متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ

السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

معصومیت

3 تبصرہ (جات)۔ Saturday, October 3, 2009
آج کل اگر بچوں کو پرانی کہانیاں سنائی جائیں تو ان کو کسی بات کا یقین نہیں آتا۔ طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، یہ کیسے ہوا؟ وہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسے کیسے پتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ایک ہم تھے کہ مجال ہے جو یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ " پودنے " کے کان میں اتنے سارے جانور کیسے آ سکتے ہیں اور یہ " پودنا" ہوتا کیا ہے!
میں نے اپنے بھتیجے سے یہ کہہ دیا کہ یہ جو کارٹون میں روبوٹ دکھائے جاتے ہیں ، یہ اصل میں ایسے نہیں ہو تے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ٹونٹی سیکنڈ سینچری کے روبوٹ ہیں، جب ہم وہاں جائیں گے تو ایسے ہی ہوں گے!!
اس کی عمر محض ساڑھے پانچ سال ہے اور اسے یہ لفظ تو پتا ہے لیکن اس کا مطلب بالکل نہیں پتا۔ ۔ ۔۔ ہاں، جیسے اس نے یہ بات بتائی ہے اس سے اس کے اس بات پہ یقین میں کوئی شک ظاہر نہیں ہوتا۔
الف لیلیٰ میں الہٰ دین کے قالین کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ اس کی سپیڈ یعنی رفتار کتنی تھی!۔ ۔ ۔ ۔
کیا عمرو عیار کی زنبیل میں صوفہ سیٹ، چاچو کی گاڑی، فریج اور ہوائی جہاز آ سکتے تھے؟۔ ۔ ۔ ۔
یہ دیو کیا ہوتا ہے؟ کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیا اس نے الہٰ دین پہ میزائل سے حملہ کیا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔
وہ تو پانی کی بوتل بھی وہ پسند کرتے ہیں جس میں بٹن دبانے سے ڈھکن کھلتا ہے۔۔ ۔۔ ۔ !!


Read On

The Terminal اردو سب ٹائیٹلز

5 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, September 9, 2009
میں کافی عرصے سے فلم دی ٹرمینل کے اردو سب ٹائیٹلز بنانے کا کام شروع کئے ہوئے تھا لیکن مناسب وقت نہ دینے کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہو رہا تھا۔ پورے ایک مہینے کے وقفے کے بعد میں دوبارہ کمر کس کے میدان میں اترا اور دو ہی دنوں میں بقیہ کام تمام کر لیا۔ اردو سب ٹائیٹلز لکھنے کا شوق مجھے عمار ابنِ ضیاٗ کے ٹیکن فلم کے ٹائیٹلز دیکھ کر پیدا ہوا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت مشکل ہو گا اور اس میں کوئی پیچیدہ تکنیکیات شامل ہوں گی یا کوئی خاص قسم کا سافٹویئر درکار ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جہاں تک انگریزی سب ٹائیٹلز کی فائل کے مطابق اردو ترجمہ کرنے کی بات ہے تو یہ کوئی بھی آرام سے کر سکتا ہے(بہت ہی زیادہ آرام آرام سے، میری طرح!!) ، بس ترجمہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مستقل مزاج افراد کیلئے خصوصی آسانی ہو گی۔
اس کام میں عمار بھائی نے میری بہت مدد کی ہے جس کیلئے میں نہایت مشکور ہوں۔
اب جبکہ یہ کام مکمل ہو گیا ہے گو کہ اس میں کچھ کمیاں اور کوتاہیاں باقی ہیں لیکن میں نے فی الحال ان کو خاطر میں نہیں لایا اور سب ٹائیٹلز کو اپلوڈ کر دیا ہے، میں نے اپنے گھر میں اور چند ایک دوستوں کو بتایا تو ایک ہی سوال میرا منتظر تھا "اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو ا؟"۔۔۔۔۔۔۔ یا " اس سے تمہیں کیا ملے گا؟"۔۔۔۔۔" اتنا وقت ضایع کیا، کچھ اور ہی کر لیتے!"۔۔۔۔۔۔
مجھے ان سوالوں کا جواب نہیں پتا۔۔۔۔ آپ بتائیے!۔۔۔

خیر یہ تو بس ویسے ہی میں نے بر سبیل التذکرہ لکھ دیا ہے۔۔۔

فلم کا تھوڑا سا تعارف میں نے اردو محفل میں لکھا ہے، وہی چھاپ دیتا ہوں:
"یہ فلم ٹام ہینکس کی ہے جو کہ ایک مشہور اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں۔ فلم کے ہدایت کار سٹیون شپیلبرگ ہیں۔
فلم کا مرکزی کردار (ٹام ہینکس) ایک ایسے وقت میں امریکی ہوائی اڈے پر اترتا ہے جب اس کا ملک ‘کراکوژیہ’ اندرونی بغاوت کا شکار ہوتا ہے اور اس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی باغی شبخون مار کر حکومت کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے ملک کا وجود اب نہیں رہا، لہذا اس کی شہریت اب مشکوک ہو چکی ہے اسلئے اب اسے نیویارک میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اور ملکی حالات کی وجہ سے اسے ڈی پورٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اسے عارضی طور پہ اسی ہوائی اڈے کے بین الاقوامی لاؤنج میں رکنا ہو گا تاوقتیکہ معاملہ اوکے نہ ہو جائے۔ ایک ایسا شخص جو انگریزی زبان سے نا آشنا ہے، لوگوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتا ہے۔"۔۔۔

مزید معلومات یہاں پہ دیکھی جا سکتی ہیں۔

فلم کی ٹورنٹ فائل یہاں سے اتاری کی جا سکتی ہے اور اردو سب ٹائیٹلز یہاں سے۔

امید ہے یہ کوشش آپ سبکو پسند آئے گی۔

Read On

کثیر الشخصیاتی عارضہ

0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, September 8, 2009
کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے متعلق شاید آپ نے سنا ہو، کم از کم وہ خواتین و حضرات جو ہالی وڈ کی فلموں کا ذوق رکھتے ہیں وہ ضرور واقف ہوں گے کیونکہ کئی فلمیں اس موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ یہ والی اور یہ والی۔
یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اور جیسا کہ نام سے ہی حاضر ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ ایک شخصیت کی بجائے کئی شخصیات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شخصیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں اور انسان کسی ایک یا زیادہ شخصیات کے اثر میں رہتا ہے۔ ان مختلف شخصیات کو انسان کا ‘ آلٹر’ (Alter) یعنی ‘متبادل’ کہا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، اگر دیکھا جائے تو ہم بحیثیت قوم اصل میں اسی عارضے کا شکار ہیں۔ ہماری شناخت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ کبھی ہم مسلمان ہوتے ہیں، کبھی پاکستانی، کبھی سندھی، پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوتے ہیں، کبھی شدت پسندی غالب آ جاتی ہے تو کبھی روشن خیالی، اور بعض اوقات ہم کچھ بھی نہیں ہوتے!
کچھ دن پہلے میں نے ایک انگریزی ناول نگار سڈنی شیلڈن کا ایک ناول پڑھا جو کہ اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی ہیروئن بھی کثیرالشخصیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے اور کئی متصادم شخصیات کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ ان منفی شخصیات کے زیرِ اثر وہ کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام ‘متبادلوں’ کو آمنے سامنے لایا جائے اور ان کے درمیان مباحثہ ہو اور ان سب میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تا کہ کئی شدت پسند شخصیات کی بجائے ایک متوازن اور مکمل شخصیت کا ظہور ہو۔
یہی ہمارا بھی علاج ہے۔
Read On

گرینڈ کوئز

0 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 15, 2009
یار بھلا اتنا مشکل کوئز بھی کوئی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ؟ سر کو بھی پتا ہے کہ اس ایک ٹاپک کے لئے ایک دن تو کیا پوری زندگی کی تیاری بھی کم ہے!!
صحیح کہہ رہے ہو، چلو سارا نہ سہی، کوئی ایک دو سوال تو بتا ہی دینے چاہئیں۔ ۔ ۔ بندہ انہی کو رٹّ لے۔
دوستو! ۔ ۔ ۔۔ ۔ پہلے میں اپنا سانس درست کر لوں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔
کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ کیا سر نے کوئز کینسل کر دیا۔ ۔ ۔ ؟!
ارے نہیں یار! ایک سینئر نے( گیس ) guess بتایا ہے کل کے کوئز کے بارے میں۔
جلدی بتا یار۔ ۔۔ ۔ چلو کچھ تو آسرا ہوا۔ ۔ ۔
میرے بھائی گیس ہے، کوئی پکی بات نہیں ہے۔ ۔۔ !
خیر اب اسی کا رٹّا لگا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ کچھ تو جواب دینے کے قابل ہو ہی جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا سوال: کیا آپ نے اپنے ربّ کے حکم کے مطابق، اس کی رضا و ثنا کے لئے نماز قائم کی؟
یہ۔ ۔ ۔ یہ سوال ۔ ۔ ۔یہ سوال تو مجھے پتا ہی نن۔ ۔ ن۔ ۔ ۔
اس سوال کا تو مجھے پتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ شروع سے ہی پتا تھا۔ ۔ ۔ تمام مخلوق سے سینئر خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ نے (گیس ) نہیں بلکہ یقینی بتا دیا تھا کہ سوالنامے کا پہلا سوال یہی ہو گا ۔ ۔ ۔۔ ۔ کیا ساری زندگی میں یہ ایک معلوم سوال بھی تیار نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Read On

یہ وقت بھی گزر جائے گا

5 تبصرہ (جات)۔ Saturday, July 4, 2009
کل رات ہم سب دوست کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے اور چائے کا انتظار کر رہے تھے۔ بات تو کچھ اور ہی چل رہی تھی لیکن ہمارے ایک سینئر دوست عرف بھائی جان نے ایک قصّہ سنایا، آپ بھی سنئے:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز ، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔
قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا " یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔!
بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔ ۔۔ ۔ کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔ اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پہ اور سلطنت پہ تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ " یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!

Read On

بَن کے بستر بوریا

4 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, July 1, 2009
بَن کے بستر بوریا
اسی تے چلے کوریا
بجلی ایتھے رہندی نئیں
پوری کِسے دی پیندی نئیں
ہر کوئی ایتھے رو ریا
اسی تے چلے کوریا

ہر کوئی ایتھے ڈردا اے
نالے پُکھا مَردا اے
پینڈو ہووے یا لہوریا
بن کے بستر بوریا
اسی تے چلے کوریا

تُسی وی بَنو بستر بوریا
تے چلو ساڈے نال کوریا!

Read On

مائیکل جیکسن کی یاد میں

11 تبصرہ (جات)۔ Sunday, June 28, 2009
مائیکل جیکسن کا ستارہ کئی دہائیاں شہرت کے آسمان پر جگمگانے کے بعد آخر کار غروب ہو گیا اور دنیا بھر میں وہ اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ لیکن میرے خیال میں مائیکل کیلئے سب سے زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ اسمبلی میں اُن کے "غم" میں ایک منٹ کی خاموشی کی گئی اور ان کی "شخصیت" کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا!!
ظاہر ہے ، مائیکل جیکسن صاحب نے پاکستانی عوام کیلئے اتنے سارے نغمات جو گائے تھے خصوصاً ان کے "بلی جینز" اور " ڈینجرس" نے ہماری عوام میں ایک نیا جزبہ اور روح پھونک دی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
کیا ہماری صوبائی اسمبلی نے بجا طور پر ایک ایسی قوم کی نمائندگی کی ہے جس کے ۱۸ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں، جسے آئے دن اندرونی و بیرونی دشمنوں کا سامنا ہے، جہاں پانی و بجلی کا شدید بحران ہے اور جس کی فوج کے جوان دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے روز جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ اگر ان تمام پاکستانیوں کیلئے جو پچھلے ایک سال میں مختلف وجوہات کا شکار ہو کر جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں، ایک ایک منٹ کی خاموشی کی جاتی تو اسمبلی کا سیشن نہائت پُر امن طریقے سے چپ چاپ ختم ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔!!
ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے مشہور پاکستانی غزل گائکہ اقبال بانو کا انتقال ہوا، ہماری "entertainment loving nation" کی نمائندہ اسمبلی نے ان کی یاد میں خاموشی اختیار کیوں نہ کی؟
مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مائیکل جیکسن ایک بڑا گلوکار تھا اور پاپ موسیقی کی دنیا میں اس کا نام ایک بانی کی حیثیت سے لیا جاتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ کیا ہماری اسمبلی ہماری قوم کی ترجمانی کر رہی ہے؟ کیا پاکستان سے مائیکل جیکسن کا کوئی بھی قومی تعلق ہے سوائے اس کے کہ وہ امریکی تھا(اگر یہ تعلق کی وضاحت ہے تو!)۔ بے نظیر بھٹو شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے تین منٹ کی خاموشی قومی سطح پر اختیار کی گئی۔ محترمہ ایک قومی و سیاسی لیڈر تھیں، پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم تھیں اور سب سے بڑھ کر وہ ایک پاکستانی تھیں۔۔ ۔ ۔ کیا مائیکل جیکسن کو کسی بھی فریم میں فِٹ کیا جا سکتا ہے جس کے باعث اسے اس قومی " اعزاز" سے نوازا گیا۔ ۔ ۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے مجھ جیسوں کو یہ ہی سمجھ نہیں آتا کہ اعزاز کیوں دیا جاتا ہے اور کس کو دیا جاتا ہے۔ ۔۔ ۔!!!
Read On

حقّہ ٹھنڈا ہونے تک

4 تبصرہ (جات)۔ Friday, June 26, 2009
آجکل پاکستان میں ہر بات ایک ایشو(issue) بن جاتی ہے، اور اتنے ایشو بنتے ہیں کہ ایشو بننا بھی کوئی ایشو نہیں رہتا، یعنی کہ
مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
عوام کے لیے اب کوئی بڑے سے بڑا واقعہ بھی بس اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ حقّہ ٹھنڈا ہونے تک اس پہ بات ہو سکتی ہے یا نہیں!
اس بات کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب میں اپنے ہاسٹل سے تعطیلات میں واپس لالہ موسیٰ آتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ ہم وہاں جن خبروں کو انٹرنیٹ یا کیبل پہ دیکھ کر پریشان ہو رہے ہوتے ہیں ، یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ یہاں بس حقّہ ٹھنڈا ہونے تک ہی بات کی جا تی ہے۔۔ ۔ ۔ ۔
ویسے بھی آجکل یہاں کے لوگوں میں سیاسی "بالیدگی" اور ایوانوں کے داؤ پیچ کا شعور خود بخود ہی پیدا ہو گیا ہے، اور کیوں نہ ہو آخر وفاقی وزیر برائے " پتا نہیں کیا کیا" جناب کائرہ صاحب اور صوبائی وزیرِ خزانہ کا تعلق جو یہاں سے ہے اور پُر رونق ڈیرے خوب ڈورے ڈال رہے ہیں لوگوں کے ذہنوں پر!
معافی چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ماحول کا اثر ہے ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں: "بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں!"
چلیے بات بدلتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آجکل ہر بات کا تانا بانا سیاسی دھاگوں سے ہی بُنا جا رہا ہے۔ (گو کہ یہ زیادہ مضبوط نہیں ہوتے مگر پھر بھی!) اگر میں یہاں(لالہ موسیٰ میں) کوئی بھی بات حکومت کے خلاف کہہ دوں تو فوراً بھائیوں یا دوستوں میں سے کوئی نہ کوئی اس کی تردید ضرور کر دے گا اور مجھے سیاسی مصلحتوں اور حکومتی مجبوریوں پر لیکچر دے دے گا۔ "بھیا! یہ سیاست کی بوالعجیبیاں ہیں، تم نہیں سمجھو گے!"
خیر صاحب! ہم سمجھنا بھی نہیں چاہتے، ہم لنڈورے ہی بھلے!!۔

Read On

کچھ انجینئرنگ کے بارے میں

10 تبصرہ (جات)۔ Sunday, May 24, 2009
(مختصر مختصر سے منتقل شدہ)

“انجینئرنگ” دو الفاظ پہ مشتمل ایک اصطلاح ہے۔
‘انجن’ اور ‘رِنگ’ ؛ انجن کے بارے میں سب لوگ جانتے ہی ہوں گےکہ یہ ایک ایسی چلتی پھرتی شے ہے جو “چھُک چھُک ” کی رٹّی رٹّائی آواز نکالتا آگے یا پیچھےکی سمت میں رواں رہتا ہے۔
رِنگ ایک ایسی گول شے ہے جس کے سِرّے آپس میں ملے ہوتے ہیں۔ یوں اس لفظ کا مطلب نکلتا ہے کہ انجینئرنگ کسی انجن یا اس سے مشابہ (یعنی کسی بھی چلتی پھرتی!) چیز کا ایک گول دائرے (یعنی رِنگ) میں چکر لگائے جانا اور رٹّی رٹّائی آوازیں نکالے جانے کا نام ہے۔۔۔۔
مندرجہ بالا تفصیل سے انجینئرنگ کرنے والوں کے بارے میں بھی پتا چلتا ہے کہ انجینئرنگ کرنے والے بھی گویا ایک آواگونی چکر یعنی رِنگ میں مقیّد ہیں جو پہلا سیشنل ، دوسرا سیشنل اور ٹرمینل یعنی فائنل امتحان ( یونیورسٹی طلباء خصوصاً کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلباء ان اصطلاحات سے بخوبی واقف ہوں گے ) کے تین تکلیف دہ ادوار پر مشتمل ہے۔ (بہت سے تعلیمی اداروں میں دو ادوار پر مشتمل “چکر” بھی رائج ہے!) یہ مخلوق یعنی انجینئر بھی انجن کی طرح اپنی رِنگ نما پٹری پر کولہو کے بیل کی مانند، ان تین یا دو اسٹیشنوں کے درمیان گھومتے رہتے ہیں۔ غصّے سے دھواں دھواں ہونا اور احتجاجاً ایک ہی طرح کی آوازیں نکالنا بھی ان کا خاصہ ہے۔ ۔ ۔ ۔لیکن انجن کی طرح ان کے شور سے بھی کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا۔ اس انجن سے منسلک ریل (یعنی بستہ یا تھیلے) میں کئی کورس کی کتابیں سواریوں کی صورت اترتی چڑھتی رہتی ہیں۔ ۔ ۔ یوں جب یہ انجن کم و بیش ( جس میں بیشی کے امکانات زیادہ ہیں!) چار سال لگاتار رِنگ میں گھومتے رہنے کے بعد تھک یعنی “ریٹائر” ہو جاتا ہے تو اس کے آخر میں حرف “ر” کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جو اسکی جسمانی حالت سے زیادہ ذہنی حالت کو بیان کرتا ہے۔ ۔ یعنی کہ اب وہ انجن(ر) بن گیا ہے (جیسا کہ روایتاً تھک جانے والے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے!) ۔ ۔ ۔ اور اب اگر اس لفظ اور ‘اعزاز’ کو ملا کر پڑھیں گے تو عرفِ عام میں “انجینئر” کہلائے گا۔
Read On

اردو ہے جس کا نام

4 تبصرہ (جات)۔ Thursday, May 21, 2009
۔(مختصر مختصر سے منتقل شدہ)
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

لو جی! یہ کیا بات کر دی؟ اردو سیکھنا کوئی مشکل کام ہے۔ ۔ ۔ ہمارے پاکستان میں تو بچہ بچہ اردو بولتا ہے!۔ ۔ ۔ اور تواور میرا ڈیڑھ سال کابھتیجا بھی بہت شُستہ اردو بولتا ہے! بس ذرا ‘س’، ‘ش’ اور ‘ذ’،’ز’،’ج’،’ظ’ اور ‘ض’ میں تمیز نہیں کر سکتا ٹھیک سے۔ ۔ ۔!
خیر یہ تو ‘ ایکسٹرا پرافیشنسی’ کے زمرے میں آتا ہے۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی اردو سیکھنے سکھانے کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تو قصہ اس اجمال کا کچھ یوں ہے کہ جب ہمارے بڑے بھائی صاحب تقریباً سات سال پہلے وطن عزیز سے پردیس گئے تو وہاں سے واپسی پر ایک عدد ولندیزی خاتون کو ہماری بھابھی بنا کر پاکستان لائے [سچے اور پکے پاکستانی ہونے کی نشانی۔] اب پاکستانیوں کی غیر ملکی زبان سیکھنے کی “لرنِنگ کروّ”(سیکھنے کی صلاحیت کا گراف) کچھ زیادہ ہی ہے لہٰذہ ہوا یہ کہ وہ تو اردو میں بس “سلام لیکم” ، “کی حال اے؟” یا “ٹھیک او ” ہی سیکھ سکیں لیکن ہم کافی استفادہ کر گئے!
یوں بھی جناب اردو کی تو کیا ہی بات ہے، منہ اور حلق کا شائد ہی کوئی حصہ ہو گا جہاں حروفِ تہجی میں سے کسی کی رسائی نہ ہو۔ ! اور سونے پہ سہاگہ بچپن میں مسجد کے مولوی صاحب نے” چنگی طرح” سمجھا بجھا کر ش، ق درست کروائے تھے۔ اب بیچارے جرمن بولنےوالوں کا کیا قصور کہ ان کی زبان میں ۲۶ یا زیادہ سے زیادہ ۳۰ (کچھ واول حروف بھی ہیں ) حروف جتنی لچک ہے!!
جن میں سے کچھ تو ایک سی آوازیں نکال کے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ ۔ اب باقی بچنے والے بھی اردو کی ‘ر’، ‘ج’، ‘چ’، ‘ز’، ‘ذ’، اور تو اور ‘ی’ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔ ۔ ۔ ہاں ، لفظ” نہیں ” کا پنجابی ہم پلہ لفظ ” نئین” موجود ہے اور مطلب بھی نفی ہی ہے۔ ۔ ۔یوں کچھ ملے جلے رجحان کے ساتھ وہ “اِک، دو، تِن” کرنا تو سیکھ ہی جاتے ہیں۔ ۔
بقول غیر اردو یافتہ افراد کے سب سے بڑی مشکل اردو عربی یا فارسی سیکھنے کی یہ ہے کہ ان کے حروف مفرد حالت میں اور ہوتے ہیں جبکہ الفاظ میں ان کا رنگ تو خیر نہیں ‘انگ’ اور ڈھنگ ضرور بدل جاتا ہے! اب ‘ج’ کو ہی لیجیے، تنہائی میں تو پیٹ نکال لیتی ہے، جیسے ہی کوئی دوسرا حرف دیکھتی ہے ایسے سمٹ جاتی کہ محض نقطہ ہی رہ جاتا ہے اور ‘ر’ تو مزید “گِر” جاتی ہے!
اسی طرح باقی حروف بھی عجیب و غریب ہیئت ِظاہری و باطنی رکھتے ہیں۔ اب ہماری بھابھی صاحبہ کو اردو سیکھنے کا شوق پھر سے پیدا ہو گیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے کوئی رومن اردو میں اردو سیکھنے کی کتاب ہونی چاہئے، تا کہ وہ الفاظ کو پڑھ سکیں ناکہ ان کی اشکال میں ہی گم ہو جائیں۔ اب انہیں میں یہ کیسے بتاؤں کہ میں نے تو آج تک کوئی “اردو سیکھیں” نامی کتاب عربی رسم الخط میں نہیں دیکھی تو رومن میں کہاں سے لاؤں! یہاں”انگریزی سیکھیں، صرف ایک ہفتے میں”، “انگلش ٹیوٹر”، “انگلش گرو” ،”انگریزی بولیں ،امریکیوں کی طرح” وغیرہ، تو ہر شہر کے ‘اردو بازار’ میں با آسانی ملتی ہیں لیکن اردو کی خرید و فروخت کا بہرحال کوئی رجحان نہیں پایا جاتا۔ ۔ ۔ ۔!!

خصوصی نوٹ: اس مضمون میں اگر کوئی اردو املاء کی غلطی پائی جائے تو اسے کلیدی تختے کے لے آؤٹ کی غلطی سمجھا جائے۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس “رومن اردو” سیکھنے کا کوئی نسخہ موجود ہو تو ضرور بتائے، اردو سیکھنا سکھانا ایک کارِخیر ہے خواہ رومی ہو کہ رازی!

Read On