے کوئی سِلسلہ بخش دے،
شہر والوں کو میری اَنا بخش دے
دُخترِ دشت کو دُودھیا کُہر کی اک رِدا بخش دے!

محسن نقویؔ
Read On