متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ
السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ
Showing posts with label فلم. Show all posts
Showing posts with label فلم. Show all posts
کارٹون کہانی9 تبصرہ (جات)۔ Thursday, July 8, 2010
جب ہم چھوٹے تھے تو پی ٹی وی کا زمانہ ہوا کرتا تھا جس پہ سہہ پہر تین بجے نشریات کا اغاز کیا جاتا تھا اور قاری سید صداقت علی کے ’اقرا ‘ کے بعد کارٹون لگا کرتے تھے۔ ہماری واحد تفریح وہی کارٹون ہوا کرتے تھے۔ یا پھر صبح صبح سات بجے والے مختصر کارٹون ہوا کرتے تھے لیکن وہ ہم عام طور پر نہیں دیکھ پاتے تھے کیونکہ ہمارا اسکول ذرا دور تھا اور ہمیں سکول بس لینے آ جاتی تھی۔ "کیپٹن پلا نِٹ" (اس وقت Planet کو پلانِٹ ہی یاد کیا ہوا تھا)، وولٹران، ہِی میں اور کونین ہی ہمارے خوابوں کی دنیا میں بستے تھے۔ میرے پسندیدہ کیپٹن پلانٹ تھے۔ یہی تین چار کارٹون اور ان کی وہی تین چار اقساط بار بار دیکھ دیکھ کر یاد بھی ہو گئی تھیں۔ وقت نے انگڑائی لی اور چھتوں پہ لگے اَنٹینے بدلنے لگے۔ یو ایچ ایف اور وی ایچ ایف کا کوئی الٹ پھیر چلنے لگا جو کہ اس وقت بھی میری سمجھ سے باہر تھا اور اب بھی۔ این ٹی ایم، شالیمار نیٹ ورک وغیرہ تشریف لانے لگے اور پھر بعد میں پی ٹی وی ورلڈ آنے لگا۔ اس وقت تک کارٹونوں نے واحد اردو سیریز ’ٹریژر آئیلینڈ‘ تک ترقی کر لی تھی۔ جس کو دکھا دکھا کر وہ بھی بچوں کو زبانی یاد کروا دی گئی تھی۔ ہمارے ہمسائے میں جو گھر تھا انہوں نے اس زمانے میں ڈش اینٹینا لگوایا ہوا تھا اور وہاں سونی ٹی وی اور زی ٹی وی آیا کرتے تھے۔ سونی پر کارٹونوں کا خصوصی انتظام تھا اور وہ ہندی (یعنی اردو میں!)میں لگتے تھے۔ ہمین بھی کبھی کبھی موقع مل جایا کرتا تھا دیکھنے کا۔ وہاں ڈزنی کے کارٹونوں سے شناسائی ہوئی۔ الہ دین، لٹل مرمیڈ، گوفی اور دیگر سے تعارف ہوا۔ یہ بھی اچھے لگنے لگے۔ اردو میں کارٹونوں کا اپنا مزہ تھا۔ مجھے گھوسٹ بسٹرز بہت پسند تھے۔ لیجئے جناب! اچانک ہی کیبل کا زمانہ آگیا۔ ٹانواں ٹانواں کیبل لگنے لگی، میرا بھائی کبھی کبھی چھت سے گزرتی کیبل پر ’کنڈی‘ لگا کر مستفید کر دیا کرتا تھا۔ پھر محلے کے گھروں میں کیبل لگنا شروع ہوئی تو ہمارے ہاں بھی آ گئی۔ اس زمانے میں میں کالج میں تھا شاید، لہٰذا دیکھنے کا شوق ختم ہو چکا تھا۔ طویل عرصہ ان کارٹونوں کی دنیا سے دور ہی گزرا۔ بھائیوں کی شادیاں ہوئیں اور پھر بھتیجوں کی آمد ہوئی۔ بس پھر کیا تھا، ایک ایسا دور شروع ہوا جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ہمارے گھر میں ایک ٹی وی جو کہ بھائی کے کمرے میں ہے اس پر صرف ایک ہی چینل لگتا تھا اور وہ تھا کارٹون نیٹ ورک۔ وہاں بیٹھے ہر شخص کو، بلا تخصیص جنس و عمر کارٹون ہی دیکھنے پڑتے ہیں۔ میں جب بھی بیٹھ جاتا تو پھر سب کے سونے کے بعد ہی اٹھتا۔ مجھے پھر سے کارٹونوں کی دنیا مل گئی تھی اور اس دفعہ یہ دنیا چار قسطوں پہ مشتمل نہیں تھی بلکہ ہزاروں کی تعداد میں کارٹون موجود تھے۔ ایک سے ایک نرالا، ایک سے ایک رنگین۔ ایسے کارٹون بھی تھے جو صرف شرارتی تھے، ایسے بھی تھے جو صرف پڑھاکو تھے۔ زنانہ کارٹون بھی وافر تعداد میں موجود تھے۔
پہلے بچے جو کارٹون بھی ملتا تھا اس کو پسند کر لیتے تھے۔ انتخاب آسان تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا، بچے ہزاروں میں سے کسی ایک دو کو ہی پسند کرتے یں، نت نئے کارٹون چینلز کی بدولت بچے بھی بالکل بڑوں کی طرح ایک سے دوسرے پہ منتقل ہوتے ہیں۔ تھوڑا اسا دیکھا، اچھا لگا تو ٹھیک ورنہ بدل ڈالو! بھلا ہو ہمارے پڑوسی ملک کا اب تو ہندی یعنی اردو میں بھی کئی کارٹون چینل ہیں۔ وقت کی ضرورت تھی، انہوں نے اپنا لی اور چونکہ یہاں بھی وقت کی ضرورت تھی لہٰذا ہم نے چرُا لی( یا ادھار لے لی)۔ بچے ان کارٹونوں کی زبان بہت زیادہ سمجھتے ہیں۔ میرا ایک بھتیجا کثرتِ کارٹون بینی کے باعث خود بھی ایک کارٹون بن گیا ہے۔ بڑے ایکشن مارتا ہے، بڑے ڈائلاگ رٹتا ہے۔ اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی، اسے یہ بھی پتا ہے کہ ہم اس وقت 21ویں صدی میں ہیں اور جو ڈوریمان روبوٹ ہے وہ 22ویں صدی سے آیا ہے۔ اسے یہ بھی پتا ہے کہ یہ کارٹون ہیں اور حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ یہی خواہش رکھتا ہے کہ 22ویں صدی میں ایسا ہو جائے! اب چونکہ اینی میٹڈ فلموں کا زمانہ ہے اور میں اینی میٹڈ فلمیں بہت شوق سے دیکھتا ہوں، اور میرے گھر میں سبھی اینی میٹڈ فلموں کا تھوڑا بہت ششوق رکھتے ہیں ،اس کی وجہ میرے بھتیجوں کی زبر دستی کی کارٹون نشریات ہے جو گھر میں چلتی رہتی ہے۔ اسی لئے فلمستان پر بھی ایک اینی میٹڈ فلم "ٹوائے سٹوری 3" پر تجزیہ لکھا ہے۔ اس کے پہلے دونوں پارٹ میں اپنے بھتیجوں کے ساتھ پچھلے ہفتے ہی دیکھ چکا ہوں۔ تیسرا پارٹ بھی ڈاؤنلوڈ کیا اور نا چاہتے ہوئے بھی کیم پرنٹ میں دیکھ لیا۔ :(۔ تجزیہ پڑھنے کیلئے فلمستان پر جائیں۔ فلمستانی پوسٹ9 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 11, 2010
اس تحریر کا بنیادی مقصد فلمستان پر میری پوسٹوں کو "ری پوسٹ" کرنا ہے۔ فلمستان محترم ابو شامل کا فلمی بلاگ ہے جس پر انہوں نے کئے بلاگر ساتھیوں کے ساتھ فلموں پر تجزیوں اور تبصروں کا سلسلہ شروع کیا ہے,اور مجھے بھی لکھنے کی اجازت دی ہے۔ ایسے بلاگ بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں جن پر مخصوص موضوعات کا ہی احاطہ کیا جائے۔ خاص طور پر اردو بلاگنگ میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ موضوعاتی بلاگ کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔ اردو بلاگنگ میں فی الحال ذاتی بلاگ، یا مکس پلیٹ یا حالاتِ حاضرہ کے بلاگ زیادہ ہیں۔
فلمستان پہ اب تک میں دو تحاریر یعنی دو فلموں کا تجزیہ لکھ چکا ہوں۔ ذیل میں ان دونوں پوسٹوں کے اقتباسات اور اصل پوسٹ کا لنک موجود ہے: نیک، بد اور بدصورت یعنی The Good, The Bad and The Ugly(اطالوی نام: Il buono, il brutto, il cattivo) ایک پرانی کلاسیک اطالوی اور مغربی اسپیگھٹی طرز کی فلم ہے۔ سن 1966ء میں بننے والی فلم کے ہدایت کارSergio Leone اور ستاروں میں کلنٹ ایسٹ ووڈ(Clint Eastwood) ، لی وین کلف (Lee Van Cleef) اور ایلی والچ(Eli Wallach) شامل ہیں۔ یہ فلم تین فلموں پر مبنی “ڈالر سیریز” کی آخری فلم ہے۔ فلم کی کہانی تین بندوقچیوں کے گرد گھومتی ہے، جو چوری کے مال پر مشتمل ایک مدفون خزانے کی تلاش میں ایک دوسرے سے بازی لینے کے چکر میں رہتے ہیں۔ فلم امریکی خانہ جنگی کے زمانے میں لے جاتی ہے جہاں ایک اشتہاری چور اور قاتل (The Ugly, ایلی والچ) کو ایک بہترین نشانے باز (The Good, کلنٹ ایسٹ ووڈ) پکڑوا دیتا ہے اور اہلکاروں سے انعام کے 2000 ڈالر لے کر مجرم کی پھانسی کے وقت دور سے رسی پر نشانہ لگا کر اسے بھگا دیتا ہے۔ بعد میں وہ قصبے سے باہر مل کر انعامی رقم تقسیم کر لیتے ہیں اور یوں دونوں منفرد چور جوڑی بنا کر دوسرے قصبوں میں جا کر یہی کرتے ہیں جہاں ٹوکو یعنی مجرم کی انعامی رقم بڑھ چکی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ فلمستان پر مکمل پوسٹ پڑھیں ۔ ایک یادگار سیر (A Walk to Remember) سن 2002ء میں بنائی گئی ایک رومانوی فلم ہے۔ فلم اسی نام کے ایک ناول پر مبنی ہے جو کہ نکولس سپارکس(Nicholas Sparks) نے 1999 ء میں لکھا تھا۔ فلم کے ہدایتکار آدم شینک مین(Adam Shankman) ہیں اور مرکزی کردار شَین ویسٹ (Shane West) اور اد اکارہ و گلوکارہ مَینڈی مُور(Mandy Moore) نے ادا کئے ہیں۔ فلم کے مرکزی کردار شمالی کیرولائنا کے ایک سکول کے طالبعلم ہیں۔ لینڈن کارٹر(Landon Carterشین ویسٹ) بری صحبت کا شکار لیکن ایک لائق اور نمایاں طالبعلم ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنا اور دوسروں کو تنگ کرنا اس کا مشغلہ ہے۔۔۔۔ فلمستان پر مکمل پوسٹ کا مطالعہ کریں امید ہے آپ کو یہ کوشش پسند آئے گی۔ The Terminal اردو سب ٹائیٹلز5 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, September 9, 2009میں کافی عرصے سے فلم دی ٹرمینل کے اردو سب ٹائیٹلز بنانے کا کام شروع کئے ہوئے تھا لیکن مناسب وقت نہ دینے کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہو رہا تھا۔ پورے ایک مہینے کے وقفے کے بعد میں دوبارہ کمر کس کے میدان میں اترا اور دو ہی دنوں میں بقیہ کام تمام کر لیا۔ اردو سب ٹائیٹلز لکھنے کا شوق مجھے عمار ابنِ ضیاٗ کے ٹیکن فلم کے ٹائیٹلز دیکھ کر پیدا ہوا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت مشکل ہو گا اور اس میں کوئی پیچیدہ تکنیکیات شامل ہوں گی یا کوئی خاص قسم کا سافٹویئر درکار ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جہاں تک انگریزی سب ٹائیٹلز کی فائل کے مطابق اردو ترجمہ کرنے کی بات ہے تو یہ کوئی بھی آرام سے کر سکتا ہے(بہت ہی زیادہ آرام آرام سے، میری طرح!!) ، بس ترجمہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مستقل مزاج افراد کیلئے خصوصی آسانی ہو گی۔
اس کام میں عمار بھائی نے میری بہت مدد کی ہے جس کیلئے میں نہایت مشکور ہوں۔ اب جبکہ یہ کام مکمل ہو گیا ہے گو کہ اس میں کچھ کمیاں اور کوتاہیاں باقی ہیں لیکن میں نے فی الحال ان کو خاطر میں نہیں لایا اور سب ٹائیٹلز کو اپلوڈ کر دیا ہے، میں نے اپنے گھر میں اور چند ایک دوستوں کو بتایا تو ایک ہی سوال میرا منتظر تھا "اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو ا؟"۔۔۔۔۔۔۔ یا " اس سے تمہیں کیا ملے گا؟"۔۔۔۔۔" اتنا وقت ضایع کیا، کچھ اور ہی کر لیتے!"۔۔۔۔۔۔ مجھے ان سوالوں کا جواب نہیں پتا۔۔۔۔ آپ بتائیے!۔۔۔ خیر یہ تو بس ویسے ہی میں نے بر سبیل التذکرہ لکھ دیا ہے۔۔۔ فلم کا تھوڑا سا تعارف میں نے اردو محفل میں لکھا ہے، وہی چھاپ دیتا ہوں: "یہ فلم ٹام ہینکس کی ہے جو کہ ایک مشہور اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں۔ فلم کے ہدایت کار سٹیون شپیلبرگ ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار (ٹام ہینکس) ایک ایسے وقت میں امریکی ہوائی اڈے پر اترتا ہے جب اس کا ملک ‘کراکوژیہ’ اندرونی بغاوت کا شکار ہوتا ہے اور اس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی باغی شبخون مار کر حکومت کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے ملک کا وجود اب نہیں رہا، لہذا اس کی شہریت اب مشکوک ہو چکی ہے اسلئے اب اسے نیویارک میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اور ملکی حالات کی وجہ سے اسے ڈی پورٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اسے عارضی طور پہ اسی ہوائی اڈے کے بین الاقوامی لاؤنج میں رکنا ہو گا تاوقتیکہ معاملہ اوکے نہ ہو جائے۔ ایک ایسا شخص جو انگریزی زبان سے نا آشنا ہے، لوگوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتا ہے۔"۔۔۔ مزید معلومات یہاں پہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ فلم کی ٹورنٹ فائل یہاں سے اتاری کی جا سکتی ہے اور اردو سب ٹائیٹلز یہاں سے۔ امید ہے یہ کوشش آپ سبکو پسند آئے گی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
خوش آمدید
بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
پیش لفظ: اس بلاگ کو بہترین حالت میں دیکھنے کیلئے اردو نستعلیق فونٹ اوپر دئے گئے ربط(لنک) سے ڈاؤنلوڈ فرمائیں۔ آپ نے ’قِصہ چہار درویش‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہو گا، ہو سکتا ہے پڑھا بھی ہو(میں نے صرف سنا ہی ہے!۔)۔ قصہ لکھنے والے اِس پانچویں درویش کو بھول گئے، لہٰذا اسے خود ’کِی بورڈ‘ سنبھالنا پڑا۔ بلاگ کے کنٹینٹ (Content)کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایک نوجوان کے دماغ میں جو کچھ بھی آ سکتا ہے وہ اس بلاگ پر چھَپ جائے گا۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ولسلام زمرہ جات / ٹیگز
مفید اُردو ویب صفحاتپسندیدہ بلاگز
Email کے ذریعے سبسکرائب کریںدوست احبابلائیو ٹریفک فیڈ
اس بلاگ کے جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں. Powered by Blogger.
|



