متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ
السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ
Showing posts with label معاشرہ. Show all posts
Showing posts with label معاشرہ. Show all posts
کارٹون کہانی9 تبصرہ (جات)۔ Thursday, July 8, 2010
جب ہم چھوٹے تھے تو پی ٹی وی کا زمانہ ہوا کرتا تھا جس پہ سہہ پہر تین بجے نشریات کا اغاز کیا جاتا تھا اور قاری سید صداقت علی کے ’اقرا ‘ کے بعد کارٹون لگا کرتے تھے۔ ہماری واحد تفریح وہی کارٹون ہوا کرتے تھے۔ یا پھر صبح صبح سات بجے والے مختصر کارٹون ہوا کرتے تھے لیکن وہ ہم عام طور پر نہیں دیکھ پاتے تھے کیونکہ ہمارا اسکول ذرا دور تھا اور ہمیں سکول بس لینے آ جاتی تھی۔ "کیپٹن پلا نِٹ" (اس وقت Planet کو پلانِٹ ہی یاد کیا ہوا تھا)، وولٹران، ہِی میں اور کونین ہی ہمارے خوابوں کی دنیا میں بستے تھے۔ میرے پسندیدہ کیپٹن پلانٹ تھے۔ یہی تین چار کارٹون اور ان کی وہی تین چار اقساط بار بار دیکھ دیکھ کر یاد بھی ہو گئی تھیں۔ وقت نے انگڑائی لی اور چھتوں پہ لگے اَنٹینے بدلنے لگے۔ یو ایچ ایف اور وی ایچ ایف کا کوئی الٹ پھیر چلنے لگا جو کہ اس وقت بھی میری سمجھ سے باہر تھا اور اب بھی۔ این ٹی ایم، شالیمار نیٹ ورک وغیرہ تشریف لانے لگے اور پھر بعد میں پی ٹی وی ورلڈ آنے لگا۔ اس وقت تک کارٹونوں نے واحد اردو سیریز ’ٹریژر آئیلینڈ‘ تک ترقی کر لی تھی۔ جس کو دکھا دکھا کر وہ بھی بچوں کو زبانی یاد کروا دی گئی تھی۔ ہمارے ہمسائے میں جو گھر تھا انہوں نے اس زمانے میں ڈش اینٹینا لگوایا ہوا تھا اور وہاں سونی ٹی وی اور زی ٹی وی آیا کرتے تھے۔ سونی پر کارٹونوں کا خصوصی انتظام تھا اور وہ ہندی (یعنی اردو میں!)میں لگتے تھے۔ ہمین بھی کبھی کبھی موقع مل جایا کرتا تھا دیکھنے کا۔ وہاں ڈزنی کے کارٹونوں سے شناسائی ہوئی۔ الہ دین، لٹل مرمیڈ، گوفی اور دیگر سے تعارف ہوا۔ یہ بھی اچھے لگنے لگے۔ اردو میں کارٹونوں کا اپنا مزہ تھا۔ مجھے گھوسٹ بسٹرز بہت پسند تھے۔ لیجئے جناب! اچانک ہی کیبل کا زمانہ آگیا۔ ٹانواں ٹانواں کیبل لگنے لگی، میرا بھائی کبھی کبھی چھت سے گزرتی کیبل پر ’کنڈی‘ لگا کر مستفید کر دیا کرتا تھا۔ پھر محلے کے گھروں میں کیبل لگنا شروع ہوئی تو ہمارے ہاں بھی آ گئی۔ اس زمانے میں میں کالج میں تھا شاید، لہٰذا دیکھنے کا شوق ختم ہو چکا تھا۔ طویل عرصہ ان کارٹونوں کی دنیا سے دور ہی گزرا۔ بھائیوں کی شادیاں ہوئیں اور پھر بھتیجوں کی آمد ہوئی۔ بس پھر کیا تھا، ایک ایسا دور شروع ہوا جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ہمارے گھر میں ایک ٹی وی جو کہ بھائی کے کمرے میں ہے اس پر صرف ایک ہی چینل لگتا تھا اور وہ تھا کارٹون نیٹ ورک۔ وہاں بیٹھے ہر شخص کو، بلا تخصیص جنس و عمر کارٹون ہی دیکھنے پڑتے ہیں۔ میں جب بھی بیٹھ جاتا تو پھر سب کے سونے کے بعد ہی اٹھتا۔ مجھے پھر سے کارٹونوں کی دنیا مل گئی تھی اور اس دفعہ یہ دنیا چار قسطوں پہ مشتمل نہیں تھی بلکہ ہزاروں کی تعداد میں کارٹون موجود تھے۔ ایک سے ایک نرالا، ایک سے ایک رنگین۔ ایسے کارٹون بھی تھے جو صرف شرارتی تھے، ایسے بھی تھے جو صرف پڑھاکو تھے۔ زنانہ کارٹون بھی وافر تعداد میں موجود تھے۔
پہلے بچے جو کارٹون بھی ملتا تھا اس کو پسند کر لیتے تھے۔ انتخاب آسان تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا، بچے ہزاروں میں سے کسی ایک دو کو ہی پسند کرتے یں، نت نئے کارٹون چینلز کی بدولت بچے بھی بالکل بڑوں کی طرح ایک سے دوسرے پہ منتقل ہوتے ہیں۔ تھوڑا اسا دیکھا، اچھا لگا تو ٹھیک ورنہ بدل ڈالو! بھلا ہو ہمارے پڑوسی ملک کا اب تو ہندی یعنی اردو میں بھی کئی کارٹون چینل ہیں۔ وقت کی ضرورت تھی، انہوں نے اپنا لی اور چونکہ یہاں بھی وقت کی ضرورت تھی لہٰذا ہم نے چرُا لی( یا ادھار لے لی)۔ بچے ان کارٹونوں کی زبان بہت زیادہ سمجھتے ہیں۔ میرا ایک بھتیجا کثرتِ کارٹون بینی کے باعث خود بھی ایک کارٹون بن گیا ہے۔ بڑے ایکشن مارتا ہے، بڑے ڈائلاگ رٹتا ہے۔ اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی، اسے یہ بھی پتا ہے کہ ہم اس وقت 21ویں صدی میں ہیں اور جو ڈوریمان روبوٹ ہے وہ 22ویں صدی سے آیا ہے۔ اسے یہ بھی پتا ہے کہ یہ کارٹون ہیں اور حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ یہی خواہش رکھتا ہے کہ 22ویں صدی میں ایسا ہو جائے! اب چونکہ اینی میٹڈ فلموں کا زمانہ ہے اور میں اینی میٹڈ فلمیں بہت شوق سے دیکھتا ہوں، اور میرے گھر میں سبھی اینی میٹڈ فلموں کا تھوڑا بہت ششوق رکھتے ہیں ،اس کی وجہ میرے بھتیجوں کی زبر دستی کی کارٹون نشریات ہے جو گھر میں چلتی رہتی ہے۔ اسی لئے فلمستان پر بھی ایک اینی میٹڈ فلم "ٹوائے سٹوری 3" پر تجزیہ لکھا ہے۔ اس کے پہلے دونوں پارٹ میں اپنے بھتیجوں کے ساتھ پچھلے ہفتے ہی دیکھ چکا ہوں۔ تیسرا پارٹ بھی ڈاؤنلوڈ کیا اور نا چاہتے ہوئے بھی کیم پرنٹ میں دیکھ لیا۔ :(۔ تجزیہ پڑھنے کیلئے فلمستان پر جائیں۔ بڑا بول15 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 25, 2010
آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ اس میں غلط کیا ہے اگر کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ میں اپنے زورِ بازو پر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میں کسی کی سفارش نہیں لگواؤں گا اور خود اپنے لئے راستہ بناؤں گا۔ مجھے ان وزیروں مشیروں کی سفارشیں نہیں چاہئیں۔
غلط۔۔۔۔۔؟ نا مجھے تم یہ بتاؤ کہ اس میں صحیح کیا ہے؟؟ یہ جو تم ڈگریوں کے بل پر بول رہے ہو نا یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں ہمارے لئے۔ ایک سیٹی بجائیں تو ہزاروں ڈگریوں والے ناک گھستے پہنچ جائیں گے۔ یہ جو تم اونچا بولتے ہو ناں۔۔۔ سب نکل جائے گا باہر۔ ہواؤں میں اڑتا ہے آجکل۔۔۔۔ کہتا ہے خود جاب ڈھونڈوں گا۔ رُلتے پھرتے ہیں تمہارے جیسے سڑکوں پہ۔۔۔ پرسوں والی بات بھول گئے کیا؟ ۔۔۔۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی جاب تھی۔۔ صرف ملتان میں کوئی پندرہ سو آدمی امتحان دینے آئے تھے۔ باقی پنجاب کے ضلعوں کا حساب آپی لگا لو۔۔۔ صرف 11 بندے رکھنے ہیں گورنمنٹ نے۔۔۔ اوران میں سے بھی کئی تو امتحان سے پہلے ہی رکھے جا چکے ہیں۔ آخر سب وزیروں شزیروں کا دل کرتا ہے کہ ان کا کزن کُزن اس پو سٹ پہ لگے۔۔۔۔۔ باقی جو ان ہزاروں میں سے دو چار رکھنے ہیں، کیا وہ تمہارے جیسے ہوں گے۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ بات تو ایسے کرتے ہیں جیسے پتا نہیں کونسی پی ایچ ڈیاں کرتے پھرتے ہیں۔ شکر کرو کہ ہمارے تعلقات ہیں "اُچے " بندوں میں۔ وہ بھول گئے چاچے خالد کا بیٹا واپڈہ میں ہے جو، کب سے کوشش کر رہے تھے کہ لاہور ٹرانسفر ہو جائے، آخر بڑے شہروں یں "مواقع" ہوتے ہیں نا جی۔۔۔ سب چاہتے ہیں وہیں آ جائیں۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو آسان کام تھا لیکن اللہ پاک کی خصوصی مہربانی سے ایک دو دفعہ کہا اور ہو گیا۔ بس جی! جو بیٹھے بٹھائے مل جائے اس کی تو قدر ہی نہیں ہے نا انہیں۔ یہ جو چاچے رمضان کا بیٹا گیا تھا نا امتحان دینے، ہم نے دی تو ہے عرضی۔۔۔ بس جی اللہ ہی عزت رکھنے والا ہے۔ میرے بھائی تمہیں نہیں پتا یہاں سب ایسے ہی ہوتا ہے۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو ایسے ہی کرنا ہوگا جی۔ آ جاؤ گے تم بھی لائن پر۔ یہ جو تمہارا بھائی شور مچا رہا ہے نا کہ میں تمہارے وزیروں کی شفارش نہیں لگواؤں گا، میرے لئے نوکریاں بہت ہیں۔۔۔۔ یہ سب دو دن کی بات ہے۔ دیکھ لینا تمہاری نوکریاں بھی انشا اللہ ہم ہی لگوائیں گے۔ یہ جو تم لوگ وزیروں کو کوستے رہتے ہو ناں۔۔۔ تم پڑھ لکھ کر جو زیادہ " بڑا بول" سیکھ جاتے ہو نا۔۔۔ تم بھی ادھر ہی ہو اور ہم بھی ادھر ہی ہیں۔۔۔ دیکھتے ہیں خود لگتے ہو یا ہم لگواتے ہیں۔۔۔! **بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا جج صاحب! پہلا پہلا واقعہ10 تبصرہ (جات)۔ Thursday, April 22, 2010
ہمیشہ کی طرح میرے ذہن میں اس وقت کوئی تحریر جنم لیتی ہے جب میں کسی بلاگ پر جا کر تبصرہ کرتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس کو ذرا اور بہتر کر کے اپنے بلاگ پہ ہی پوسٹ دوں تو مزید لوگ مستفید ہو جائیں گے اور بلاگ بھی ہرا بھرا رہے گا۔۔۔
تو یہ قصہ ہے اس زمانے کا جب میں ایف ایس سی سے فارغ ہوا تھا (یعنی کہ صرف تین سال پرانا) اور اسلام آباد میں یونیورسٹی داخلے کیلئے <این او سی> چاہیئے تھا۔ چونکہ مجھے جی سی یو چھوڑے کچھ ماہ ہو چکے تھے اس لئے میں اپنے ہاسٹل سے بھی فارغ ہو چکا تھا۔ لہٰذا میں صبح سویرے لاہور روانہ ہوا ۔ جمعہ المبارک کا دن تھا۔ لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے دفتر پہنچا۔ میرے دوست نے مجھے بتایا تھا کہ صبح جا کر دفتر میں فارم پُر کر کے جمع کروا دینا اور تین چار گھنٹوں بعد آکر سرٹیفیکیٹ لے لینا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور فارم پُر کرکے جمع کروا دیا۔ کلرک نے کہا کہ فلاں بجے آکر لے لینا (مجھے ٹائم ٹھیک سے یاد نہیں)۔ میں وقتِ مقررہ پر آ گیا اور دفتر میں موجود ایک قدرے نوجوان کلرک سے اپنے سرٹیفیکیٹ کی بابت پوچھا۔ وہ صاحب بولے کہ اب تو دفتر کا وقت ختم ہو رہا ہے آپ کو سرٹیفیکیٹ دو دن بعد ہی ملے گا (کیونکہ اگلے روز ہفتہ تھا اور غالباً کوئی عام تعطیل تھی)۔ میں ایک دم پریشان ہو گیا کیونکہ میں دو دن وہاں رُک نہیں سکتا تھا اور سوموار کو میں نے اسلام آباد سرٹیفیکیٹ جمع کروانے جانا تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ مجھے یہی وقت دیا تھا اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں مل سکتا۔ وہ بولا کہ جن سرٹیفیکیٹس پر دستخط ہونے تھے ان پر پہلے ہی ہو چکے ہیں، اب مزید نہیں ہونگے کیونکہ دفتری اوقات ختم ہونے والے ہیں۔ میں نے اپنی مجبوری بیان کی کہ میں یہاں رک نہیں سکتا اور لالہ موسیٰ سے آیا ہوں۔ وہ بولا کہ آپ ایسا کریں کہ تین سو روپے دیں اور تین گھنٹوں بعد آ کر سند لے جائیں۔۔۔۔ میں نے کچھ سمجھی اور کچھ نا سمجھی کی کیفیت میں کہا کہ جو تین سو روپے فیس ہے اس سرٹیفیکیٹ کی، اس کا بینک چالان فارم میں نے لگایا ہے فارم کے ساتھ(اور پورا گھنٹا لائن میں لگ کے جمع کروائی ہے فیس!)۔ ۔۔۔بولا یہ نہیں اس کے علاوہ تین سو روپے مجھے دیں تو میں 3 گھنٹے بعد سند لا دوں گا۔۔۔۔ میں حیران پریشان کمرے سے باہر آیا اور سوچنے لگا کہ کیا اس شخص نے ابھی ابھی مجھ سے رشوت مانگی ہے۔۔۔۔! کیا رشوت ایسے مانگی جاتی ہے؟۔۔۔۔۔ میرا تو خیال تھا کہ ڈھکے چھپے انداز میں مانگتے ہوں گے اور کیا اس طرح تعلیمی اداروں میں براہ راست ایک سٹوڈنٹ سے۔۔۔۔۔! مجھے واقعی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ میں نے اپنے دوست کو فون کیا ور ماجرا بیان کیا۔ وہ بولا کہ یار ! مجھے تو آسانی سے مل گیا تھا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی کو کال کی اور پتا نہیں کیوں مجھے اپنی آواز میں نمی محسوس ہوئی (پتا نہیں میں اتنا اووَر رِی ایکٹ کیوں کر رہا تھا۔۔)۔۔۔۔ بھائی نے کہا کہ دوبارہ جا کر بات کرو۔ میں نے دل میں کیا دعا مانگی اور کیا الفاط دل سے نکلے یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن جب میں دوبارہ دفتر میں گیا تو وہاں اس ڈیسک پر اس لڑکے کی جگہ کوئی اور کلرک موجود تھا۔ میں نے دوبارہ سے اپنی درخواست دہرائی تو اس کلرک نے میری جانب دیکھا اور پوچھا کہ کب دے کر گئے تھے اپنا درخواست فارم؟ میں نے وقت بتایا تو اس نے ایک بڑی سی فائل میرے سامنے رکھی اور کہا کہ اس میں سے اپنا سرٹیفیکیٹ نکال لو اور یہاں دستخط کر دو۔۔۔۔۔! مین ایک دفعہ پھر حیران تھا لیکن اب کے میں پریشان نہیں تھا۔۔۔۔ یہ زندگی کا پہلا براہ راست واقعہ ہے اس سلسلے کا۔۔۔۔ مزید بھی لکھوں گا پھر کبھی۔۔۔ اصل وجہ؛ مولوی یا جہالت23 تبصرہ (جات)۔ Monday, April 12, 2010
آج نوجوانوں کی اکثریت اگر دینی حلقوں کے مکمل خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہے اور اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔ مولوی اصل مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو.۔مولوی طبقہ زیادہ بدنام اسلئےہے کہ وہ اپنے جائز و نا جائز تبصروں، ذاتی چپقلشوں اور دشمنیوں ، سیاست یا باقی تمام معاملات میں دین کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ ہمارے چاروں طرف یہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس جو بھی علم ہے اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرو،تو پھر ہم میں سے ہی نکلنے والے مولوی ہم سے مختلف کیونکر ہوں گے؟ میں علما کی بات نہیں کر رہا۔ جو نیم ملا ہو گا وہی خطرہ ایمان ہو گا۔ جب لوگ ہی وہ آتے ہیں جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس "ہتھیار" سے تو بڑا کام لیا جا سکتا ہے۔ اور اس جہالت کو فروغ دینے والے کون لوگ ہیں،۔۔۔۔ہم!
ان لوگوں کو دین کی اجارہ داری کس نے سونپی ہے، ہم نے۔۔۔ اپنے آپ کو دین کی الجھن سے آزاد کرنے کیلئے، جائز کو نا جائز اور ناجائز کو جائز بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے۔۔۔ ۔اگر محلے کی مسجد میں کوئی سچ بولنے والا واعظ آ جائے غلطی سے تو ’ مسجد کمیٹی‘ کا اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے(اور یہ کمیٹیاں جن حضرات پہ مشتمل ہوتی ہیں آپ جانتے ہی ہوں گے!) اور ان حضرت کو ان کے علم سمیت نکال باہر کیا جاتا ہے کہ صاحب اگر مسجد کو چندہ دینے والے حضرات کا مال ہی سودی ثابت کر دیا تو کاروبار کیسے چلے گا مسجد کا! اور جب وہ حضرت یہ حال دیکھتے ہیں اور تین چار جگہوں سے اسی طرح نکالے جاتے ہیں تو اگلی دفعہ خاص احتیاط کرتے ہیں کیونکہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں، اور بد قسمتی سے سب کے ساتھ پیٹ بھی لگا ہوا ہے، عوام اور انتظامیہ کی طرح، لہٰذا مہینے کے چار جمعوں کے چار خطبے، عیدین اور رمضان کے خصوصی خطبات اور اس کے علاوہ کمیٹی کی خصوصی فرمائش پر فلاں فلاں مسجد کے مولویوں اور انتظامیہ کے خلاف ’ قرآن و سنت‘ کی روشنی میں اسلام کے دروازے بند کر نا، یہی ان کا فرضِ منصبی قرار پاتا ہے۔ جس سے محلے میں ان کے علم کی دھوم مچ جاتی ہے۔۔۔ عوام خوش، انتظامیہ خوش، مولوی خوش!! جائزہ لیں اور سوچیں کہ کتنے لوگ ہیں ایسے جو اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دینے کے بارے میں سوچتے ہیں اور جو کرتے ہیں ان میں سے اکثریت ایسوں کی ہوتی ہے کہ گھر میں کھانے کو ہوتا نہیں ہے، کمانے والا سب کچھ "لُٹا" کر گھر آتا ہے۔۔۔ چلو جی چھوٹے کو مدرسے میں ڈال دو، خود بھی آرام سے کھائے گا اور ہمارے لئے بھی مانگ لائے گا دال روٹی! یا پھر، ایک بچہ تو ماشا اللہ حساب میں اتنا اچھا ہے کہ وہ تو ابھی سے ہی بینکر بننے کا سوچتا ہے اور دوسرے والا تو جناب ڈاکٹر ہی بنے گا، ماشا اللہ بہت تیز دماغ ہے اس کا۔ ۔۔۔اور اس کا کیا بنے گا، سارہ دن آوارہ پھرتا ہے، روز ہی کسی نہ کسی کا ‘ لانبا’ آتا ہے، سکول میں ڈالا تو تھا لیکن بھاگ جاتا ہے وہاں سے، ماسٹر صاحب نے کہا ہے کہ اسے سکول کی دیوار سے بھی دور رکھو نہیں تو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔ہائے! کیا بنے گا اس آوارہ کا؟ میں تو کہتا ہوں اس کو پاس والے گاؤں کے مدرسے میں ڈال دوں، وہیں رہے گا اور چار دن مار کھائے گا مولوی کی تو ٹھیک ہو جائے گا۔ یوں گھر میں پڑا پڑا روٹیاں تو نہیں توڑے گا نا! اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔ اِن پُٹ آپ کے سامنے ہے اور آؤٹ پُٹ کی امید ایکسٹرا رکھی جاتی ہے۔۔۔ موبائل فون سروس اور پاکستان5 تبصرہ (جات)۔ Thursday, March 11, 2010خبر ہے کہ سرحد اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے کہ تمام ایس ایم ایس اور "لیٹ نائٹ" کال پیکجز ختم کئے جائیں۔
دیکھا جائے تو یہ قوم کے انسانی و نسوانی و جوانی حقوق پر براہِ راست ڈاکہ زنی کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ قوم کے ‘کھل کر بولنے’، ‘سب کہہ دینے’ اور ‘اور سنانے’ کی دل پسند تفریح پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ہماری افسردہ و پژمردہ قوم کیلئے چند ایک ہی تو تفریحیں رہ گئی ہیں، اب ان پر بھی قدغن لگائے جا رہے ہیں۔ اس بھری دنیا میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھینچنے پر لگا ہوا ہے، ایک موبائل فون ہی تو دکھ درد کا ساتھی ہے جو ساتھ نبھاتا ہے ہر جگہ! اور تو اور اب تو موبائل فون ہماری عائلی زندگی میں بھی ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے زمانے میں آسمانوں پر بنے ہوئے رشتے ڈھونڈنے کا جو کام محلے کی خالائیں، آپائیں اور بُوائیں کیا کرتی تھیں، اب وہی کام با آسانی ایس ایم ایس سروس کر سکتی ہے۔ اور رہی بات لیٹ نائٹ کال پیکجز کی، یہ تو ‘انڈر اسٹینڈنگ’ پیدا کرنے کا ایک ایسا آسان طریقہ ہے جو ہماری مشرقی روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایجاد کیا گیا ہے کہ بغیر دیکھے اور بغیر ملے ہی آپ کو سب کچھ پتا چل جاتا ہے..!!. اب ذرا بات ہو جائے موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی، تو جناب یہ تو ان کا فرضِ عین ہے کہ قوم کو وہ وہ سہولیات بھی فراہم کی جائیں جنکی انہیں ضرورت نہیں ہے(لیکن ظاہر ہے کبھی بھی مستقبل قریب میں پڑ سکتی ہے)!۔ پہلے پہل تو جب آپ کال سینٹر کا نمبر ملاتے تھے تو ایک جذبات سے عاری مشینی آواز آپ کو ہدایات دیتی تھی لیکن اب تو بھائی اس میں بھی حتی الامکان جذباتیت بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انسانوں کو مشینوں کے ذریعے ‘سیٹسفائی’ کرنے کا جو کام مغرب میں عام ہے، اب یہاں بھی فی الحال آواز کی شکل میں دستیاب ہے۔ نہیں یقین تو ذرا ٹیلی نار کی ہیلپ لائن 345 ڈائل کیجئے۔ پہلے آواز آیا کرتی تھی کہ یہ کرنے کیلئے وہ دبائیں، وہ کرنے کیلئے یہ دبائیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب خاصی جذباتی سی دوشیزگی بھری آواز میں یہ کہا جاتا ہے کہ: ’’ مجھ سے یہ کروانے کیلئے وہ دبائیں! ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے وہ کروانے کیلئے یہ دبائیں! ۔۔۔۔یا اور کوئی سہولت حاصل کرنے کیلئے بس کان میں بتا دیں!!!۔۔۔‘‘ اب یقیناً باقی سروسز کی طرف سے اس ‘‘خصوصی پیکج’’ کو کاٹنے کیلئے آنے والے اقدامات کا انتظار رہے گا اور امید بھی کچھ زیادہ کی ہے!!!۔ کھٹا میٹھا2 تبصرہ (جات)۔ Thursday, October 15, 2009 بہت دن ہوئے کچھ پوسٹ نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ کچھ تصاویر ہیں پیارے پاکستان کے پیارے لوگوں کی۔ ۔ ۔یہ پہلی تصویر ہماری قوم کی ایک ترقی پسند " سوزوکی " کی پشت پہ لکھا ایک خوبصورت فلمی ڈائلاگ ہے۔ ۔ ![]() یہ تصویر (نیچے) پٹرول کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث، آمد و رفت کے ایک قدیمی ذریعہ کو پروموٹ کر رہی ہے اور اس میں خاص پات یہ بتائی گئی ہے کہ جو پیسہ آپ پٹرول سے بچائیں گے، اس کو آپ " مِس کالیں" مارنےجیسے ضروری کام میں استعمال کر سکتے ہیں!!۔ ![]() یہ تصویر پاکستان کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے ایک نہائت اہم قدم کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ عام آدمی کی سہولت کیلئے اب کمپیوٹر تول کر بھی خریدے جا سکتے ہیں تا کہ آپ کو پینٹئم 4 کی قیمت میں اصلی اور خالص پینٹئم 4 ہی ملے۔۔۔۔ یہ آفر یقیناً محدود مدت کیلئے ہو گی، اور یقین جانئے یہ بہت جائز قیمت ہے۔۔۔اتنے میں تو آجکل آٹا بھی نہیں مل رہا۔ ۔۔ ۔ میں تو 15،20 کلو خریدنے کا ارادہ کر رہا ہوں ۔۔ ۔ !۔ ![]() یہ تصویر پاکستان میں فیشن کے بڑھتے ہوئے اثرات اور عام آدمی میں جدید فیشن کی دوڑ میں شامل ہونے کی لگن کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور " ہیڈ ویئر" بنانے والی انڈسٹری کیلئے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ یا یہ محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے کہ بندہ اس مین الٹا گر گیا ہو!۔۔۔۔ ![]() اور یہ والی تصویر پاکستانی عوام کی طرف سے تمام " طاغوتی" طاقتوں، جو کہ میلی آنکھ اٹھا کر ہماری طرف دیکھنے کی غلطی نہیں بلکہ غلطیاں کرتے ہیں، ایک واضح تنبیہہ ہے۔ ۔ ۔ارے ظالمو! تم ایک ایسی قوم سے پنگا لے رہے ہو جو " ایٹم بم سری پائے" جیسے خطرناک اور توانائی بخش " نیوکلر وار ہیڈ" روزانہ ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔۔ ۔ ۔ ۔!۔ ![]() کثیر الشخصیاتی عارضہ0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, September 8, 2009کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے متعلق شاید آپ نے سنا ہو، کم از کم وہ خواتین و حضرات جو ہالی وڈ کی فلموں کا ذوق رکھتے ہیں وہ ضرور واقف ہوں گے کیونکہ کئی فلمیں اس موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ یہ والی اور یہ والی۔
یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اور جیسا کہ نام سے ہی حاضر ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ ایک شخصیت کی بجائے کئی شخصیات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شخصیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں اور انسان کسی ایک یا زیادہ شخصیات کے اثر میں رہتا ہے۔ ان مختلف شخصیات کو انسان کا ‘ آلٹر’ (Alter) یعنی ‘متبادل’ کہا جاتا ہے۔ اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، اگر دیکھا جائے تو ہم بحیثیت قوم اصل میں اسی عارضے کا شکار ہیں۔ ہماری شناخت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ کبھی ہم مسلمان ہوتے ہیں، کبھی پاکستانی، کبھی سندھی، پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوتے ہیں، کبھی شدت پسندی غالب آ جاتی ہے تو کبھی روشن خیالی، اور بعض اوقات ہم کچھ بھی نہیں ہوتے! کچھ دن پہلے میں نے ایک انگریزی ناول نگار سڈنی شیلڈن کا ایک ناول پڑھا جو کہ اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی ہیروئن بھی کثیرالشخصیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے اور کئی متصادم شخصیات کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ ان منفی شخصیات کے زیرِ اثر وہ کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام ‘متبادلوں’ کو آمنے سامنے لایا جائے اور ان کے درمیان مباحثہ ہو اور ان سب میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تا کہ کئی شدت پسند شخصیات کی بجائے ایک متوازن اور مکمل شخصیت کا ظہور ہو۔ یہی ہمارا بھی علاج ہے۔ گرینڈ کوئز0 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 15, 2009یار بھلا اتنا مشکل کوئز بھی کوئی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ؟ سر کو بھی پتا ہے کہ اس ایک ٹاپک کے لئے ایک دن تو کیا پوری زندگی کی تیاری بھی کم ہے!!
صحیح کہہ رہے ہو، چلو سارا نہ سہی، کوئی ایک دو سوال تو بتا ہی دینے چاہئیں۔ ۔ ۔ بندہ انہی کو رٹّ لے۔ دوستو! ۔ ۔ ۔۔ ۔ پہلے میں اپنا سانس درست کر لوں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ کیا سر نے کوئز کینسل کر دیا۔ ۔ ۔ ؟! ارے نہیں یار! ایک سینئر نے( گیس ) guess بتایا ہے کل کے کوئز کے بارے میں۔ جلدی بتا یار۔ ۔۔ ۔ چلو کچھ تو آسرا ہوا۔ ۔ ۔ میرے بھائی گیس ہے، کوئی پکی بات نہیں ہے۔ ۔۔ ! خیر اب اسی کا رٹّا لگا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ کچھ تو جواب دینے کے قابل ہو ہی جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا سوال: کیا آپ نے اپنے ربّ کے حکم کے مطابق، اس کی رضا و ثنا کے لئے نماز قائم کی؟ یہ۔ ۔ ۔ یہ سوال ۔ ۔ ۔یہ سوال تو مجھے پتا ہی نن۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ اس سوال کا تو مجھے پتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ شروع سے ہی پتا تھا۔ ۔ ۔ تمام مخلوق سے سینئر خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ نے (گیس ) نہیں بلکہ یقینی بتا دیا تھا کہ سوالنامے کا پہلا سوال یہی ہو گا ۔ ۔ ۔۔ ۔ کیا ساری زندگی میں یہ ایک معلوم سوال بھی تیار نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
خوش آمدید
بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
پیش لفظ: اس بلاگ کو بہترین حالت میں دیکھنے کیلئے اردو نستعلیق فونٹ اوپر دئے گئے ربط(لنک) سے ڈاؤنلوڈ فرمائیں۔ آپ نے ’قِصہ چہار درویش‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہو گا، ہو سکتا ہے پڑھا بھی ہو(میں نے صرف سنا ہی ہے!۔)۔ قصہ لکھنے والے اِس پانچویں درویش کو بھول گئے، لہٰذا اسے خود ’کِی بورڈ‘ سنبھالنا پڑا۔ بلاگ کے کنٹینٹ (Content)کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایک نوجوان کے دماغ میں جو کچھ بھی آ سکتا ہے وہ اس بلاگ پر چھَپ جائے گا۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ولسلام زمرہ جات / ٹیگز
مفید اُردو ویب صفحاتپسندیدہ بلاگز
Email کے ذریعے سبسکرائب کریںدوست احبابلائیو ٹریفک فیڈ
اس بلاگ کے جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں. Powered by Blogger.
|









