متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ
السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ موبائل فون سروس اور پاکستان5 تبصرہ (جات)۔ Thursday, March 11, 2010خبر ہے کہ سرحد اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے کہ تمام ایس ایم ایس اور "لیٹ نائٹ" کال پیکجز ختم کئے جائیں۔
دیکھا جائے تو یہ قوم کے انسانی و نسوانی و جوانی حقوق پر براہِ راست ڈاکہ زنی کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ قوم کے ‘کھل کر بولنے’، ‘سب کہہ دینے’ اور ‘اور سنانے’ کی دل پسند تفریح پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ہماری افسردہ و پژمردہ قوم کیلئے چند ایک ہی تو تفریحیں رہ گئی ہیں، اب ان پر بھی قدغن لگائے جا رہے ہیں۔ اس بھری دنیا میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھینچنے پر لگا ہوا ہے، ایک موبائل فون ہی تو دکھ درد کا ساتھی ہے جو ساتھ نبھاتا ہے ہر جگہ! اور تو اور اب تو موبائل فون ہماری عائلی زندگی میں بھی ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے زمانے میں آسمانوں پر بنے ہوئے رشتے ڈھونڈنے کا جو کام محلے کی خالائیں، آپائیں اور بُوائیں کیا کرتی تھیں، اب وہی کام با آسانی ایس ایم ایس سروس کر سکتی ہے۔ اور رہی بات لیٹ نائٹ کال پیکجز کی، یہ تو ‘انڈر اسٹینڈنگ’ پیدا کرنے کا ایک ایسا آسان طریقہ ہے جو ہماری مشرقی روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایجاد کیا گیا ہے کہ بغیر دیکھے اور بغیر ملے ہی آپ کو سب کچھ پتا چل جاتا ہے..!!. اب ذرا بات ہو جائے موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی، تو جناب یہ تو ان کا فرضِ عین ہے کہ قوم کو وہ وہ سہولیات بھی فراہم کی جائیں جنکی انہیں ضرورت نہیں ہے(لیکن ظاہر ہے کبھی بھی مستقبل قریب میں پڑ سکتی ہے)!۔ پہلے پہل تو جب آپ کال سینٹر کا نمبر ملاتے تھے تو ایک جذبات سے عاری مشینی آواز آپ کو ہدایات دیتی تھی لیکن اب تو بھائی اس میں بھی حتی الامکان جذباتیت بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انسانوں کو مشینوں کے ذریعے ‘سیٹسفائی’ کرنے کا جو کام مغرب میں عام ہے، اب یہاں بھی فی الحال آواز کی شکل میں دستیاب ہے۔ نہیں یقین تو ذرا ٹیلی نار کی ہیلپ لائن 345 ڈائل کیجئے۔ پہلے آواز آیا کرتی تھی کہ یہ کرنے کیلئے وہ دبائیں، وہ کرنے کیلئے یہ دبائیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب خاصی جذباتی سی دوشیزگی بھری آواز میں یہ کہا جاتا ہے کہ: ’’ مجھ سے یہ کروانے کیلئے وہ دبائیں! ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے وہ کروانے کیلئے یہ دبائیں! ۔۔۔۔یا اور کوئی سہولت حاصل کرنے کیلئے بس کان میں بتا دیں!!!۔۔۔‘‘ اب یقیناً باقی سروسز کی طرف سے اس ‘‘خصوصی پیکج’’ کو کاٹنے کیلئے آنے والے اقدامات کا انتظار رہے گا اور امید بھی کچھ زیادہ کی ہے!!!۔ نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!۔0 تبصرہ (جات)۔ Thursday, December 31, 2009نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!
میرے آنسوؤں کے شکستہ نگینے میرے زخم در زخم بٹتے ہوئے دل کے یاقوت ریزے تری نذر کرنے کے قابل نہیں ہیں مگر میں (ادھورے سفر کا مسافر) اجڑتی ہوئی آنکھ کی سب شعائیں فِگار انگلیاں اپنی بے مائیگی اپنے ہونٹوں کے نیلے اُفق پہ سجائے دُعا کر رہا ہوں کہ تُو مسکرائے! جہاں تک بھی تیری جواں روشنی کا اُبلتا ہوا شوخ سیماب جائے وہاں تک کوئی دل چٹخنے نہ پائے کوئی آنکھ میلی نہ ہو، نہ کسی ہاتھ میں حرفِ خیرات کا کوئی کشکول ہو! کوئی چہرہ کٹے ضربِ افلاس سے نہ مسافر کوئی بے جہت جگنوؤں کا طلبگار ہو کوئی اہلِ قلم مدحِ طَبل و عَلم میں نہ اہلِ حَکم کا گنہگار ہو کوئی دریُوزہ گر کیوں پِھرے در بدر؟ صبحِ اول کے سورج! دُعا ہے کہ تری حرارت کا خَالق مرے گُنگ لفظوں مرے سرد جذبوں کی یخ بستگی کو کڑکتی ہوئی بجلیوں کا کوئی ذائقہ بخش دے! راہ گزاروں میں دم توڑتے ہوئے رہروؤں کو سفر کا نیا حوصلہ بخش دے! میری تاریک گلیوں کو جلتے چراغوں کا پھر سے کوئی سِلسلہ بخش دے، شہر والوں کو میری اَنا بخش دے دُخترِ دشت کو دُودھیا کُہر کی اک رِدا بخش دے! محسن نقویؔ کھٹا میٹھا2 تبصرہ (جات)۔ Thursday, October 15, 2009 بہت دن ہوئے کچھ پوسٹ نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ کچھ تصاویر ہیں پیارے پاکستان کے پیارے لوگوں کی۔ ۔ ۔یہ پہلی تصویر ہماری قوم کی ایک ترقی پسند " سوزوکی " کی پشت پہ لکھا ایک خوبصورت فلمی ڈائلاگ ہے۔ ۔ ![]() یہ تصویر (نیچے) پٹرول کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث، آمد و رفت کے ایک قدیمی ذریعہ کو پروموٹ کر رہی ہے اور اس میں خاص پات یہ بتائی گئی ہے کہ جو پیسہ آپ پٹرول سے بچائیں گے، اس کو آپ " مِس کالیں" مارنےجیسے ضروری کام میں استعمال کر سکتے ہیں!!۔ ![]() یہ تصویر پاکستان کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے ایک نہائت اہم قدم کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ عام آدمی کی سہولت کیلئے اب کمپیوٹر تول کر بھی خریدے جا سکتے ہیں تا کہ آپ کو پینٹئم 4 کی قیمت میں اصلی اور خالص پینٹئم 4 ہی ملے۔۔۔۔ یہ آفر یقیناً محدود مدت کیلئے ہو گی، اور یقین جانئے یہ بہت جائز قیمت ہے۔۔۔اتنے میں تو آجکل آٹا بھی نہیں مل رہا۔ ۔۔ ۔ میں تو 15،20 کلو خریدنے کا ارادہ کر رہا ہوں ۔۔ ۔ !۔ ![]() یہ تصویر پاکستان میں فیشن کے بڑھتے ہوئے اثرات اور عام آدمی میں جدید فیشن کی دوڑ میں شامل ہونے کی لگن کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور " ہیڈ ویئر" بنانے والی انڈسٹری کیلئے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ یا یہ محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے کہ بندہ اس مین الٹا گر گیا ہو!۔۔۔۔ ![]() اور یہ والی تصویر پاکستانی عوام کی طرف سے تمام " طاغوتی" طاقتوں، جو کہ میلی آنکھ اٹھا کر ہماری طرف دیکھنے کی غلطی نہیں بلکہ غلطیاں کرتے ہیں، ایک واضح تنبیہہ ہے۔ ۔ ۔ارے ظالمو! تم ایک ایسی قوم سے پنگا لے رہے ہو جو " ایٹم بم سری پائے" جیسے خطرناک اور توانائی بخش " نیوکلر وار ہیڈ" روزانہ ناشتے میں ڈکار جاتے ہیں۔۔ ۔ ۔ ۔!۔ ![]() معصومیت3 تبصرہ (جات)۔ Saturday, October 3, 2009آج کل اگر بچوں کو پرانی کہانیاں سنائی جائیں تو ان کو کسی بات کا یقین نہیں آتا۔ طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، یہ کیسے ہوا؟ وہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسے کیسے پتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ایک ہم تھے کہ مجال ہے جو یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ " پودنے " کے کان میں اتنے سارے جانور کیسے آ سکتے ہیں اور یہ " پودنا" ہوتا کیا ہے! میں نے اپنے بھتیجے سے یہ کہہ دیا کہ یہ جو کارٹون میں روبوٹ دکھائے جاتے ہیں ، یہ اصل میں ایسے نہیں ہو تے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ٹونٹی سیکنڈ سینچری کے روبوٹ ہیں، جب ہم وہاں جائیں گے تو ایسے ہی ہوں گے!! اس کی عمر محض ساڑھے پانچ سال ہے اور اسے یہ لفظ تو پتا ہے لیکن اس کا مطلب بالکل نہیں پتا۔ ۔ ۔۔ ہاں، جیسے اس نے یہ بات بتائی ہے اس سے اس کے اس بات پہ یقین میں کوئی شک ظاہر نہیں ہوتا۔ الف لیلیٰ میں الہٰ دین کے قالین کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ اس کی سپیڈ یعنی رفتار کتنی تھی!۔ ۔ ۔ ۔ کیا عمرو عیار کی زنبیل میں صوفہ سیٹ، چاچو کی گاڑی، فریج اور ہوائی جہاز آ سکتے تھے؟۔ ۔ ۔ ۔ یہ دیو کیا ہوتا ہے؟ کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیا اس نے الہٰ دین پہ میزائل سے حملہ کیا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو پانی کی بوتل بھی وہ پسند کرتے ہیں جس میں بٹن دبانے سے ڈھکن کھلتا ہے۔۔ ۔۔ ۔ !! The Terminal اردو سب ٹائیٹلز5 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, September 9, 2009میں کافی عرصے سے فلم دی ٹرمینل کے اردو سب ٹائیٹلز بنانے کا کام شروع کئے ہوئے تھا لیکن مناسب وقت نہ دینے کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہو رہا تھا۔ پورے ایک مہینے کے وقفے کے بعد میں دوبارہ کمر کس کے میدان میں اترا اور دو ہی دنوں میں بقیہ کام تمام کر لیا۔ اردو سب ٹائیٹلز لکھنے کا شوق مجھے عمار ابنِ ضیاٗ کے ٹیکن فلم کے ٹائیٹلز دیکھ کر پیدا ہوا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت مشکل ہو گا اور اس میں کوئی پیچیدہ تکنیکیات شامل ہوں گی یا کوئی خاص قسم کا سافٹویئر درکار ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جہاں تک انگریزی سب ٹائیٹلز کی فائل کے مطابق اردو ترجمہ کرنے کی بات ہے تو یہ کوئی بھی آرام سے کر سکتا ہے(بہت ہی زیادہ آرام آرام سے، میری طرح!!) ، بس ترجمہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مستقل مزاج افراد کیلئے خصوصی آسانی ہو گی۔
اس کام میں عمار بھائی نے میری بہت مدد کی ہے جس کیلئے میں نہایت مشکور ہوں۔ اب جبکہ یہ کام مکمل ہو گیا ہے گو کہ اس میں کچھ کمیاں اور کوتاہیاں باقی ہیں لیکن میں نے فی الحال ان کو خاطر میں نہیں لایا اور سب ٹائیٹلز کو اپلوڈ کر دیا ہے، میں نے اپنے گھر میں اور چند ایک دوستوں کو بتایا تو ایک ہی سوال میرا منتظر تھا "اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو ا؟"۔۔۔۔۔۔۔ یا " اس سے تمہیں کیا ملے گا؟"۔۔۔۔۔" اتنا وقت ضایع کیا، کچھ اور ہی کر لیتے!"۔۔۔۔۔۔ مجھے ان سوالوں کا جواب نہیں پتا۔۔۔۔ آپ بتائیے!۔۔۔ خیر یہ تو بس ویسے ہی میں نے بر سبیل التذکرہ لکھ دیا ہے۔۔۔ فلم کا تھوڑا سا تعارف میں نے اردو محفل میں لکھا ہے، وہی چھاپ دیتا ہوں: "یہ فلم ٹام ہینکس کی ہے جو کہ ایک مشہور اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں۔ فلم کے ہدایت کار سٹیون شپیلبرگ ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار (ٹام ہینکس) ایک ایسے وقت میں امریکی ہوائی اڈے پر اترتا ہے جب اس کا ملک ‘کراکوژیہ’ اندرونی بغاوت کا شکار ہوتا ہے اور اس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی باغی شبخون مار کر حکومت کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے ملک کا وجود اب نہیں رہا، لہذا اس کی شہریت اب مشکوک ہو چکی ہے اسلئے اب اسے نیویارک میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اور ملکی حالات کی وجہ سے اسے ڈی پورٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اسے عارضی طور پہ اسی ہوائی اڈے کے بین الاقوامی لاؤنج میں رکنا ہو گا تاوقتیکہ معاملہ اوکے نہ ہو جائے۔ ایک ایسا شخص جو انگریزی زبان سے نا آشنا ہے، لوگوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتا ہے۔"۔۔۔ مزید معلومات یہاں پہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ فلم کی ٹورنٹ فائل یہاں سے اتاری کی جا سکتی ہے اور اردو سب ٹائیٹلز یہاں سے۔ امید ہے یہ کوشش آپ سبکو پسند آئے گی۔ کثیر الشخصیاتی عارضہ0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, September 8, 2009کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے متعلق شاید آپ نے سنا ہو، کم از کم وہ خواتین و حضرات جو ہالی وڈ کی فلموں کا ذوق رکھتے ہیں وہ ضرور واقف ہوں گے کیونکہ کئی فلمیں اس موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ یہ والی اور یہ والی۔
یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اور جیسا کہ نام سے ہی حاضر ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ ایک شخصیت کی بجائے کئی شخصیات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شخصیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں اور انسان کسی ایک یا زیادہ شخصیات کے اثر میں رہتا ہے۔ ان مختلف شخصیات کو انسان کا ‘ آلٹر’ (Alter) یعنی ‘متبادل’ کہا جاتا ہے۔ اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، اگر دیکھا جائے تو ہم بحیثیت قوم اصل میں اسی عارضے کا شکار ہیں۔ ہماری شناخت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ کبھی ہم مسلمان ہوتے ہیں، کبھی پاکستانی، کبھی سندھی، پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوتے ہیں، کبھی شدت پسندی غالب آ جاتی ہے تو کبھی روشن خیالی، اور بعض اوقات ہم کچھ بھی نہیں ہوتے! کچھ دن پہلے میں نے ایک انگریزی ناول نگار سڈنی شیلڈن کا ایک ناول پڑھا جو کہ اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی ہیروئن بھی کثیرالشخصیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے اور کئی متصادم شخصیات کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ ان منفی شخصیات کے زیرِ اثر وہ کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام ‘متبادلوں’ کو آمنے سامنے لایا جائے اور ان کے درمیان مباحثہ ہو اور ان سب میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تا کہ کئی شدت پسند شخصیات کی بجائے ایک متوازن اور مکمل شخصیت کا ظہور ہو۔ یہی ہمارا بھی علاج ہے۔ گرینڈ کوئز0 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 15, 2009یار بھلا اتنا مشکل کوئز بھی کوئی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ؟ سر کو بھی پتا ہے کہ اس ایک ٹاپک کے لئے ایک دن تو کیا پوری زندگی کی تیاری بھی کم ہے!!
صحیح کہہ رہے ہو، چلو سارا نہ سہی، کوئی ایک دو سوال تو بتا ہی دینے چاہئیں۔ ۔ ۔ بندہ انہی کو رٹّ لے۔ دوستو! ۔ ۔ ۔۔ ۔ پہلے میں اپنا سانس درست کر لوں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ کیا سر نے کوئز کینسل کر دیا۔ ۔ ۔ ؟! ارے نہیں یار! ایک سینئر نے( گیس ) guess بتایا ہے کل کے کوئز کے بارے میں۔ جلدی بتا یار۔ ۔۔ ۔ چلو کچھ تو آسرا ہوا۔ ۔ ۔ میرے بھائی گیس ہے، کوئی پکی بات نہیں ہے۔ ۔۔ ! خیر اب اسی کا رٹّا لگا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ کچھ تو جواب دینے کے قابل ہو ہی جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا سوال: کیا آپ نے اپنے ربّ کے حکم کے مطابق، اس کی رضا و ثنا کے لئے نماز قائم کی؟ یہ۔ ۔ ۔ یہ سوال ۔ ۔ ۔یہ سوال تو مجھے پتا ہی نن۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ اس سوال کا تو مجھے پتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ شروع سے ہی پتا تھا۔ ۔ ۔ تمام مخلوق سے سینئر خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ نے (گیس ) نہیں بلکہ یقینی بتا دیا تھا کہ سوالنامے کا پہلا سوال یہی ہو گا ۔ ۔ ۔۔ ۔ کیا ساری زندگی میں یہ ایک معلوم سوال بھی تیار نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا5 تبصرہ (جات)۔ Saturday, July 4, 2009کل رات ہم سب دوست کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے اور چائے کا انتظار کر رہے تھے۔ بات تو کچھ اور ہی چل رہی تھی لیکن ہمارے ایک سینئر دوست عرف بھائی جان نے ایک قصّہ سنایا، آپ بھی سنئے:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز ، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا " یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔! بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔ ۔۔ ۔ کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔ اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پہ اور سلطنت پہ تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ " یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!! بَن کے بستر بوریا4 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 1, 2009بَن کے بستر بوریا
اسی تے چلے کوریا بجلی ایتھے رہندی نئیں پوری کِسے دی پیندی نئیں ہر کوئی ایتھے رو ریا اسی تے چلے کوریا ہر کوئی ایتھے ڈردا اے نالے پُکھا مَردا اے پینڈو ہووے یا لہوریا بن کے بستر بوریا اسی تے چلے کوریا تُسی وی بَنو بستر بوریا تے چلو ساڈے نال کوریا! مائیکل جیکسن کی یاد میں11 تبصرہ (جات)۔ Sunday, June 28, 2009مائیکل جیکسن کا ستارہ کئی دہائیاں شہرت کے آسمان پر جگمگانے کے بعد آخر کار غروب ہو گیا اور دنیا بھر میں وہ اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ لیکن میرے خیال میں مائیکل کیلئے سب سے زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ اسمبلی میں اُن کے "غم" میں ایک منٹ کی خاموشی کی گئی اور ان کی "شخصیت" کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا!!
ظاہر ہے ، مائیکل جیکسن صاحب نے پاکستانی عوام کیلئے اتنے سارے نغمات جو گائے تھے خصوصاً ان کے "بلی جینز" اور " ڈینجرس" نے ہماری عوام میں ایک نیا جزبہ اور روح پھونک دی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔! کیا ہماری صوبائی اسمبلی نے بجا طور پر ایک ایسی قوم کی نمائندگی کی ہے جس کے ۱۸ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں، جسے آئے دن اندرونی و بیرونی دشمنوں کا سامنا ہے، جہاں پانی و بجلی کا شدید بحران ہے اور جس کی فوج کے جوان دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے روز جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ اگر ان تمام پاکستانیوں کیلئے جو پچھلے ایک سال میں مختلف وجوہات کا شکار ہو کر جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں، ایک ایک منٹ کی خاموشی کی جاتی تو اسمبلی کا سیشن نہائت پُر امن طریقے سے چپ چاپ ختم ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔!! ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے مشہور پاکستانی غزل گائکہ اقبال بانو کا انتقال ہوا، ہماری "entertainment loving nation" کی نمائندہ اسمبلی نے ان کی یاد میں خاموشی اختیار کیوں نہ کی؟ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مائیکل جیکسن ایک بڑا گلوکار تھا اور پاپ موسیقی کی دنیا میں اس کا نام ایک بانی کی حیثیت سے لیا جاتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ کیا ہماری اسمبلی ہماری قوم کی ترجمانی کر رہی ہے؟ کیا پاکستان سے مائیکل جیکسن کا کوئی بھی قومی تعلق ہے سوائے اس کے کہ وہ امریکی تھا(اگر یہ تعلق کی وضاحت ہے تو!)۔ بے نظیر بھٹو شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے تین منٹ کی خاموشی قومی سطح پر اختیار کی گئی۔ محترمہ ایک قومی و سیاسی لیڈر تھیں، پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم تھیں اور سب سے بڑھ کر وہ ایک پاکستانی تھیں۔۔ ۔ ۔ کیا مائیکل جیکسن کو کسی بھی فریم میں فِٹ کیا جا سکتا ہے جس کے باعث اسے اس قومی " اعزاز" سے نوازا گیا۔ ۔ ۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے مجھ جیسوں کو یہ ہی سمجھ نہیں آتا کہ اعزاز کیوں دیا جاتا ہے اور کس کو دیا جاتا ہے۔ ۔۔ ۔!!!
Subscribe to:
Posts (Atom)
خوش آمدید
بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔
پیش لفظ: اس بلاگ کو بہترین حالت میں دیکھنے کیلئے اردو نستعلیق فونٹ اوپر دئے گئے ربط(لنک) سے ڈاؤنلوڈ فرمائیں۔ آپ نے ’قِصہ چہار درویش‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہو گا، ہو سکتا ہے پڑھا بھی ہو(میں نے صرف سنا ہی ہے!۔)۔ قصہ لکھنے والے اِس پانچویں درویش کو بھول گئے، لہٰذا اسے خود ’کِی بورڈ‘ سنبھالنا پڑا۔ بلاگ کے کنٹینٹ (Content)کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایک نوجوان کے دماغ میں جو کچھ بھی آ سکتا ہے وہ اس بلاگ پر چھَپ جائے گا۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ولسلام زمرہ جات / ٹیگز
مفید اُردو ویب صفحاتپسندیدہ بلاگز
Email کے ذریعے سبسکرائب کریںدوست احبابلائیو ٹریفک فیڈ
اس بلاگ کے جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں. Powered by Blogger.
|







