متوجہ ہوں؛ تبدیلئ پتہ

السلام علیکم
مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا بلاگ یہاں سے شفٹ ہو گیا ہے اور اب آپ اس پتے پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط ۔ ۲)۔

2 تبصرہ (جات)۔ Thursday, May 21, 2009
۔(مختصر مختصر سے منتقل شدہ) اس تحریر پہ کیے گئے تبصرے پڑھنے کیلئے ذیل کے ربط پہ جائیں۔

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط ۔ ۲)۔

(گزشتہ سے پیوستہ)

ہمارا میزبان ایک نوجوان شخص تھا، انگریزی طرز کے جدید تراش خراش کے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ داڑھی مونچھ سے بے نیاز چہرہ بہرحال دیسی تھا۔ علیک سلیک ہوئی، خاصی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا ۔
” ویلکم مرزا صاحب! سفر کیسا رہا آپکا؟ کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی؟ آپکو زیادہ ویٹ تو نہیں کرنا پڑا۔”
ہم خاموش رہے کہ بات کی سمجھ نہیں آئی ٹھیک سے۔
“ایکچوئلی آجکل سیکیورٹی کی وجہ سے زیادہ چیکنگ ہو رہی ہے۔” وہ بولتے رہے۔
“ہائیں! کس کی وجہ سے کون ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ !”
“لگتا ہے میں ایکسائٹمنٹ میں زیادہ بول رہا ہوں۔”
” نہیں میاں! بول تو زیادہ نہیں رہے، پر بول کیا رہے ہو یہ سمجھ نہیں آرہا ہمیں!”
“اوہ! آئی ایم سوری۔ ۔ ۔لیکن کیوں؟”
“میاں ! ذرا صاف اور صرف اردو بولو تا کہ مجھ غریب کے بھی کچھ پلّے پڑے۔ہم زبانِ غیر سے قطعی ناا ٓشنا ہیں۔”
” میں معذرت خواہ ہوں مرزا صاحب! دراصل یہاں ایسے بولنا اردو ہی کہلاتا ہے۔ لیکن میں آیندہ خیا ل رکھوں گا کہ انگریزی الفاظ نہ استعمال کروں۔”
خیر صاحبو! آگے بڑھتے ہیں کہ ابھی تو آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ اپنے رہنما کے ساتھ ہم ایک لمبی سی موٹر میں بیٹھ کر قیام گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ باہر کی دنیا بھی اردو زبان کی طرح رنگ برنگی نظر آئی۔ نہ کوئی دیسی نظر آ رہا تھا نہ ہی ولایتی، بس سب کچھ ‘آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘ لگ رہا تھا!
ہمارے راہنما کا نام تو تھا سردار محمد جبران نواز خان لیکن بقول اسکے سب اسے پیار سے “جِبز” کہتے ہیں!”میاں ! ہم تمہیں جِبز تو نہیں خیر صرف جبران کہہ لیتے ہیں۔” جبران میاں نے بتایا کہ ہمارے رہنے کا انتظام و انصرام ایک تعلیمی ادارے کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ادارے کا نام انگریزی میں تھا جو کہ ضعفِ پیری کے باعث ہم بھول گئے ہیں، ہاں! ایک اصطلاح ہمیں یاد ہے جو اس ادارے کے نام میں تھی ” انفارمیشن ٹیکنالوجی” اور اس اصطلاح کا اردو مترادف جبران میاں کو معلوم نہ تھا بلکہ شاید تھا ہی نہیں! خیر اس نے ہمیں اتنا بتا دیا کہ یہ آجکل کی خاصی اہم اصطلاح ہے اور یہ معلوماتِ عامہ کے جدید نظام کی عام لوگوں تک رسائی اور اس کے عام زندگی میں عمل دخل کے متعلق جو تکنیکی عوامل کار فرما ہیں، ان کے بارے میں یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ تشریح ہم نے خود اپنے آپ کو سمجھانے کے واسطے وضع کی ہے وگرنہ جبران میاں کی وضاحت تو خاصی غیرواضح تھی!
موٹر ایک بلند و بالا عمارت کے سامنے جا رکی جس کی پیشانی پہ لکھا تھا ” ہوٹل موتی محل”، عمارت کے اندر داخل ہوئے تو واقعی کسی محل کا گمان ہونے لگا۔ ماحول خاصا امیرانہ اور خوابناک سا تھا۔ استقبالیہ، جسے اردو میں ‘ ریسپشن’ لکھا جاتا ہے، پر ایک خاتون نے بڑے رکھ رکھاؤ سے ‘پاکستانی اردو ‘ میں بات کی ۔ پہلے سےہماری لئے محفوظ شدہ کمرے کی چابی میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے خاتون خوشدلی سے مسکرائیں اور گویا ہوئیں ” ویلکم ٹو موتی محل”۔ ۔ ۔ اتنی اردو ہم اب تک تو جان ہی گئے تھے۔
کمرے کی طرف جاتے ہوئے ہم نے جبران میاں سے پوچھا کہ بھائی! یہ جگہ جگہ ” رُوم” کیوں لکھا نظر آ رہا ہے؟ کیا ملکِ روم سے کوئی نسبت ہے یا کچھ اور۔ ۔ ۔ ویٹنگ روم، باتھ روم، اور تو اور یہ نماز رُوم۔ ۔ ۔کیا معنی!
بولے مرزا صاحب روم مطلب کمرہ ، انگریزی میں کمرے کو کہتے ہیں، ہم نے کہا میاں! انگریزی میں توہر تختی پہ ساتھ لکھا ہوتا ہے پھر یہ اردو ترجمے میں بھی دُم چھلہ ساتھ لگانے کی کیا تُک ہے! ظاہر ہے اس کا جواب اُس بیچارے کے پاس نہیں تھا۔ اور ہوتا بھی کیسے، پاکستان میں اپنے قیام کے دوران جس چیز کا ہمیں سب سے زیادہ رنج رہا وہ یہی تھی کہ جہاں جاؤ آپ کو فرنگی زبان میں سلام دعا، خیر سگالی کے جملے سننے کو ملیں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ زبانیں سیکھنا غلط ہے یا کوئی زبان کسی دوسری سے اچھی یا بُری ہے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ اپنی زبان اپنے ملک میں نہ بولی اور لکھی جائے گی تو اور کہاں ہو گی!
یوں تو آپ جس بھی گلی محلے یا سڑک سے گزریں آپ کو اردو میں جگہ جگہ لکھا نظر آئے گا:
“یہاں پیشاب کرنا منع ہے”
کوڑے کو آگ لگانا جُرم ہے”
“بیمثال شادی کورس” ۔۔۔” جرمن طبی دواخانہ”
” عامل ناگی کالیا بنگالی بابا”۔ ۔ ۔ اور نجانے کیا کیا!!
سنیاسی بابوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بابوں کے بھی اشتہارات دیواروں کی زینت بنے ہوتے ہیں لیکن جہاں کوئی کام کی بات لکھی ہو گی تو زبانِ غیر سے استفادہ کیا گیا ہوگا۔ ۔ ۔!۔


Read On

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان

1 تبصرہ (جات)۔
اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ پر موجود میرے بلاگ 'مختصر مختصر' سے ایک مزاحیہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ اس تحریر پر کیے گئے تبصرے آپ اس ربط پہ پڑھ سکتے ہیں:۔

عدم آباد کے مہمان- - غالب اِن پاکستان (قسط۔ ۔ ۱):۔

ملکِ عدم سے آنے والے جہاز میں سفر کرنا ہمارے لئے زندگی کے بعد کا سب سے اچھا سفر رہا۔ اپنی زندگی میں تو ہم نے بحری جہاز کے پانی پر تیرنے کے بارے میں سوچا تھا تو غش کھا گئے تھے کجا کہ اس دیوہیکل ہوائی جہاز میں اڑنا! خیر جیسے تیسے کر کے ٘منزل تک جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک بھلی سی خوش پوش خاتون نے ہمیں ایک سو پینتالیس نمبر کی نشست پہ بٹھا دیا۔ نشست کیا تھی میاں، ہمیں تو دہلیٔ مرحوم کا تخت یاد آ گیا۔ پھر وہی خاتون ہمارے لئے رنگ رنگ کے مشروب اور اشیائے خورد لے آئیں (لگتا تھا کہ جہاز ان کے مجازی خدا کا ہے جو اتنی خاطر مدارات کر رہی ہیں!)، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اس جہاز کی خادمہ ہیں جنہیں ‘فضائی میزبان’ کہا جاتا ہے۔ نشست کو دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ جب رعایا کے لئے ایسی نشست ہے تو باشاہ کا کیا عالم ہو گا۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے ضمیر سے بآوازِ بلند ایک ‘ زنانہ’ آواز آئی “پی آئیے! میں خوش آمدید”
ہائیں! یہ ہمارے ضمیر کی آواز اور صرف و نحو دونوں خراب ہو گئیں!! پی آئیے ۔ ۔ میں۔ ۔ خوش آمدید۔ ۔ ارے میاں! الفاظ تو اردوئے معلیٰ کے ہی ہیں مگر متن کچھ واضع نہیں ہو رہا۔ ۔ ۔
ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھے صاحب نے ہماری حیران و پریشان صورت دیکھی اور کچھ پہچاننے والے انداز میں بولے “ارے! آپ توو وہ ڈرامے والے مرزا غالب کی طرح لگ رہے ہیں!”
“میاں! لگ رہے ہیں کیا مطلب؟ ہم مرزا اسد اللہ خاں غالب ہی ہیں۔” اب کے حیران ہونے کی باری ان کی تھی۔ پھر جب ہم نے سفر کے دوران انہیں تفصیلاً بتایا کہ ہم عدم آباد سے خصوصی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان جا رہے ہیں تو وہ ہمیں سمجھاتے ہوئے بولے کہ یہ آواز لاؤڈ اسپیکر یعنی ‘ آلۂ مکبر الصوت’ سے آرہی ہے اور ہوائی میزبان کی ہے۔ہم نے ااس جملے کا مطلب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ پی آئیے نہیں پلکہ ‘پی۔آئی۔اے’ ہے، انگریزی زبان میں پاکستانی ہوئی کمپنی کا نام۔
خیر صاحبو! ہوئی کمپنی بہادر کا نام ‘پی۔آئی۔اے’ نہیں بلکہ ‘کھا پی کے آئیے’ ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں کا کھانا تو ہمارے حلق سے نیچے نہیں اترا، نہ دہلی کے کلچے، نہ لاہوری چرغہ، اور نہ ہی بمبئی بریانی، کچھ بھی نہ ملا!
ہوائی جہاز میں ہم نے صدیوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر لیا جبکہ ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کا چند قدم کا فاصلہ ہم نے کوئی آدھے پہر میں طے کیا ہو گا۔ ہمارا ٹرنک، پان دان حتیٰ کہ اگالدان تک کھنگال کے رکھ دیا ان نیلی وردی والے سپاہیؤں نے! ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہوائی اڈے پر ہمارے استقبال کے لئے کوئی نہ کوئی نمائندہ موجود ہو گا۔ باہر نکلے تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے سارا پاکستان ہی آج واپس آ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اتنا رش کہ الامان الحفیظ! نطر دوڑائی تو ایک شخص ہمارے نام کی تختی اٹھائے کھڑا نظر آیا۔ جلّی حروف اور خالص نستعلیق خط میں اپنا نام لکھا دیکھ کر سفر کی تکان دور ہو گئی۔

نوٹ: اگر یہ تحریر آپ کو پسند آئی ہے تو تبصرہ ضرور کریں تا کہ میں اس مضمون کو آگے بڑھا سکوں۔ اور اگر پسند نہیں آئی تو بھی تبصرہ ضرور کریں ورنہ میں مزید لکھنے سے ہرگز باز نہ آؤں گا!


Read On

ہر جگہ میرے چمکنے سے!۔

1 تبصرہ (جات)۔
پچھلے مہینے علامہ اقبالؒ کی برسی پر بہت سوچ بچار کے باوجود بھی میرے ذہن میں لکھنے کے لیے کچھ نہ آیا۔
آجکل نجی چینلوں پہ ایک کمرشل بہت چل رہی ہے جو اقبال کی مشہورِزمانہ نظم “بچے کی دعا” کے ایک مصرعے سے شروع ہوتی ہے۔ مزارِاقبال کے احاطے میں سفید اجلے لباس میں سکول کے بچے بلند آواز میں پڑھتے ہیں۔ ۔ ۔ ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے۔ ۔۔ ۔
کچھ دن تک یہ اشتہارایسے ہی چلتا رہا یعنی صرف اس مصرعے تک۔ ۔ ہم سوچتے رہے کہ شاید کوئی نیا پروگرام ہے یا کلامِ اقبال پر کوئی نئی ویڈیو بنائی گئی ہے یا شایداقبال شناسی کا نیا دور شروع ہوا چاہتا ہے عوام میں۔ ۔ لیکن یہ عقدہ تو بعد میں کھلا جب مکمل اشتہار دیکھا۔
یہ اشتہار ہے ” گائے سوپ” کا، جن کا پیغام ہے:
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
گائے سوپ اجلا بنائے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔!
ایک وہ زمانہ تھا (جنہیں میرا دوست “سچّا زمانہ” کہہ کر ‘ یاد ‘ کرتا ہے، حالانکہ عمر میں مجھ سے بھی چھوٹا ہے!) جب قوم کے قلب و نظر کی پاکیزگی کی لیے کلامِ اقبال کا سہارا لیا جاتاتھا، اور اب قوم کی ” چڈّی و بنیان” کی صفائی کے لیے۔ ۔ ۔!!
بڑھتی ہوئی اشتہاربازی(یا کمرشلائیزیشن) سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ کل کو کوئی نازنین اپنے لمبے گھنے بال سنوارتے ہوئے کسی شیمپو کے اشتہار میں کہے گی: “گیسوئے تابدار کو اور تابدار کر”۔ ۔ ۔ ۔۔!۔

نوٹ: یہ تحریراردو ٹیک پر میرے بلاگ 'مختصر مختصر' سے یہاں منتقل کی گئی ہے، اس پر کیے گئے تبصرے پڑھنے کے لیے آپ اس ربط پہ کلک کریں۔ تکلیف کے لیے بہت معزرت!۔
Read On

پانچ چیزیں

0 تبصرہ (جات)۔ Thursday, April 30, 2009
پانچ چیزیں

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ "اے مہاجروں کی جماعت!پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلاء ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی۔) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں ) تم تک پہنچیں۔
۱۔ جب بھی کسی قوم میں بے حیائی(بد کاری وغیرہ) اعلانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔
۲۔ جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ، ان کو قحط سالی ، روزگار میں تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔
۳۔ جب وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا بند کر دیتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔
۴۔ جب وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلّط کر دیے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
۵۔ جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے حکم و قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتےتو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔"

اس روایت میں آپ ﷺ نے جن پانچ برائیوں کا ذکر کیا ہے، وہ کسی نہ کسی شکل میں آجکل کے معاشرے میں موجود ہیں۔ کچھ تو اپنے پورے جوبن کے ساتھ رچ بس گئی ہیں اور اس روایت کی رو سے جو نتائج بتائے گئے ہیں ،ان کی نشاندہی کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ مصائب و تکالیف کے ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ روحانی اور باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں۔اگر عقائد و اخلاق کی ان خرابیوں سے پرہیز کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ظاہری اسباب کو تبدیل فرما دیتا ہے۔
Read On

طارق عزیز کی پنجابی شاعری -- انتخاب ۲

3 تبصرہ (جات)۔ Saturday, March 28, 2009
بچوں کیلئے ایک نظم

اپنے دِل وِچ بہت محبت
کڑیاں لئی نہ بھریئے
ہور وی کَم نے دُنیا اُتّے
اِکّو ای کَم نہ کریئے


اِک نظم فرزانہ لَئی

چھوٹیاں چھوٹیاں گلّاں اتّے
اَینویں نہ تو لَڑیا کر
ایڈیاں سوہنیاں اَکھاں دے وِچ
ہنجو نہ تو بھریا کر
جیہڑے کَم نئیں تیرے چَندا
تُو اوہ کَم نہ کریا کر


ھمزاد دا دُکھ -- طارق عزیز( )


Read On

فن نعت گوئی

0 تبصرہ (جات)۔ Tuesday, March 10, 2009
فن نعت گوئی: عید میلاد النبی کے موقع پر خصوصی مضمون

March 9, 2009
اردو وائس آف امریکہ

نعت گوئی فن شاعری کے زیور کا نگینہ ہے۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے بباطن اسی قدر مشکل ہے۔ ایک طرف وہ ذات گرامی ہے جس کی مد ح خود رب العالمین نے کی ہے، دوسری طرف زبان اور شاعری کے جمالیاتی تقاضے ہیں۔اس لیے نعت کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جو جذبہٴ عشق رسول سے سرشار ہو اور یہ وصف وہبی ہے۔ بس جسے اللہ توفیق دے وہی نعت کہہ سکتا ہے ایک طرح سے یہی کہا جائے گا۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

سہ حرفی لفظ نعت ( ن ع ت ) عربی زبان کا مصدر ہے اس کے لغوی معنی کسی شخص میں قابل تعریف صفات کا پایا جانا ہے۔ یوں تو عربی زبان میں متعدد مصادر تعریف و توصیف کے لیے استعمال ہو تے ہیں۔ مثلاً حمد، اللہ جل شانہ کی تعریف کے لیے مخصوص ہے اور نعت حضور سرور کائنات صلعم کی تعریف و توصیف کے لیے مستعمل ہو کر مخصوص ہوئی۔

اسی طرح اردو شاعری میں نظم کی اصناف سخن میں نعت وہ صنف سخن ہے جس کے اشعار میں رسول مقبو ل صلعم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ اردو میں شاید ہی ایسی کو ئی صنف سخن ہو جس میں نعتیں نہ کہی گئی ہوں۔ اس کے لیے اس کے اسالیب طے شدہ نہیں ہیں۔ اس طرح سے اس کا دائرہ بھی بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ مگر سب سے اہم تقاضا عشق رسول سے سرشاری کا ہے۔ شاہ معین الدین ندوی اپنی کتاب ”ادبی نقوش “ میں رقم طراز ہیں:

”نعت کہنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔محض شاعری کی زبان میں ذات پاک نبی صلعم کی عامیانہ توصیف کر دینا بہت آسان ہے، لیکن اس کے پورے لوازم و شرائط سے عہدہ بر آ ہونا بہت مشکل ہے ․․․ حب رسول صلعم کے ساتھ نبوت کے اصلی کمالات اور کارناموں، اسلام کی صحیح روح، عہد رسالت کے واقعات اور آیات و احادیث سے واقفیت ضروری ہے جو کم شعراء کو ہوتی ہے۔ اس کے بغیر صحیح نعت گوئی ممکن نہیں۔ نعت کا رشتہ بہت نازک ہے۔ اس میں ادنیٰ سی لغزش سے نیکی برباد گناہ لازم آجاتا ہے۔ اس پل صراط کو عبور کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ بارگاہ اقدس ہے جہاں بڑے بڑے قدسیوں کے پاؤں لرز جاتے ہیں۔ (ادبی نقوش صفحہ 284)۔ ۔ ۔ ۔ ۔

باقی مضمون وائس آف امریکہ کی اردو سائٹ پر ملاحظہ کیجیئے۔
Read On

علامہ محمد اقبالؒ کی ایک فارسی نظم کا ترجمہ (محاورہ ما بین خدا و انساں)

2 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, March 4, 2009
محاورہ ما بین از خدا و انساں

(خدا)

جہاں را ز یک آب و گِل آفریدم
تُو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تُو شمشیر و تِیر و تفنگ آفریدی
تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را

(انسان)

تُو شب آفریدی ،چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
( ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)

اردو ترجمہ:
(خدا انسان سے گلہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے انسان!) میں نے تو (ساری ) دنیا کو ایک ہی طرح کے پانی اور مٹی سے پیدا کیا تھا(مگر) تو نے اِسے ایران، تاتار اور حبشہ میں تقسیم کر دیا۔ میں نے زمین سے خالص فولاد پیدا کیا تھا (مگر) تو نے اس سے تلوار، تِیر اور بندوق (جیسے مہلک ہتھیار) بنا لئے۔ تُو نے باغ کے پودوں کو کاٹنے کے لئے کلہاڑا بنایا اور گیت گانے والے پرندوں کے لئے پنجرہ بنا لیا۔
(اللہ تعالیٰ کی بات کے جواب میں انسان خدا سے کہتا ہے کہ اے خدا!)تُو نے رات بنائی تو میں نے (اُس رات کو روشن کرنے کے لئے) چراغ بنا لیا، تُو نے مٹی پیدا کی میں نے اس مٹی سے پیالہ بنا لیا۔ تُو نے بیاباں، پہاڑ اور جنگل پیدا کیے تو میں نے پھولوں کی کیاریاں، چمن اور باغ بنائے۔ میں وہ ہوں جو پتھر سے آئینہ بناتا ہے، میں وہ ہوں جو زہر سے دوائے شفا بناتا ہے۔

Read On

طارق عزیز کی پنجابی شاعری۔ ۔ انتخاب

4 تبصرہ (جات)۔ Wednesday, February 18, 2009
طارق عزیز کی پنجابی شاعری سے انتخاب:

ربِّ کریم

ایسے اسم سکھا دے سانوں
ہرے بھرے ہو جائیے
گہرے علم عطا کر سانوں
بہت کھرے ہو جائیے


رَبِّ اَرِنی

اَج دی رات میں کلّا وَاں
کوئی نئیں میرے کول
اَج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول


سچّا شرک

دُور پرے اَسمان تے
رَب سچّے دا ناں
ہیٹھاں ایس جہان وِچ
بس اِک ماں اِی ماں


بلوچا وے۔ ۔ ۔

جے کوئی میرے جیہا ملے تاں
اوس نال پیار ودھاویں ناں
اوس دے درد ونڈھاویں ناں
اوس نوں اِنج تڑفاویں ناں
اوّل میرے جیہے کسے نال
پیار دی پینگ ودھاندے نئیں
جے تقدیریں اکھ لڑ جاوے
فیر او اکھ چروندے نئیں
ساری حیاتی اوس بندے نوں
اپنے دلوں بھلاؤندے نئی


( جاری ہے)

Read On

میں ضرور آؤں گا ــ فلسطین کے نام

4 تبصرہ (جات)۔ Sunday, January 25, 2009
ایک دن
ان لہو میں نہائے ہوئےبازوؤں پہ
نئے بال و پر آئیں گے
وقت کے ساتھ سب گھاؤ بھر جائیں گے
ان فضاؤں میں پھر اس پرندے کے نغمے بکھر جائیں گے
جو گرفتِ خزاں سے پرے رہ گیا
اور جاتے ہوئے سرخ پھولوں سے یہ کہ گیا
مجھ کو ٹوٹے ہوئے ان پروں کی قسم
اس چمن کی بہاریں میں لوٹاؤں گا
بادلوں کی فصیلیں چراتا ہو
امیں ضرور آؤں گا
میں ضرور آؤں گا۔ ۔ ۔
Read On

ایک تصویر، ایک سوچ

Tuesday, January 13, 2009

گورنمنٹ کالج لاہور ( جی سی یو) کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کی راہداری میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے جس چیز پر نظر پڑتی ہے وہ سال خوردہ دیواروں پر لگی فریم شدہ تصاویر ہیں جن میں سے ایک طرف تو ڈیپارٹمنٹ کے قیام (جس کا سنہ مجھے یاد نہیں !) سے اب تک کے تمام گریجویٹس کی گروپ فوٹوز ہیں جن میں سے اکثر اب فیکلٹی میں نظر آتے ہیں(لیکن ذرا بدلے حلیے کے ساتھ!) اور دوسری جانب کسی خاص شخصیت کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر لگی ہیں۔ بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپے کی کئی تصاویر دیوار کی زینت ہیں۔
لیکن ایک تصویر جو ہر ناظر کو کچھ دیر کیلئے اپنی جانب ضرور متوجہ کرتی ہے وہ ایک گروپ فوٹو ہے جس میں ایک ہی طرح کا انگریزی لباس پہنے چھ، سات شخصیات کھڑی ہیں اور ان غیر ملکی شخصیات کے درمیان سیاہ شیروانی، سفید لٹھے کی شلوار، پاؤں میں تلّے والا کھسہ اور سر پہ خالصتاً پنجابی طرز کی 'اچّے شملے' والی پگ سجائے ایک مسکراتا چہرہ نظر آتا ہے۔ تصویر کے نیچے دی گئی تفصیل سے پتا چلتا ہے کہ یہ اور کوئی نہیں پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام ہیں جو ۱۹۷۹ ءکےنوبل انعام یافتہ حضرات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گورنمنٹ کالج کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کی اور کوئی بات میرے ذہن میں اس طرح محفوظ نہیں جیسے 'سلام گیلری' میں لگی
وہ تصویر!
ہر بار راہداری سےگزرتے ہوئے اس تصویر پر میری نظر ٹھہر جایا کرتی تھی اور عجیب سا فخر اور گداز محسوس ہوتا تھا اس 'اُچّے شملے' کو دیکھ کر۔ اُس وقت میں وہاں سے ایف ایس سی کر رہا تھا اور شاید اس سے پہلے میں نے کبھی عبدالسلام کا نام بھی نہ سنا تھا۔
وہیں معلوم ہوا کہ پروفیسر عبدالسلام نے اپنی لیبارٹری کا قیام اور تمام تحقیقی کام بیرونِ ملک کیا تھا۔ اس وقت ذہن میں آتا تھا کہ اچھے پاکستانی تھے یہاں سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی بجائے اٹلی میں بسیرا کر لیا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی باتیں واضح ہوئیں، کچھ سنی سنائی کچھ پڑھی پڑھائی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور اس وقت کی حکومت سےاختلافات اور کچھ دوسری وجوہات کی بنا پروہ بیرونِ ملک قیام پذیر رہے۔اُن کے جانے کے بعد کسی نے اُنہیں یاد نہ رکھا۔۔۔
جب اُنہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیاتو ہندوستان سمیت کئی ممالک سے اُنہیں اعزازی شہریت دینے کی پیشکش کی گئی لیکن اُنہوں نے پہلے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ہونے کے اعزاز کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود بھی پاکستانی حکومت کی جانب سے اُنہیں وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ عوام کی جانب سے بھی ملے جلے جذبات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جن کو میں فی الحال دانستہ اِسکپ کر رہا ہوں۔
یہ سب کچھ لکھنے کی اصل وجہ عبدالسلام نہیں ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ وہ سوچ ہے جو ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی تصویر دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں پیدا ہوئی کہ قومی ہیروز کو ان کا اصل مقام نہ دینے کی وجہ مذہب یا عقائد نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی معمّہ ہے۔ کیا پنجاب کی محبت، سر
حد کی جرأت، بلوچستان کی غیرت اور سندھ کی اُلفت سب مل کر بھی پاکستانی قوم میں وفا پیدا نہیں کر سکے؟ کیا ایسا ہی ہے؟؟
Read On